وزیر داخلہ بلا امتیاز و بلا تفریق کاروائی کو یقینی بنائیں

18 نومبر 2012

مکرمی! وزیر داخلہ رحمان ملک نے کراچی میں امن و امان کے حوالے سے کابینہ کو بریفینگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’حکومت نے سینکروں دہشت گردگرفتار کئے ہیں مگر ججوں نے اپنے اہلِ خانہ کو لاحق خدشات کی وجہ سے تین ماہ کے اندر سب کو رہا کر دیا۔ ‘ موصوف وزیر صاحب نے اپنے سیاسی مخالفین پر دہشت گردوں کی سیاسی پشت پناہی کا الزام بھی لگا یا ہے۔حیرانی تو اس بات پر ہے کہ کیا اس ملک کا وزیر داخلہ اس درجہ کمزور ہے کہ وہ ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لئے سیاسی دباﺅ نہیں برداشت کر سکتا۔ وزیر صاحب نے ججز پر تو الزامات لگا دئےے ہیں مگر اپنی، حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری کو پس پشت ڈال دیا ہے کہ کبھی بھی عدالت کے سامنے ٹھوس ثبوت نہیں پیش کئے گئے اور اگر وزیر صاحب یہ سمجھتے بھی ہیں کہ عدالتی یا انصاف کے نظام میں کوئی خرابی ہے تووہ اس وقت حکومتی ایوانوں میں موجود ہیں انہیں چاہیے کہ اپنا موقف اپنی پارٹی کے سامنے پیش کریں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر آئین میں کوئی مثبت تبدیلی کریں جس سے موجودہ قانونی نظام کے سقم دورکئے جا سکیں ناکہ اپنی کمزوری چھپانے کے لئے عدلیہ پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں۔اگر کراچی پولیس کی ہی بات کر لی جائے تو یہ بات اب کسی سے کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ زیادہ تر بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہیں اور یہ ہی امن و امان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ جناب وزیر داخلہ صاحب اگر واقعی امن و امان کے حوالے سے سنجیدہ ہیں تو کراچی میں بلا تفریق و بلا امتیاز کاروائی کا آغاز کردیں انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ اصل خرابی کہاں ہے۔
(اویس حفیظ ۔ شعبہ علومِ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی لاہور)

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...