شہر قائد کو امن کا گہوارہ بنائیں

18 نومبر 2012

کراچی میں ہونے والی بدامنی جو کہ پورے پاکستان پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ ہر روز دن دیہاڑے نعشیں گر رہی ہیں۔ پنجاب، بلوچستان اور خیبر پی کے کے مختلف حصوں میں بھی کراچی سے آنے والی نعشیں ان حصوں میں خوفناک فضا پیدا کر رہی ہیں۔ کراچی کے واقعات میں غیر ملکی خفیہ ہاتھوں کے ملوث ہونے کے بارے میں قومی سلامتی کے محافظ رحمن ملک بار بار میڈیا پر آکر اس جانب اشارہ کر چکے ہیں لیکن آج تک حکومتی سطح پر کسی بھی غیر ملکی طاقت کے ساتھ باضابطہ طور پر سفارتی سطح پر نہ تو کوئی احتجاج ہی کیا گیا ہے اور نہ ہی قوم کو اس ضمن میں اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ طویل عرصہ سے کراچی قتل و غارت گری کا مرکز چلا آرہا ہے یہاں تک کہ بعض علاقے ”نو گو ایریا“ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پولیس کے علاوہ رینجرز دونوں ہی مکمل طور پر بے بس اور ناکام ہو چکی ہیں اس کے باوجود پورے کراچی میں اسلحہ پر نہ تو پابندی ہی عائد ہوتی ہے اور نہ ہی اس شہر کو اسلحہ سے پاک کرنے کیلئے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جاتا ہے۔ کراچی کی بدقسمتی کہہ لیں کہ یہاں پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی تینوں پارٹیاں حکومتی اتحاد کا حصہ بھی ہیں اور اندر ہی اندر ایک دوسرے کے خلاف خفیہ سازشوں میں بھی مصروف ہیں اور کراچی میں اپنی اپنی حاکمیت کیلئے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ تینوں سیاسی پارٹیوں میں اب جو چیز مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تینوں پارٹیوں میں بلاشبہ اسلحہ بردار گروپس موجود ہیں۔
ان گروپس کی پشت پناہی اعلیٰ شخصیات کر رہی ہیں۔ ان گروپس میں بھتہ مافیا، قبضہ گروپ، ڈرگ مافیا اور دیگر جرائم پیشہ عناصر برابر شریک ہیں جن میں اجرتی قاتلوں کا گروہ بھی پروان چڑھ چکا ہے۔ اغوا برائے تاوان کا خطرناک مرض خوفناک حد تک کراچی کے تمام حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ذوالفقار مرزا خواہ کسی بھی مشن پر تھے لیکن وہ خفیہ حقائق بیان کر چکے ہیں اور اب پراسرار انداز میں خاموشی بھی اختیار کر چکے ہیں۔ وہ لندن تک اپنی آواز بلند کرنے آئے اور ایم کیو ایم کے خلاف دل کھول کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی اور برطانیہ کے مختلف شہروں میں تارکین پاکستان سے خطاب کر کے چونکا دینے والا انکشاف کیا لیکن واپس پاکستان جا کر ایوان صدر کے سائے تلے خاموشی اختیار کر لی۔ اس کے علاوہ وہ امریکہ میں بھی کافی وقت پراسراریت کے انداز میں گزار کر واپس لوٹ آئے۔ رحمن ملک اور خود صدر مملکت لندن آکر برابر الطاف حسین سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے ہیں لیکن کراچی کی خوفناک صورت حال دن بدن خطرناک موڑ اختیار کرتی چلی جا رہی ہے۔ کراچی کو ایسی سونے کی چڑیا بنا دیا گیا ہے کہ اس کے پکڑنے اور اس پر قبضہ جمانے کی ہوس نے انسانوں کے قتل عام کو روز کا معمول بنا دیا ہے۔ کراچی کا صنعتی سیکٹر مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ تمام بڑے بڑے صنعت کار اور سرمایہ دار اپنا کاروبار سمیٹ کر سنگاپور ، ملائشیا، دبئی، بنگلہ دیشن، لندن حتیٰ کہ بھارت منتقل ہو رہے ہیں۔ لندن آنے والے صنعت کاروں اور کاروباری حضرات کی زبانی کراچی کے حوالے سے جو اطلاعات ملی ہیں ان کے مطابق کراچی میں پرچی مافیا، بھتہ مافیا اور ڈرگ مافیا کا راج قائم ہو چکا ہے۔ جرائم کی ایسی ایسی کہانیاں منظرعام پر آئی ہیں کہ دل دہل جاتا ہے۔ حکومت نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ اتحادی جماعتوں میں محض دولت کمانے اور قومی خزانہ میں خیانت کے علاوہ اور کوئی ایجنڈا ہی نہیں۔ عام آدمی جو کہ کراچی کو روزگار کا ہب سمجھ کر پشاور، لاہور، فیصل آباد، حیدر آباد اور دیگر شہروں سے یہاں آ کر چار پیسے کماتا تھا اب سڑکوں کے کنارے گولیوں کا نشانہ بن کر بے حسی کی منہ بولتی تصویر بن کر حکومت پاکستان کی رِٹ کیلئے سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔
