اقوام متحدہ اسرائیلی جارحیت بند کرانے کیلئے کردار ادا کرے: سیاسی و مذہبی رہنما

18 نومبر 2012

لاہور (خصوصی رپورٹر + سٹاف رپورٹر + ایجنسیاں) سیاسی و مذہبی رہنما ¶ں نے غزہ پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی دہشت گردی کو انسانیت سوز ظلم قرار دیا ہے اور اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت بند کرانے کیلئے کردار ادا کرے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل احسن اقبال‘ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان‘ وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی‘ صدر جاوید ہاشمی‘ متحدہ علما پاکستان کے صدر میاں شبیر قادری‘ استقلال پارٹی کے سربراہ سید منظور گیلانی نے اپنے بیانات میں کہا کہ معصوم فلسطینیوں کا قتل عام انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے‘ پاکستانی قوم اس مشکل گھڑی میں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری فوری طور پر اسرائیلی جارحیت کو رکوانے کیلئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھائے۔ امیر جماعة الدعوة حافظ محمد سعید نے کہا کہ پاکستان‘ سعودی عرب‘ مصر و دیگر مسلم متحدہ ہو کر فلسطینی مسلمانوں کی زندگیاں بچانے کیلئے تمام تر کوششیں اور وسائل بروئے کار لائیں۔ دفاع پاکستان کونسل کے کنوینئر جنرل (ر) حمید گل نے کہا مسلم حکمران فلسطین‘ کشمیر و دیگر خطوں کے مظلوم مسلمانوں کے تحفظ کیلئے امریکہ کے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلہ میں قائم اتحاد سے باہر نکل آئیں۔ اعجازالحق نے کہا کہ اسرائیل دنیا کا بدترین سرطانی جرثومہ ہے۔ اس کی دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے مسلمان متحد و بیدار ہو جائیں۔ لیاقت بلوچ اور مولانا سعید الحق نے کہا کہ غزہ میں محصور مسلمانوں پر اسرائیلی حملوں کی محض مذمت سے کچھ نہیں ملے گا جب تک مسلمان عملی طور پر میدان میں نہیں نکلیں گے ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا ہے کہ غزہ اسرائیلی جارحیت اور بین الاقوامی بے حسی کا شکار رہے۔ اسرائیل نہتے فلسطینیوں کو خون میں نہلا رہا ہے مگر اقوام متحدہ اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ آئی این پی کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے فلسطین کے شہر غزہ اور دیگر شہروں پر اسرائیلی میزائلوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور امریکی صدر بارک اوباما سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت بند کرائیں ورنہ دنیا تیسری عالمی جنگ میں مبتلا ہو سکتی ہے۔