سیاستدانوںسے جرنیلوں اور ججوں تک!

18 نومبر 2012
سیاستدانوںسے جرنیلوں اور ججوں تک!


تاریخ ساز اور غیور چیف جسٹس آف سپریم کورٹ افتخار چودھری، سابق چیئرمین سینٹ، منجھے ہوئے پارلیمنٹرین وسیم سجاد، معروف قانون دان، صف اول کے وکیل رہنما، سابق وزیر داخلہ، بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف، یوسف رضا گیلانی کے وکیل اور سدا بہار سیاستدان اعتزاز احسن کے اگر قانونی و آئینی لحاظ سے سینگ پھنسے ہیں تو یہ ملک و قوم اور دستور کے لئے نیک شگون ہے۔ ان تینوں کی ایک واضح تاریخ ہے اور ان میں سے کوئی بھی شہرت، عہدے یا مال و متاع کا بھوکا نہیں ہے، تینوں پر اللہ کا فضل رہا ہے اور ہے۔ تینوں ہی اپنی اپنی جگہ ملک و ملت کی خدمت کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں۔ خواص و عوام اگر ان تینوں کو تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں، تو یقیناً حسن ظن جنم لے گا ....
انہی بے ربط خوابوں سے کوئی تعبیر نکلے گی
انہی الجھی ہوئی راہوں پر میرا ہمقدم ہو جا
اسی طرح جنرل اسلم بیگ (سابق آرمی چیف) کو دیکھیں تو انہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی طرح پارلیمنٹ پر شب خون نہیں مارا۔ اب ذرا ایک نظر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل ہی کی جانب دیکھ لیجئے انہیں کسی حد تک متعصب یا کسی حد تک خود پسند تو کہا جا سکتا ہے لیکن ان کی حب الوطنی اور نیک نیتی پر ذرہ برابر شک ممکن نہیں۔پنجابی کا ایک اکھان ہے کہ ”راہ پئے جانئے تے واہ پئے جانئے“ کچھ چیزوں کے بال کی کھال کسی حد تک اتارنا ہی ضروری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان رونما ہونے والی تبدیلیوں اور اچھے فیصلوں سے مثبت فائدہ اٹھایا جائے اور آئندہ کے لئے اصول و ضوابط کو استحکام بخشا جائے۔ یہ درست ہے کہ ماضی پر حال قائم ہونا ہے اور مستقبل کی تعمیر کی جاتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ ماضی ہی کے رونے روتے روتے حال کو بدحال اور مستقبل کو خراب کر لیا جائے۔
مانا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے رجسٹرار کی پریس کانفرنس کے ذریعے اصغر خان کیس کا فیصلہ سنانا قابل تعریف نہیں اور یہ بھی مان لیا کہ اس سے قبل آرمی چیف کی تقریر کا یوں نشر ہونا بھی قابل ستائش نہیں لیکن جو ہُوا، جیسا ہوا سر بازار ہوا، کتھارسس ہو گیا، سوچنے سمجھنے کی کا خواص و عوام کو کھلا موقع مل گیا، میڈیا کا درست استعمال عمل میں آ گیا، اندر ہی اندر پکنے والے ”پلا¶ اور پڑا¶“ کے ساتھ ساتھ کھچڑی کوئی پوشیدہ نہیں رہی، اور نہ کسی نے ان پکوانوں کو زہر آلود کیا۔ جمہوریت کے اس دور میں لوگوں نے آئین بھی خوف دیکھا اور آئینہ بھی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اداروں سے لے کر سیاستدان تک سیانے ہو جائیں۔ نہ تو کوئی اکیلے آصف علی زرداری رستم زماں ٹھہرے، وہ اے این پی، ایم کیو ایم اور ق لیگ کے بغیر زیرو ہیں اور میاں نواز شریف کو بھی احساس ہو گیا کہ مسلم لیگوں کا اتحاد ضروری ہے، انہوں نے ق لیگ کے لئے دروازے کھولے نہیں بلکہ کھولنے پر مجبور ہو گئے تھے، انہیں احساس ہو گیا کہ خالی شہباز شریف اور چند دیگر ن لیگی کافی مسلم لیگ نہیں اور اتحاد و تدبر کے بغیر وہ بھی ہیرو نہیں۔ سیاست کے سب آمیزوں اور مرکبات کے دودھ کے دودھ اور پانی کے پانی الگ ہو چکے۔
