ایشیا کو اپنی منڈی بنائیں گے‘ خطرات کا جواب بھی دینگے‘ دو مہنگی جنگیں لڑ چکے اب معاشی مفادات کے لئے خارجہ پالیسی بدلیں گے: ہلیری

18 نومبر 2012

سنگاپور (اے ایف پی) امریکہ گزشتہ عشرے میں دو مہنگی جنگیں لڑنے کے بعد معاشی مفادات کو فروغ دینے کیلئے اپنی خارجہ پالیسی کو ازسرنو مرمت کر رہا ہے۔ اس امر کا اظہار امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے سنگاپور میں تقریر کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خارجہ پالیسی کو اس انداز میں ترتیب دے رہے ہیں تاکہ طاقت کی معیشت اور معیشت کی قوت کو اس میں خصوصی مقام حاصل ہو۔ دس سال تک عراق میں جنگ لڑنے کے بعد جو اب ختم ہو چکی ہے جبکہ افغانستان کی جنگ خاتمہ کے قریب پہنچتی جا رہی ہے۔ ہمارا اولین فریضہ خارجہ پالیسی اور بدلتی دنیا کے ساتھ اسکی ترجیحات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری عالمگیر قیادت معاشی طاقت پر منحصر ہے۔ ”جابز ڈپلومیسی“ یعنی سفارت کاری کی ملازمتوں پر زور دینے سے امریکی برآمدات کو فروغ ملے گا۔ نئی منڈیاں ہمارے لئے کھلیں گی اور اوورسیز میں امریکی فرموں کو مسابقت کےلئے مساویانہ مواقع مل سکیں گے۔ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ دنیا بھر میں 270 سے زائد سفارتخانے اور قونصل خانے امریکی کمپنیوں کیلئے وکیل کی حیثیت سے خدمات انجام دینگے اور صدر اوباما کے 5 برسوں میں امریکی برآمدات کو دوگنا کرنے کے ہدف کو حاصل کرنے میں مددگار ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ عالمی معیشت کو ازسرنو توازن دینے کیلئے کوشاں ہے تاکہ امریکی برآمدات بڑھیں، ایشیائی درآمدات میں اضافہ ہو اور ہم مالیاتی بحرانوں سے بچ سکیں اور درمیانے طبقوں کو ترقی ملے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطرات کا جواب دینا ہماری خارجہ پالیسی میں ہمیشہ اور بلاشبہ طور پر بنیادی اور مرکزی حیثیت کا حامل ہو گا لیکن یہ ہماری خارجہ پالیسی نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو مواقع سے استفادہ کرنا ہے تاکہ آئندہ برسوں میں ہماری طاقت میں اضافہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید تاریخ میں پہلی بار دنیا کی بڑی فوجی قوت عالمی طاقتیں رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک شہری ریاست سنگاپور کو مثال کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