صدر مملکت کو سیاسی سرگرمیاں ترک کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے متفرق درخواست دائر

18 نومبر 2012

لاہور (وقائع نگار خصوصی) سپریم کورٹ کی طرف سے اصغر خان کیس میں صدر پاکستان کو سیاسی سرگرمیاں ترک کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کروانے کےلئے لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ صدر پاکستان کا عہدہ سروس آف پاکستان کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ صدر وفاق کی علامت اور مسلح افواج کا سپریم کمانڈر بھی ہے۔ اس لئے ایوان صدر میں کسی بھی صورت سیاسی سرگرمیاں جاری نہیں رکھی جا سکتیں۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بنچ نے صدر آصف زرداری کے خلاف توہین عدالت کیس میں وفاق کے وکیل وسیم سجاد کی طرف سے دی گئی دلیل کے جواب میں قرار دیا تھا کہ ہائی کورٹ نے ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں ختم کرنے کےلئے لفظ ”توقع“ اس عہدے کے وقار کی وجہ سے لکھا تھا۔ دراصل لفظ توقع عدالت کا حکم ہے جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں ختم کرنا ہوں گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے اور لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کے ریمارکس کے باوجود صدر آصف علی زرداری نے چند روز قبل ملکوال میں سیاسی جلسہ کیا جس کے بعد وہ نہ صرف صدارت کے منصب کے تقاضوں کے مطابق غیر جانبدار نہیں رہے بلکہ انہوں نے سیاسی جلسہ کر کے عدالت کے احکامات کی توہین بھی کی لہٰذا فاضل عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے اور ایوان صدر کو جانبدار بنانے پر انہیں نااہل قرار دے اور ان کے خلاف زیرسماعت درخواست کا جلد فیصلہ کرتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی بھی کی جائے۔