6 خودکش بمبار کراچی داخل، موبائل کی ممکنہ سروس بندش کے باوجود عاشورہ پر خطرہ

18 نومبر 2012

کراچی، کوئٹہ، لاہور (این این آئی+ نوائے وقت نیوز) یوم عاشور پر طالبان نے 9 اور 10 محرم الحرام کے جلسوں پر خودکش حملوں کا منصوبہ بنایا ہے۔ دہشت گرد حملوں کیلئے 6 خودکش بمبار کراچی پہنچ گئے۔ سیکیورٹی اداروں نے منصوبے کے انکشاف کے بعد محرم الحرام کے جلوسوں کیلئے سیکیورٹی پلان تیار کرلیا۔ اب بھی شہر کے مضافات علاقوں سمیت دیگر علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کئے جارہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں عاشورہ کے جلوس کے علاوہ عام دنوں میں رات کے وقت نکالے جانے والے جلوسوں میں ہو سکتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم اختر محسود نے ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ محرم کے جلوسوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بڑے حملے ہوسکتے ہیں۔ تنظیم کی تیاری پوری ہے‘ یہ حملے رکشہ اور موٹر سائیکل کے ذریعے ہو سکتے ہیں۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق محرم الحرام کے پہلے روز کراچی میں فرقہ ورانہ دہشت گردی کی خفیہ اطلاعات پر دن بھر موبائل فون سروس بند رکھنے کے باوجود شہر میں دہشت گردی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کی طرف سے نو اور دس محرم الحرام کو ماتمی جلوسوں کے موقع پر دہشتگردی کے پیش نظر موبائل سروس بند کرنے پر غور کیا جارہا ہے اور اس کے لئے باقاعدہ وزیراعظم سے منظوری بھی لی جائے گی۔ اسلام آباد میں وزارت داخلہ میں مرکزی کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا جو صوبوں میں قائم ذیلی کنٹرول رومز سے منسلک ہے۔ پنجاب کے 17 اضلاع حساس قراردیئے گئے ہیں۔ صوبائی سیکرٹری داخلہ بلوچستان اکبر حسین درانی نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں محرم الحرام کے دوران سیکورٹی برقرار رکھنے کےلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 5478 اہلکاروںکو تعنیات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی 61 بریگیڈ کی تین بٹالین سول انتظامیہ کی مدد کےلئے تیار رہےں گی جبکہ ایف سی کی مزید 21 پلاٹون بھی سول انتظامیہ کی مدد کےلئے چوکس رہے گی۔ انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کو ر بلوچستان میجر جنرل عبیداللہ خان خٹک نے عاشورہ محرم کے دوران مثالی امن، بھائی چارے اور یکجہتی کی فضاءبرقرار رکھنے اور عاشورہ محرم کو مذہبی احترام کے ساتھ منانے کی اپیل کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت کی درخواست پر 9 اور 10 محرم کو کراچی میں فوج سٹینڈ بائی رہے گی۔ ضرورت پڑنے پر فوجی دستے مختلف مقامات پر تعینات کئے جا سکتے ہیں۔ فوج کی تعیناتی سے متعلق حکومت سندھ کی درخواست زیرغور ہے۔