یہ خونِ خاک نشیناں تھا، رزقِ خاک ہوا!

18 نومبر 2012

امریکی انتخابات کا رولا گولا ختم ہوتے ہی جنابِ بن یامین ناتان یاہو نے غزہ کی پٹی میں 35بے گناہ فلسطینیوں کا خون اسرائیل کے چہرے پر مل دیا!تاکہ وہ اسرائیل کے دوست ممالک کے درمیان نئے سرے سے سرخ رو رہ سکیں! اسرائیلی فضائیہ غزہ کی پٹی میں 466حملے کر چکی ہے! اِن حملوں کا پہلا ہدف حماس کے عسکری بازو کے سربراہ قرار پائے! اُن کے ساتھ ساتھ اُن کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت بھی پیوندِ خاک ہو گئی!
برطانوی وزیر اعظم نے جنابِ بن یامین ناتان یاہو سے ٹیلی فونی رابطہ کرکے صورت حال کی گھمبیرتا پر اپنی تشویش کا اظہار کیا،تو، امریکی صدر جنابِ باراک اوباما نے شریر بچے کے چہرے پر ملال کی لکیر دیکھ کر اُس کی پیٹھ تھپکی اور کہا، ’تمہارا کیا قصور ہے؟ ساری گڑ بڑ ،تو، حماس نے مچا رکھی ہے!‘
ہمارے برقیاتی ذرائع ابلاغ کے تجزیہ نگار بھی ’اسرائیلی عمل‘ پر’اسرائیلی ردِّعمل ‘کا محفوظ لیبل چسپاں کرتے دیکھے گئے! اور ساری گڑ بڑ حماس کی جانب سے اسرائیل کی طرف کچھ راکٹ داغنے کا ردِّعمل قرار دیتے رہے! جبکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ تمام فلسطینی تنظیموں میں اسرائیلی خفیہ اداروں کے ایجنٹ برسرِکار ہیں! اور وہ کسی بھی تنظیم کے ذریعے ایسے اقدامات کرا سکتے ہیں، جن کے جواب میں اسرائیل وہ سب کچھ کر سکے، جس کی خواہش پوری کیے بغیر اُسے نیند نہ آ پا رہی ہو!
اسرائیلی انتخابات میں جنگی جنون کا رنگ بھرے بغیر جنابِ بن یامین ناتان یاہوکے لیے انتخاب لے اُڑنا ممکن نہیں رہ گیا تھا! لہٰذا جنابِ باراک اوباما کی فتح کے بعد ’الفتح‘ یا ، ’حماس‘ میں سے کسی نہ کسی کی باری آنا ہی تھی!اور وہ آگئی!
وائٹ ہاﺅس کے ترجمان جے کارنی نے اس تنازع میں دونوں اطراف کے جانی اتلاف پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حماس کی طرف سے تشدد کا کوئی جواز نہیں! اس طرح فلسطینیوں کو کسی طرف سے بھی کوئی مدد نہیں مل سکے گی! جے کارنی نے یہ بات صدر کے ساتھ نیو یارک کے دورے کے دوران ایئر فورس ون پر اپنے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں سے کی، جنہوں نے اِسے پوری دُنیا تک پہنچا دیا!
امریکی صدر نے اسرائیلی ہم منصب سے ٹیلی فونی گفتگو کرتے ہوئے اُن پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام پر بمباری کرتے وقت اس امر کو یقینی بنائیں کہ اُن کے ہدف بے گناہ شہری اور معصوم بچے نہیں ہیں!
مصر کے صدر جناب محمد مرسی نے پاکستانی وزیر اعظم جنابِ راجہ پرویز اشرف سے کہا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی مدد کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں! یاد رہے کہ جنابِ محمد مرسی عنقریب پاکستانی پارلیمان سے بھی خطاب کرنے والے ہیں! لہٰذا، پاکستان کے سابق صدر جنابِ پرویز مشرف نے بھارتی سرزمین پر کھڑے ہوکر یہ کہنا ضروری گردانا کہ پاکستانی فوج بھی کشمیر اور پانی کی تقسیم کا مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے! اور بتایا کہ وہ یہ بات پاکستانی حکومت کی طرف سے نہیں! بلکہ اپنی معلومات کی بنیاد پر کر رہے ہیں! بھارتی فوج کی سمجھ میں یہ بات آ جانا چاہیے کہ پاکستانی فوج بھی کشمیر اور پانی کی تقسیم کے سلسلے میں ایک نکتہ¿ نظر رکھتی ہے! اور یہ نکتہ¿ نظر بھارتی فوج کی نگاہ سے اوجھل نہیں رہنا چاہیے!
فلسطینیوں کا ذکر آتے ہی کشمیریوں کا تذکرہ ضرور آ جاتا ہے! اُدھر ساری دُنیا اپنے گھوڑے دوڑاتی حماس پر چڑھ دوڑی،تو، یہ کیسے ممکن تھا کہ کشمیر کا تذکرہ عام نہ ہوتا!جنابِ پرویز مشرف ایک بار پھر میدانِ عمل میں اُتر آئے ہیں! اور اس بار اُن کا ہدف بھارتی فوج ہے! اور وہ بھارتی فوج کے ذہن سے پاکستانی فوج کے خلاف تحفظات دور کر دینے کے مشن کے ساتھ سرگرم عمل ہو چکے ہیں! یہ سب کچھ وہ ذاتی حیثیت میں کر رہے ہیں! اور اُنہیں اس سلسلے میں پاکستانی حکومت کی جانب سے کوئی آشیرباد حاصل نہیں ہے!
اسرائیل امریکا کے بیڈ پارٹنر کی حیثیت سے امریکا کے لیے نت نئے مسائل پیدا کرتا رہا ہے! اور ہر بار امریکا ہی اسرائیلی غمزوں کا شکار بنا رہا ہے! آج بھی اسرائیلی مظالم کا ذکر آتے ہی امریکی آواز میں اس شریر بچے کے لیے محبت کے جذبات لرز اُٹھتے ہیں! اور جنابِ باراک اوباما نے یہ ’رسم‘ ایک بار پھر نبھا دی ہے!دیکھنا یہ ہے کہ فلسطینیوں کا خون اور کتنے دن رنگ دکھانے سے قاصر رہتا ہے؟ورنہ یار لوگ ،تو، بہت پہلے کہہ چکے ہیں:
یہ خونِ خاک نشیناں تھا، رزقِ خاک ہوا

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...