ڈرون حملے رکوانے کیلئے ....حکمران سنجیدگی کا مظاہرہ کریں

18 نومبر 2012


 ایمنسٹی انٹر نیشنل نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں میں 8ہزار معصوم شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔یہ ماورائے عدالت ہلاکتیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انٹرنیشنل فرینک جینوزی نے مزید کہا کہ 2004 کے بعد ڈرون حملوں میں مارے جانیوالے مطلوبہ افراد کی شرح 2فیصد ہے۔دریں اثناءامریکی رکن کانگریس ڈینس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈرون حملوں کو غیر قانونی قراردیا۔انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں سے دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ان کی کانگریس سے منظوری نہیں لی گئی۔ یہ جنگ کے مترادف ہے۔
 عالمی سطح پر ڈرون حملوںکی مذمت کی جاتی رہی ہے۔ان کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی بھی قراردیاجاتا ہے۔اس چارٹر کے مطابق اعلان جنگ کے بغیر کسی ملک پر بمباری نہیں کی جاسکتی برطانوی ارکانِ کانگریس نے پاکستان پر ہونیوالے ڈرون حملے رکوانے کیلئے ایک گروپ بھی بنا لیا ہے جس میں تمام جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔ عالمی سطح اور امریکہ کے اندر سے ڈرون حملوں کے خلاف ردّعمل اور کوششیں حوصلہ افزا ہیں تاہم ان کا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں جب تک اس سے متاثرہ ملک کی طرف سے کوئی نوٹس نہیں لیاجاتا۔گو حکومت کی طرف سے ڈرون حملوں کی مذمت کی جاتی ہے اور ان کو روکنے کا مطالبہ بھی ہوتا رہا ہے جب ڈرون پاکستان کی حدود سے اڑکر ہی پاکستانیوں کو نشانہ بناتے ہیں تو مذمت اور حملے روکنے کے مطالبات کو منافقت کے سوا کیا کہاجاسکتا ہے۔ ڈرون حملے رکوانے کیلئے حکمران سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ۔ عالمی برادری ان کے ساتھ ہے۔کوئی وجہ نہیں کہ امریکہ ڈرون حملے جاری رکھ سکے۔