وفاداری ،بشرط استواری

Nov 18, 2012

رضا الدین صدیقی

قبولِ اسلام کے ساتھ ہی حضرت عمر ابن خطاب، نبی کرےم کی توجہات اور تربےت سے فےض ےا ب ہونے لگے اور حضور اکرم کے مقر بےن خاص مےں شامل ہوگئے۔ اللہ رب العزت کے پےارے محبوب کی محبت آپ کے رگ وپے مےں سراےت کرگئی اور آپ اس جذبہءمحبت کو درجہ کمال تک پہنچانے کے متمنی رہتے۔ ”حضرت عبداللہ بن ہشام کہتے ہےں کہ ہم حضور سےد عالم کے ہمراہ تھے اور آپ حضرت عمر بن خطاب کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔(اس التفاتِ خاص سے فائدہ اٹھا کر ) حضرت عمر ؓنے (اپنی قلبی کےفےات کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے ) عرض کےا : ےا رسول اللہ ! آپ مجھے اپنی جان کے سوا ہر چےز سے زےادہ عزےز ہےں۔ آپ نے ارشاد فرماےا اس ذات کی قسم جسکے قبضہ قدرت مےں مےری جان ہے ۔جب تک مےں تمہارے نزدےک اپنی جان سے بھی زےادہ محبو ب نہ قرار پاﺅں تم مومن نہےں ہوسکتے ۔ (اب) حضرت عمر نے( اپنی کےفےت کو محسوس کےا تو بے ساختہ) عرض کےا۔ اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی عزےز ہوگئے ہےں۔ ارشادہوا ہے : عمر اب تمہارا اےمان درجہ کمال پرپہنچ گےا ہے۔ اس حدےث مبارکہ نے تربےت وتزکےہ کے بہت سے پہلو آشکار کےے ہےں ۔ حضرت عمر دن رات رسول اللہ کی سےرت و کردار کا مطالعہ کر رہے تھے، اوصاف وکمالات کے مشاہدے مےں تھے،اپنے ظاہر وباطن کی تبدلےاں بھی انکے پےش نظر تھےں ۔ اسلئے موقع پاتے ہی انھوں نے محبت کا درجہ کمال بھی طلب کرلےا،اور اس صاحبِ تعلےم وتزکےہ نے فوراً ہی ان کے جذبہءتسلےم واخلاص اور خود سپردگی کو معراجِ کمال تک پہنچا دےا ۔اسی کےفےت کا اعجاز تھا کہ حضرت عمر کو لمحہ لمحہ نبی کرےم کی رضا ءکا خےال رہتا ۔ آپکے مفادات کی حفاظت کی کوشش کرتے ۔ آپ کی پسند کو ہمےشہ پےش نظر رکھتے۔ حضرت جابر ؓرواےت کرتے ہےں کہ اےک بار جناب رسول اللہ کی خدمت عالےہ مےں خوبصورت اور قےمتی قبا بطور ہدےہ ءپےش کی گئی۔ آپ نے اسے زےبِ تن فرما لےا۔ مگر فوراً ہی اسے اتار دےا اور فرماےا:کہ اسے عمر کو دے آﺅ،آنجناب سے اس قبا کو فوراً اتا ر دےنے کی وجہ درےافت کی گئی تو آپ نے ارشاد فرماےا : مجھے جبرئےل امےن نے اسے پہننے سے روک دےا تھا۔ ےہ بات حضرت عمرؓ تک پہنچی (تو بڑے پرےشان ہوئے ،کہ جس چےز کو آپ نے ناپسند کےا ، اسے مےری طرف بھےج دےا ےقےنا مجھ سے کوئی فروگذاشت ہوئی ہے) روتے ہوئے خدمت اقدس مےں حاضر ہوئے، عرض کےا: ےا رسول اللہ! جس قبا کو آپ نے خود ناپسند کےا ، وہ مجھے عناےت فرمادی، اب مےری لےے کےسے ممکن ہے کہ آپ کی مبغوضہ چےز کو پہن لوں، فرماےا: ےہ قبا مےں نے تمہےں استعمال کیلئے نہےں دی بلکہ اس لےے دی ہے کہ اسے بےچ دو (ےہ سن کر آپ کے قلب مضطرب کو تسلی ہوئی ،حضور کی ناراضگی کا اندےشہ ختم ہوا)اور آپ نے اسے دوہزار درہم مےں فروخت کردےا۔ (مسلم)رسول اللہ کی نگاہ نے چونکہ آپ کو ”فاروق“بنادےا تھا، لہٰذا آپ کے جذبہ محبت رسو ل مےں ”غےرت “کا پہلو بہت ہی نماےاں تھا۔ممکن نہےں تھا کہ کوئی مرتکب توہےن وتنقےص آپ کی گر فت مےںآئے اور کےفر کردار تک نہ پہنچے۔

مزیدخبریں