دشمنوں کو اپنی صفوں میں گھسنے کا موقع نہ دیں

18 نومبر 2012

مکرمی ! میرا یہ مراسلہ لکھنے کا سبب پروفیسر تقدیس گیلانی کے لکھے گئے کالم میں ذکر کئے گئے جموں کشمیر کے مستری عطا محمد کی چھ بیٹیوں کی اپنی عزت بچانے کی خواہش میں خود اپنے والد سے قتل کر دینے کی التجا اور باپ کے اس التجا پر عمل کرنے اور پھر اسی خون سے گھر کی دیوار پر پاکستان زندہ باد لکھنا بنیادی طور پر اس کالم کے لکھنے کا سبب بنا، تاہم ساتھ ہی اپنی عدلیہ اور پاک آرمی کے چیف جسٹس کے بیان نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ اس تمام صورتحال پر میری رائے کچھ یوں ہے : یہ اس وقت کی بات ہے جب میں نے ہوش سنبھالا اور سکول جانا شروع کیا تو ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں میں پڑھنا شروع کیا کہ پاکستان بڑی محنت اور قربانیوں سے حاصل ہوا، انکار نہیں مگر جب میں نے شعور کی آنکھ کھولنا شروع کی تو غور کیا کہ میرے گھر میں میرے والد صاحب نے پاکستان بنانے میں کیا کردار ادا کیا تو مجھے کچھ نظر نہ آیا پھر میں نے اپنے دادا کی طرف دیکھا تو ان کی زندگی بھی گھڑ سواری کے آگے پیچھے گھومتی نظر آئی۔ بعد ازاں میں نے اپنے محلہ اور گا¶ں کے ارد گرد دیکھنا شروع کیا تو قربانیوں کا سلسلہ نظر نہ آیا۔ پھر اس سوال کو لئے میں ایک عمر پھرتا رہا اور سوچتا سمجھتا رہا اور پھر جو سمجھا کتنا صحیح ہے آپ پر چھوڑتا ہوں۔ پاکستان بنانے میں آج کے ہندوستان میں رہتے مسلمانوں کا کردار اور محنت نظر آتی ہے۔ بلاشبہ قائداعظم کی بصیرت سے کون انکار کر سکتا ہے یقیناً پاکستان کے بننے میں وہ بڑا سبب بنے اور پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد کمزور ہوتے برطانیہ کی خود سے ضرورت اور پھر سب سے بڑھ کر خداوند کریم کی مہربانی یعنی آج کے پاکستانی ماسوائے ان پاکستانیوں کے جو ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے۔ مجموعی طور پر کیونکہ اس خطے میں مسلمان اکثریت میں تھے لہٰذا اپنے معاملات میں نسبتاً اُس کرب کا شکار نہ تھے جس کرب کا شکار مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان کے مسلمان تھے اور ہیں لہٰذا ملک تو آزاد ہوا قوم آزاد نہ ہوئی۔ اب جب اس خطہ پاکستان کے لوگوں میں ملک اور مملکت میں اپنے حقوق کے حوالے سے شعور بیدار ہوا ہے اور ان حقوق کو لینے کے لئے خواہش اور کوشش بھی نظر آتی ہے بدلے میں غلامی کی گرہیں بھی کھلنا شروع ہوئی ہیں تاہم احتیاط کی سخت ضرورت ہے۔ قوم کی اس مثبت کاوش کو غلط سمت دینے کے لئے پہلے سے بیرونی عناصر ہمارے اداروں کی تاک میں لگے بیٹھے ہیں (خصوصا) دفاعی ادارے جو پہلے ہی ایک خاص قسم کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ساتھ ہی دبا¶ بھی برداشت کر رہے ہیں ۔ اندریں حالات ضروری ہے کہ ماضی کا گند ہم خود ہی صاف کر لیں۔صرف خلوص نیت کی ضرورت ہے تاہم جس چیز پر کمپرومائز کرنا ناممکن ہے وہ ہمارا آج اور کل محفوظ اور صاف ستھرے ہاتھوں میں ہونا ضروری ہے یقیناً اس کے لئے مضبوط اور بااختیار احتساب کے ادارہ کا وجود میں لایا جانا ضروری ہے۔ (ایم اکمل چودھری)