صدر اوباما کی دوسری ٹرم اور پاکستان

18 نومبر 2012


امریکی انتخابات کے بارے میں دنیا کے بےشتر ممالک کی خواہش تھی کہ بارک اوباما دوسری بار بھی صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کریں مگر نہ جانے کیوں پاکستان میں ایک سروے کے مطابق پاکستانیوں کی اکثریت کی خواہش اسکے بر عکس تھی پاکستان کو امریکی خارجہ پالیسی میں سب سے بڑا اختلاف ہمارے فاٹا کے علاقوں میں اسکے مسلسل ڈرون حملوں کی وجہ سے ہے لےکن انتخابات کے دوران اپنی خارجہ پالیسی پر بحث کرتے ہوئے رومنی اور اوباما دونوں نے بڑے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ وہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر ڈرون حملے جاری رکھیں گے تو پھر رومنی کے بارے میں پاکستا نیوں کی خوش فہمی چہ معنی دارد؟ ویسے بھی کہاوت ہے کہ جس شیطان کو آپ جانتے ہیں وہ اس شیطان سے بہتر ہے جسے آپ نہیں جانتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ آجکل دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور ہے مگر طاقت کے نشے میں جب وہ کمزور ممالک کو روندنا شروع کرتا ہے تو وہیں سے مسائل پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں مثال کے طور پر مسلم اُمہّ کی خواہش ہے کہ مڈل ایسٹ میں فلسطین کی آزاد اور خود مختار ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے لےکن 53 سالوں سے یہ مسئلہ حل طلب پڑا ہے اسی طرح پاکستان کی خواہش ہے کہ کشمیر کا مسئلہ فروری 1949 میں پاس کی جانے والی اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق حل کیا جائے لےکن یہ مسئلہ ابھی تک جوں کا توں پڑا ہے اور وادیءکشمیر پر بزور شمشیر اپنا قبضہ جاری رکھنے کےلئے بھارت کی 7 لاکھ فوج کشمیریوں کے خون سے روزانہ ہولی کھےلتی رہتی ہے۔ 2008 کے انتخابات سے پہلے صدر اباما اور ان کی ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے منشور میں کہا تھا کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ مڈل ایسٹ میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پائیدار امن سمجھوتے کی کوشش کرینگے افغانستان سے تمام امریکی فوجیں واپس بلائیں گے اورپاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمےت تمام متنازع امور حل کروانے کی کوشش کرینگے تاکہ اس خطے میں پائیدار امن کی طرف پےش رفت ہوسکے گو صدر بننے کے دو ہی ہفتے بعد انہوں نے جارج مچل کو مڈل ایسٹ اور ڈےوڈ ہالبروک کو بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کےلئے بھےجا مگر ہم نے دےکھا کہ چند ہی ہفتوں بعد انکے یہ دونوں مشیر ناکام و نامراد ہو کر واپس چلے گئے یہی نہیں بلکہ ہر کہ در کان نمک رفت نمک شُد کی طرح انہوں نے پنٹاگان کا ایجنڈہ اپناتے ہوئے مزید 30,000 امریکی فوج افغانستان کی جنگ میں جھونک دی۔ ہمارے کچھ دانشور سمجھتے ہیں کہ امریکی آئین کے مطابق کوئی بھی شخص دو دفعہ سے زیادہ صدر نہیں رہ سکتا اور اپنی ٹرم کے دوران صدر اباما چونکہ اپنی بیوروکرےسی اور اےجنسیوں کے دباو¿ کی وجہ سے جو کچھ وہ کرنا چاہتے تھے نہیں کر سکے تھے مگر اپنی دوسری ٹرم کے دوران وہ کسی کی پرواہ کئے بغیر دنیا کے کمزور ممالک کی داد رسی ضرور کریں گے مگر یہ دانشور بھول جاتے ہیں کہ اباما کوئی مسیحا نہیں امریکی مفادات کے مطابق انکی سب سے پہلی ترجیح دنیا بھر میں طاقت کے ذریعے نیا ورلڈ آڈر قائم کرنا ہے اسی لئے امریکہ دنیا بھر کے تےل اور گیس کے وسائل پر غلبہ حاصل کئے جا رہا ہے اسکی تازہ مثال سنٹرل اےشیا کی تمام مسلم ریاستوں پر امریکہ کا غلبہ یا کنٹرول ہے صرف ایران ہی ایک ایسا ملک ہے جسکے تیل اور گیس کے بھر پور خزانے اسکی دسترس سے باہر ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تو ایران کے ہمسایہ ممالک اور دنیا بھر کو اس کے فرضی ایٹمی ہتھیاروں کے خوف سے ڈرایا جا رہا ہے اور دوسری طرف اس کی تجارت پر اقوام متحدہ کے ذریعے پابندیاں عائد کروائی گئی ہیں کمال کی بات یہ ہے کہ ایران کے گرد ایٹمی ہتھیاروں سے لدے 29 بحری بےڑوں کےساتھ اس کا مکمل گھیراو¿ کر نے کے باوجود وہ یہی پراپیگنڈہ کئے جا رہا ہے کہ ایران دنیا کے امن کےلئے خطرہ ہے تاکہ مڈل ایسٹ میں اپنی لے پالک اسرائیلی ریاست کی برتری کو بر قرار رکھا جا سکے اسی طرح امریکہ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت سے بھی خوف زدہ ہے اسلئے اسکی پےش قدمی کو روکنے کے بہانے دوسرے اقدامات کے علاوہ بھارت میں بے پناہ سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ اسے امریکی مفادات کی حفاظت اور دفاع کےلئے طاقتور بنا کر چین کے خلاف پہلی ڈیفنس لائین کے طور پر کھڑا کیا جاسکے اس پس منظر میں اگر غور کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آجانی چاہیئے کہ پاکستان کیوں اور کیسے امریکہ کے گلے میں ہڈی بن کر پھنسا ہوا ہے ہمارے مفادات امریکی مفادات کے بالکل بر عکس ہیں اسلئے پاکستان کے اندر ڈرون حملے، تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی، بلوچستان میں امریکہ اور بھارت کی کھلی مداخلت اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر بُری نظریں یہ سب ایسے اشارے ہیں جو مستقبل میں ہماری مشکلات میں اور بھی اضافے کا باعث بننے والے ہیں بد قسمتی سے آج پاکستان کی صورت حال کچھ یوں ہے کہ ہماری قوم ان گنت فرقوں میں تقسیم ہو کر آپس میں ہی دست و گریباں ہے روزانہ مار دھاڑ اور قتل و غارت کی خبریں آرہی ہیں کہنے کو تو 200 کے قریب سیاسی جماعتیں موجود ہیں مگر صاحب بصیرت لیڈر شپ کا قحط الرجال ہے حکمران بد نیت اور لٹےرے ہیں عوام غربت اور مہنگائی سے بد حال ہیں ان حالات میں آنے والے وقت کے بارے میں قیاس آرائی سے ہی خوف آنے لگتا ہے اور یہی کہا جاسکتا ہے کہ خدا ہم پر رحم کرے!