ٹریفک پھنسے رہنے کا علاج

18 نومبر 2012

مکرمی! لاہور شہر میں ٹریفک کے جگہ جگہ جام کو روکنے کے لئے ٹریفک وارڈنوں کے معاونین ٹریفک سکاﺅٹس کا تقرر کر دیا جائے تو ٹریفک کا بہاﺅ بلارکاوٹ چل سکتا ہے۔ میٹرک اور ایف اے پاس بے روزگار نوجوانوں کو ٹریفک سکاﺅٹس بھرتی کیا جائے۔ ایک ہزار ٹریفک سکاﺅٹس کو ماہانہ پانچ ہزار روپے فی کس دئیے جائیں تو یہ کوئی بڑی رقم نہیں ہے۔ اس طرح شہر کے ہر چوراہے پر چار وارڈنوں کے ساتھ چار ٹریفک سکاﺅٹس کھڑے ہوں گے تو کسی سڑک پر ٹریفک نہیں پھنسے گی۔
(عروبہ ہاشمی لاہور)