پاکستان میں کینسر کے مریضوں میں اضافہ، سرکاری سطح پر ایک ہسپتال بھی نہیں بنا

18 نومبر 2012

لاہور (ندیم بسرا) وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی چشم پوشی کے باعث ملک بھر میں آج تک سرکاری سطح پر کینسر کا کوئی بھی ہسپتال قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث شہریوں میں 20 فیصد چھاتی کینسر ، 15فیصد جگر کینسر ، پھیپھڑے کا 31 فیصد کینسر ، معدے کا 9 فیصد، سکن کینسر 3 فی صد اور انتڑیوں کا 6 فی صد تک کینسر پھیل گیا۔ پاکستان اس وقت 11ویں نمبر کا ملک ہے جہاں تمام کینسر کے مریض زیادہ ہیں۔ اس حوالے سے سرجیکل کینسر سوسائٹی کے نائب صدر پروفیسر آف سرجری سروسز ہسپتال ڈاکٹر صداقت علی نے نوائے وقت کو بتایا کہ پاکستان میں 6 بڑے کیسز شہریوں میں پائے جا رہے ہیں جس میں پھیپھڑوں، چھاتی، معدہ، جگر، سکن اور انتڑیوں کا کینسر ہے۔ سابق چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ میڈیسن کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سابق صدر چیسٹ سوسائٹی پروفیسر ڈاکٹر ظفر علی سید نے نوائے وقت سے کہا کہ پاکستان میں سرجری اور شعاعوں کے ذریعے سرطان (کینسر) کا علاج کیا جا رہا ہے اگر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائے جیسے پھیپھڑوں کا کیسر ہے اس میں ضروری ہے کہ تمباکو نوشی سے پرہیز کیا جائے اگر ایک شخص 20سال تک 20سگریٹ روزانہ پیتا ہے تو اس میں عام شخص کے مقابلے میں پھیپھڑوں کے کینسر کے چانسز 32گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اسسٹنٹ پروفیسر آف سرجری جنرل ہسپتال ڈاکٹر تنویر انور نے کہا کہ جب تک عوام میں کینسر سمیت دیگر بیماریوں سے متعلق شعور بیدار نہ کیا گیا اس وقت تک مرض کم نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سگریٹ نوشی پر پابندی کے حوالے سے پولیس عمل درآمد نہیں کر رہی۔