حسینہ بی بی کتنے دن؟

18 نومبر 2012

بھلا کر تلخیاں آتیں
نہ یوں دعوت کو ٹھکراتیں
حسینہ “ ہم کو خیر اندیش
بنگلہ دیش کا پاتیں
گلہ ہم دور کر دیتے
پرانے زخم بھر دیتے
جہان نو میں بڑھنے کا
نیا عزم سفر دیتے
جو شکوے سن سنا لیتے
تو ہم ان کو منا لیتے
جو مل جاتے بہن بھائی
خوشی انمول پا لیتے
برا تھا جو ہوا لیکن
بھلا دیں اب وہ بیتے دن
یہ طے ہے کہ نہیں رہنا
ہمیں اک دوسرے کے بن
چلے تھے ساتھ ہم مل کر
رہیں گے ساتھ ہم مل کے
تو کیوں نہ صاف کر لیں ہم
دلوں کے آئینے مل کے
ہیں دو ملکوں کے جو شہری
محبت ان میں ہے گہری
ہمیشہ رہ نہ پائے گی
جدائی کی گھڑی بھیڑی
بجا ہے روٹھنا لیکن
حسینہ بی بی کتنے دن
نہیں خوش تم ہمارے بن
نہیں خوش ہم تمہارے بن