(i) کیا اتنا کافی نہیں کہ جرنیلوں اور سابق آرمی چیف کے خلاف فیصلے آئے؟ دیر آید درست آید لیکن اصغر خان کیس کا فیصلہ آیا نہیں کیا؟ (ii) جہاں حکومت نے من مانی چھوڑی کیا سوئس بینک یا سوئس ایڈمنسٹریشن کو خط لکھنے کا راستہ ہموار نہیں ہوا اور اسے عملی جامہ نہیں پہنایا گیا؟ (iii) کیا آرام سے ایک وزیراعظم عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے گھر نہیں گیا اور جمہوریت کا بال بیکا ہوئے بغیر اور بغیر کسی آرمی چیف کی مداخلت سے نیا وزیراعظم نہیں آ گیا؟ (iv) کیا میڈیا کا بول بالا نہیں ہے؟ (v) کیا رینٹل پاور کیس کا کچا چٹھا نہیں کھلا؟ (vi) اپوزیشن اور حکومت کے اتفاق سے مثبت آئینی ترامیم نہیں ہوئی اور کیا غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر لانے کا کامیاب عمل وجود میں نہیں آیا؟ (vii) کیا وکلاءکی محنت رنگ نہیں لائی تھی، حکومت مخالفت کے باوجود کیا آزاد عدلیہ نے بحالی کے بعد وقار نہیں پایا؟ (viii) اپوزیشن لیڈر کو اختیار اور وقار ملا، پارلیمانی کمیٹیوں کے سربراہان کو تفتیش اور تنقید کے مواقع ملے۔ کیا انہوں نے ایکشن نہیں لئے؟
یہ سب کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جہاں جہاں عقل و دانش، اتفاق اور حب الوطنی کو مدنظر رکھا گیا، وہاں وہاں مثبت تبدیلیاں نظر آئیں۔ باہمی گفت و شنید، صلاح و مشورہ اور صبر و تحمل کے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ ارتقائی صورتحال بہرحال مایوس کن نہیں اور ”انقلاب“ کے ہم متحمل نہیں۔ دنیا کے سپر صدر، امریکی صدر اوباما نے کامیابی و کامرانی کے بعد بڑھکیں ماری ہیں نہ غرور سے بھنگڑے ڈالے، اس کے جملوں میں نہ رانا ثناءاللہ کا رنگ تھا اور نہ کسی شرجیل میمن سا بازاری سٹائل۔ اوباما نے کہا ہر امریکی اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے میں ہی بہتری ہے اور ہم سب ایک فیملی ہیں۔ ہارنے والے رومنی نے جاندار سپورٹس مین سپرٹ سے شکست تسلیم کی۔ وہاں بھی سی آئی اے کا اپنا کام اور پینٹاگون کا اپنا کام ہے۔ عدالتیں اپنی جگہ مستحکم ہیں، تبھی تو امریکہ توانا ہے۔
ہاں جہاں ہم نے تساہل سے کام لیا اور تقسیم رہے وہ ڈرون حملوں کا معاملہ ہے اور نیٹو سپلائی لائن کی بات ہے وہ ایبٹ آباد آپریشن کا زخم ہے اور کالا باغ ڈیم کا قصہ ہے۔ ہاں، وہ کشمیر پالیسی ہے اور بلوچستان کا مسئلہ ہے۔ یہاں سستی اور دیکھیں کہ امریکہ کی من مانی اور منشا کے سامنے ہم سر تسلیم خم رہے۔ ن لیگ اور پی پی پی سمیت بڑی سیاسی جماعتیں امریکہ پر تکیہ کرنے سے باہر نہیں آ سکیں، بے شک جو بھی کہیں توانائی کا بحران ہماری معیشت کو 20 سال پیچھے لے گیا، ہم اندھیر نگری بن گئے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان چیزوں میں بھی اتفاق رائے کے دریچے کھلتے۔ نہیں کھلے تو معاشی ترقی کے دروازے بند ہو گئے۔
عدالت نے بہت کچھ کر دیا، آرمی نے مثالی صبر و تحمل سے مظاہرہ کیا اور میڈیا نے کردار نبھا دیا۔ اب سیاستدان غرور، تکبر اور حرص و ہوس سے نکلیں، اقتدار میاں نواز شریف نے بہت انجوائے کر رکھا ہے اور پی پی پی والوں نے بھی، اب اس قوم اور اس ملک کو کچھ انجوائے کرائیں۔ اے اہل چمن دیکھا نہیں کیا وزن ضیاالحق کی قبر پر گیا اور غلام اسحاق خان کی قبر پر بھی اور ابھی کچھ فیصلے آنے والے ہیں۔ پھر دیکھا نہیں جلاوطنی اگر میاں نواز شریف نے گزاری تو در بدر جنرل (ر) پرویز مشرف بھی ہے اور اس دنیا سے آخرت کی دنیا میں آصف علی زرداری سے میاں نواز شریف تک نے بھی قدم رکھنا ہے اور مکافات عمل اسی دنیا میں ہے، یہ سب دیکھا ہوا ہے جیلوں میں جانے والوں نے اور دیار غیر میں وقت گزارنے والوں نے بھی.... میٹھا میٹھا ہپ، کڑوا کڑوا تھو والا معاملہ سیاستدانوں نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ساتھ بھی کیا اور آرمی چیف کی تقریر کے بھی ساتھ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن سر پر ہونے کے ناطے انتخابی پابندیوں کا ہتھیار تو نہ استعمال کیا جائے لیکن عوام بہرحال شعور کا استعمال کریں۔ ایک فیصلہ تو عدالت نے اصغر خان کیس کے حوالے سے کیا ہے، کچھ فیصلے اس سے قبل بھی ہوئے ہیں، اب ایک فیصلہ عوام کریں --- عوام! اس آنے والے الیکشن میں! کچھ جرنیلوں پر ”مٹی“ ڈل چکی ہے اور کچھ سیاستدانوں پر بھی ....اب نیا قدم بڑھانے اور نیا عزم دکھانے کی ضرورت ہے۔ جرنیل ہوں کہ جج یا سیاستدان جب تک وین میں پورے کے پورے داخل نہیں ہوں گے تب تک یہی کچھ ہوتا رہے گا۔ کب تک اور کتنے مُردے اکھاڑیں گے؟