عدالتی افسروں کو انتخابی عمل میں شامل کرنے کی درخواست منظور

18 نومبر 2012

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت نیوز + بی بی سی) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی زیر صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمپنی کا اجلاس ہوا جس میں عدالتی افسروں کو انتخابی عمل میں شامل کرنے کی الیکشن کمشن کی درخواست منظور کر لی گئی۔ بی بی سی، نجی ٹی وی اور آن لائن کے مطابق الیکشن کمشن کی درخواست پر انتخابات ماتحت عدلیہ کے ججوں کی زیر نگرانی کرانے کی منظوری دی گئی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں پانچوں ہائی کورٹس اور وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس صاحبان سپریم کورٹ اور پانچوں ہائی کورٹس کے رجسٹرار اور سیکرٹری الیکشن کمشن نے شرکت کی۔ اجلاس ون پوائنٹ ایجنڈے پر تھا جس میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کی طرف سے جمع کرائی گئی۔ اس درخواست کا جائزہ لیا گیا جس میں آئندہ عام انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کرانے اور جوڈیشل افسروں کی بطور ریٹرننگ افسر تقرری کی استدعا کی گئی تھی۔ اجلاس میں قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کی جانب سے گذشتہ اجلاس میں اٹھائے گئے اعتراض نکات کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کے ارکان کے سوالوں کے بھی جواب دیئے۔ جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی نے سیکرٹری الیکشن کمشن کے جوابات سے مطمئن ہونے کے بعد آئندہ الیکشن میں ماتحت عدلیہ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن ججز کی بطور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ اور ریٹرنگ افسر تقرری کی منظوری دی۔ الیکشن کے دوران عدالتی افسروں کو ڈی سی او کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے اور یہ اختیارات عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 7 کی شق پانچ کے تحت استعمال کئے جا سکیں گے۔ جوڈیشل افسروں کو الیکشن کے دوران دھاندلی یا کسی بھی واقعہ پر موقع پر سزا دینے کے اختیارات بھی ہوں گے۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے کمیٹی کو انتخابی اصلاحات پر مکمل عملدرآمد کرانے اور کمیٹی کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس سے ابتدائی خطاب میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ شفاف اور منصفانہ انتخابات آئین کی ضرورت ہے، کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے الیکشن کمشن سے کچھ وضاحتیں طلب کی ہیں جن پر عملدرآمد چاہئے۔ الیکشن قانون کے مطابق اور پوری ایمانداری سے ہونے چاہئیں۔ شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے میں الیکشن کمشن کسی ادارے سے معاونت طلب کرے تو اس پر غور کرنا چاہئے۔ الیکشن کمشن کے پاس صاف شفاف انتخابات کے لئے فوج طلب کرنے سمیت تمام آپشنز موجود ہیں۔ ماضی میں عدالتی نظام کو انتخابات میں شامل کیا تو عدالتی کارکردگی متاثر ہوئی، الیکشن کمشن سے کچھ وضاحتیں مانگی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شکر ہے عدلیہ عوام کا اعتماد بحال کرانے میں کامیاب رہی۔ عدلیہ نے اپنی آزادی کافی جدوجہد کے بعد حاصل کی ہے۔ الیکشن کمشن نے شاندار خدمات انجام دی ہیں۔ انتخابی اصلاحات سے آنے والی جمہوری حکومت کو دوام ملے گا۔ آئین کے تحت الیکشن کمشن کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں، الیکشن کمشن شفاف انتخابات کے لئے ان وسیع تر اختیارات کو استعمال کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی نے 2009ءمیں عدالتی عملے کو انتخابی عمل سے الگ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے استدعا کی گئی تھی کہ آئندہ عام انتخابات کے لئے عدالتی عملے کی خدمات دی جائیں۔ گذشتہ اجلاس میں کمیٹی نے الیکشن کمشن سے انتخابات کو شفاف بنانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پولنگ سٹیشنوں کو اسلحے سے پاک کرنے‘ انتخابی حلقہ بندی اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے وضاحت طلب کی تھی۔ فیصلے کے مطابق ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور ریٹرننگ افسر ماتحت عدلیہ سے لئے جائیں گے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کے فرائض انجام دے گا جبکہ ایڈیشنل سیشن جج ریٹرننگ افسر کے فرائض انجام دے گا۔ الیکشن کمشن نے کمیٹی کو انتخابی اصلاحات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ شفاف انتخابات کرانا آئینی ضرورت ہے اس بارے آئین میں واضح شقیں موجود ہیں۔ الیکشن قانون کے مطابق اور پوری دیانتداری سے ہونے چاہئیں۔ الیکشن کمشن شاندار خدمات سرانجام دے رہا ہے، الیکشن کمشن کو آئین میں دئیے ہوئے ان تمام آپشنز سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ عدلیہ پر عوامی اعتماد بڑھنے کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ بڑھ گیا ہے، بہتر ہو گا کہ عدلیہ اپنی توجہ عوام کو انصاف کی فراہمی پر مرکوز کریں، مقدمات کی سماعت کرتی رہے۔ ماضی میں جوڈیشل افسروں کی تقرری سے عدلیہ کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ عدلیہ کو ملوث کرنا اچھا شگون نہیں۔ بہت جدوجہد کے بعد عدلیہ نے آزادی حاصل کی ہے۔ اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمن، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان، سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم، وفاقی شریعت کورٹ کے چیف جسٹس اور پنجاب کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان، لاءاینڈ جسٹس کمشن کے سیکرٹری اور سپریم کورٹ کے رجسٹرار اور ڈپٹی رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے شرکت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ اچھی طرز حکومت کی تشکیل کے لئے انتخابات کا منصفانہ اور شفاف ہونا انتہائی ضروری ہے۔ شفاف اور آزادانہ انتخابات منعقد کرانے کے لئے الیکشن کمشن کو اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ انتظامی ادارے الیکشن کمشن کے ساتھ تعاون کرنے کے پابند ہیں۔ منصفانہ انتخابات کرانا یقیناً مشکل ذمہ داری ہے جسے الیکشن کمشن نے ادا کرنا ہے، صاف و شفاف اور آزادانہ انتخابات منعقد کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے اپنے متعدد فیصلوں میں واضح کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری سے انتخابات کے انعقاد تک الیکشن کمشن اداروں کا تعاون حاصل کریں۔ شفاف اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے آئین میں شقیں موجود ہیں، الیکشن کمشن کو ان تمام آپشنز سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ م¶ثر اور دیانتدار کارکردگی سے الیکشن کمشن قابل اعتماد انتخابات کو یقینی بنا سکتے ہیں، بدقسمتی سے ماضی انتخابی عمل میں عدلیہ کو شامل کرنے سے کچھ ناپسندیدہ نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔ عدلیہ پر عوامی اعتماد کی وجہ سے زیر مقدمات کا بوجھ بڑھ گیا ہے، بہتر ہو گا کہ عدلیہ اپنی توجہ انصاف کی فراہمی پر مرکوز کرے کیونکہ مقدمات کی بڑی تعداد سماعت کی منتظر ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے الیکشن کمشن کے سیکرٹری اشتیاق احمد خان نے کہا کہ عدلیہ اور الیکشن کمشن مل کر صاف و شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے، عدالتی افسران کی انتخابی عمل میں مدد دینے پر کوئی آئینی قدغن نہیں، سپریم کورٹ کی جانب سے اجازت دیے جانے پر ان کی ممکنہ تعیناتیوں کو تحفظ بھی مل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے اور 1985ءکے بعد انتخابات میں اسے عدلیہ کی مدد حاصل رہی ہے، آئندہ انتخابات میں عدالتی افسروں کی تعیناتیوں کو بھی اسی کڑی میں سمجھا جائے۔ ان کے مطابق عدالتی افسروں کی انتخابی عمل میں مدد دینے پر کوئی آئینی قدغن نہیں۔
اسلام آباد (وقت نیوز) انتخابات کے حوالے سے جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، وقت نیوز کے مطابق اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ انتخابی عمل میں عدالتی افسروں کی شرکت صرف موجودہ انتخابات کے لئے ہے، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ جمہوریت کے تسلسل کے لئے شفاف انتخابات ضروری ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق ریٹرننگ افسر دو گھنٹے زائد بیٹھ کر عدالتی کام بھی نمٹائیں گے۔ الیکشن کمشن نے 12 اقدامات جوڈیشل کمیٹی کو پیش کئے جس کے مطابق الیکشن میں اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی ہو گی۔ الیکشن کمشن نے یقین دہانی کرائی کہ انتخابی عملے اور ووٹرز کی حفاظت کا منصوبہ بنایا گیا ہے، الیکشن کمشن فوجی اور نیم فوجی اداروں کی خدمات طلب کر سکتا ہے، انتخابی ضابطہ اخلاق تمام مقامی زبانوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ووٹرز کی آگاہی کے لئے تشہیری مہم بھی چلائیں گے۔ انتخابی نامزدگی کے فارموں میں نااہلی کے نئے قوانین کے مطابق تبدیلی کی جائے گی۔ جوڈیشل کمیٹی نے ہدایت کی کہ انتخابی نامزدگی کے فارم اردو میں بھی پرنٹ کئے جائیں۔ الیکشن کمشن نے کہا ہے کہ پولنگ سٹاف میں سرکاری و نیم سرکاری اہلکار بھی تعینات کریں گے۔ حساس انتخابی حلقوں کو اسلحہ سے پاک کیا جائے گا۔ انتخابی اخراجات کے قانون کی سختی سے پابندی کرائی جائے گی۔ ضابطہ اخلاق کی بھی پابندی کرائی جائے گی، ہر دو کلومیٹر پر پولنگ سٹیشن ہو گا یا ووٹرز کو ٹرانسپورٹ مہیا کی جائے گی، انتخابی مہم میں ہوائی فائرنگ پر پابندی ہو گی۔
اعلامیہ