نئے صوبوں کا ممکنہ قیام ....ملکی وحدت کیلئے زہر قاتل

18 نومبر 2012


 صدر آصف علی زرداری نے پارٹی کے ناراض رہنما سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو منانے کیلئے ملتان کا دورہ کیا۔اس موقع پر صدر نے کہا کہ سرائیکی صوبے پر الیکشن سے پہلے پیشرفت ہوگی۔فی الحال مطلوبہ اکثریت نہیں ہے۔
یوسف رضا گیلانی موقع کی مناسبت سے خود کو وزارت عظمیٰ سے الگ کرنے کا جواز پیش کرتے رہتے ہیں۔گزشتہ روز انہوں نے فرمایا کہ ان کو اور مخدوم شہاب الدین کو سرائیکی صوبہ کی حمایت کی سزا ملی۔ متحدہ قومی موومنٹ سرائیکی صوبہ کی بڑی حامی ہے اس پر تو کوئی عذاب نہیں ٹوٹا۔گیلانی صاحب نے اپنے جان نشین راجہ پرویز اشرف کی طرح سوئس حکام کو خط لکھا ہوتا تو کیا پھر بھی ان کو سزا دی جاتی؟ آصف زرداری صاحب کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کے پاس سرائیکی صوبہ کے قیام کیلئے اکثریت نہیں ہے تاہم وہ الیکشن سے قبل اس حوالے سے پیشرفت کا عندیہ دے رہے ہیں۔اگر حکومت کے پاس مطلوبہ اکثریت ہو تب بھی سرائیکی صوبہ نہیں بنناچاہئے۔صوبہ سرحد کو خیبر پختون خواہ کا نام دیا گیا تو ہزارہ صوبہ کے قیام سے کوشش ہونے لگی۔اس کیلئے کشت و خون بھی ہوا۔ ہزارہ صوبہ کی تحریک بدستور جاری ہے۔سرائیکی صوبہ کے قیام کے صوبوںکا پنڈرا بکس کھل جائیگا جس کو سمیٹنا ممکن نہیں ہوگا۔ویسے بھی ملکی معیشت نئے صوبوں کے قیام کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ لسانی بنیاد پر بننے والے صوبوں سے نفرتیں جنم لیں گی جو ملکی وحدت کیلئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ملک کے چند بڑے محض ذاتی مفادات کی خاطر لسانی بنیاد پر صوبوں کے قیام کی ضد چھوڑ دیں۔