مغربی دنیا کراچی کو دنیا کا خطرناک ترین شہر قرار دے کر اپنے شہریوں کو ٹرانزٹ سفر تک سے بھی منع کر رہی ہے۔ اگر اسی طرح کے حالات اور چند ماہ تک برقرار رہتے ہیں تو پھر کراچی کی حد تک تو کم از کم عام انتخابات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ دراصل ماضی میں کراچی ایم کیو ایم کا گڑھ رہا ہے اور ابھی تک ایم کیو ایم اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور اے این پی گذشتہ چند سالوں سے مل کر حکومت میں ہیں اور اپنے اپنے مفادات کیلئے سیاست میں سودے بازی بھی کرتے چلے آرہے ہیں۔ ماضی کی صورت حال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ سابق آرمی چیف مرحوم آصف نواز جنجوعہ نے کراچی میں امن و امان قائم کرنے کی غرض سے حکومت سے فری ہینڈ مانگا تھا اور وہ تمام سیاسی پارٹیوں کے عسکری گروپس کے خلاف گرینڈ آپریشن کرنے والے تھے لیکن اس دور میں بھی سیاسی مجبوریاں آڑے آگئیں اور آصف نواز جنجوعہ بھی اپنے مشن میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ کراچی کے حالات بگاڑنے والے عناصر کو راتوں رات سرکاری سرپرستی میں بیرون ملک روانہ کر دیا گیا اور کراچی بدستور چند مخصوص سیاسی قوتوں کے شکنجے میں رہا جو کہ اقتدار کی ہوس اور لوٹ مار کے کلچر میں تبدیل ہو کر خطرناک حد تک قتل و غارت گری کے دور میں داخل ہو چکا ہے جس کا بلاشبہ غیر ملکی قوتوں کو برابر فائدہ پہنچ رہا ہے اور وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ غیر مستحکم پاکستان ان قوتوں کا نمبر 1 ایجنڈا ہے۔ خود غیروں کے ساتھ اپنے ہاتھ بھی اس ایجنڈے کا حصہ بن کر پاکستان کی تباہی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پیشہ ور اور اجرتی قاتلوں نے کراچی میں اپنا دھندہ بھی جاری کر رکھا ہے۔ بنکوں میں ڈاکے اور منشیات فروشی جرائم میں اضافے کی وجہ ہیں۔ جرائم پیشہ عناصر خود مقامی پولیس میں موجود ہیں جو کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پولیس فورس میں بھرتی ہو چکے ہیں۔ صوبائی حکومت کے تمام ادارے اپنا وقار تو کھو ہی چکے ہیں مگر ان اداروں میں عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کا نہ تو سسٹم ہے اور نہ ہی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کارکردگی نام کی کوئی چیز موجود ہے۔ نوجوان نسل بیروزگاری کا سامنا کر رہی ہے نوجوانوں میں بددلی پھیل چکی ہے جو کہ اس نسل کو جرائم کی طرف راغب کر رہی ہے۔ پورے کا پورا نظام ہر شعبے میں تباہی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔
کراچی جو کہ روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا اب موت کے سوداگروں کے حوالے ہو چکا ہے۔ جو سیاسی پارٹیاں شہر قائد میں عوامی نمائندگان کا دعویٰ کرتی ہیں یہ ہی بدقسمتی سے کراچی کو بیروت بنانے کی ذمہ دار ہیں۔ آخر اسلحہ کی بھرمار کیوں اور کیسے ممکن؟؟ وہ کون سے ایسے ہاتھ ہیں جو کراچی میں اسلحہ سپلائی کرتے ہیں؟ غیر ملکی ہاتھ یقیناً دہشت گردی میں ملوث ہیں لیکن ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کون کون لوگ ملوث ہیں؟ ان کی سرپرستی کون کرتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب آخر حکمران اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی کو دینے ہیں آج نہیں تو کل خفیہ حقائق نے بے نقاب ہونا ہے۔ کراچی کا امن تباہ کرنے والی قوتیں خود ان ہی کی صفوں میں موجود ہیں۔ کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے اور اس شہر کی رونقیں اور روشنیاں واپس لوٹانے میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی کو اپنی سیاسی پارٹیوں میں اسلحہ بردار گروپس اور تمام مافیاز کو ختم کرنا ہوگا ورنہ شہر کراچی کی سلگتی ہوئی آگ پاکستان کے دیگر شہروں کو بھی اب اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ وقت بڑی تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اب ایک بار پر ”میرے عزیز ہم وطنو!“ کی صدا گونج اٹھے اور پھر پورے نظام کی بساط ہی لپیٹ لی جائے اور جمہوریت واقع بہترین انتقام بن جائے۔ آخر کب تک بے گناہ شہریوں کا قتل عام جاری رہے گا؟کب تک قومی املاک کو جلا کر راکھ کیا جاتا رہے گا؟ اور پھر کب تک نو گو ایریا بھتہ خوروں، ڈاکوﺅں، لٹیروں قاتلوں اور قومی مجرموں کو جنم دیتے رہیں گے اور سیاسی قوتیں ان کی سرپرستی کرتی رہیں گی؟ قوم کے ہر فرد کو اب سوچنا چاہئے اور اب قومی سطح پر ایکشن ہو جانا چاہئے اسی میں ملکی مفاد ہے۔