حق حکمرانی کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے عدالتوں نے نہیں: قمر زمان کائرہ

18 نومبر 2012
حق حکمرانی کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے عدالتوں نے نہیں: قمر زمان کائرہ

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ کراچی کی صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے،کراچی میں مشکلات ضرور ہیں لیکن صورت حال اتنی خراب نہیں، روزانہ 20 سے 25لاشیں گرنے کے حوالے سے اعدادو شمار مبالغہ آرائی ہے، صدر مملکت سیاسی عمل کا پیداوار اور پارلیمان کا حصہ ہے، عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، حق حاکمیت صرف پارلیمان کو حاصل ہے، اپنے چار سالہ دور حکومت میں ایک روپے کی کرپشن نہیں کی۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اظہارخیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں جرائم کی شرح بڑھتی اور کم ہوتی رہی ہے،1990ءمیں کراچی میں کرفیو لگا کرتے تھے لیکن اب صورتحال وہ نہیں ہے، کراچی کی طرح پنجاب میں بھی قتل اورجرائم کے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن انہیں میڈیا میں بیان نہیں کیا جاتا۔ سینٹ سے ایم کیو ایم کے واک آﺅٹ کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پیپلزپارٹی کی اتحادی جماعت ہے یہ واک آﺅٹ علامتی تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے کہا کہ ماضی میں بھی بعض جماعتوں کی جانب سے کراچی میں فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے لیکن فوجی آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، کراچی کے حالات درست کرنا صوبے کی ذمہ داری ہے اور اس سے وفاقی حکومت کا کوئی براہ راست واسطہ نہیں ہے لیکن کراچی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے وفاقی حکومت صوبے کو ہرممکن مدد فراہم کرے گی۔ بلوچستان کی حکومت کے حق حکمرانی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکمرانی کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے عدالتوں نے نہیں، عدالت کسی حکومت کو غیر آئینی قرار نہیں دے سکتی، بلوچستان میں کوئی آئینی بحران نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو سیاست سے منع نہیں کیا گیا بلکہ انہیں صرف غیر جانبدار رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔ ملکوال میں پیپلزپارٹی کی طرف سے عید ملن پارٹی کے سلسلے میں منعقدہ جلسے سے صدر کے خطاب سے متعلق مسلم لیگ (ن )کے اعتراض کے بارے سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنی پوری تقریر میں پیپلزپارٹی کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی پیپلزپارٹی کے امیدوار کو سپورٹ کیا ہے، صدرنے اپنے خطاب میں ریاست اور حکومت سے متعلق باتیں کی ہیں، جلسوں سے خطاب کرنا سیاست نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ میڈیا کو اپنی رپورٹنگ میں احتیاط سے کام لینا چاہئے ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں اور جمہوریت میں آزاد عدلیہ کا اہم کردار ہوتا ہے، عدالت نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بلایا تو وہ عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سید یوسف رضا گیلانی ہماری پارٹی کا اثاثہ اور ہمارے لئے انتہائی محترم ہیں ، ہم ان کی عزت کرتے ہیں، اگر یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کو عدالتوں اور اداروں سے شکایت ہے تو یہ ان کا حق ہے۔ اصغر خان کیس کے فیصلے کے بعد ملوث افراد کیخلاف کارروائی سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزارت قانون اور فوج کے متعلقہ ادارے کیس کا جائزہ لے رہے ہیں اور مشاورت کررہے ہیں جو بھی فیصلہ ہوگا آئین اور قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ سابق جنرل اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت دینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ تمغہ کسی شخص کو نہیں دیا گیا تھا۔