غزل

18 نومبر 2012

جس طرف بھی دیکھئے نمرود ہے مردود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
رات کے پچھلے پہر، ٹھہرو ذرا ٹھہرو ذرا
جا¶ گے اب تم کہاں، یاں ہر سماں موجود ہے
تیری دنیا پر کبھی غم کی لکیریں آئیں نہ
میرے گھر میں دیکھ لو یاں ہر فغاں موجود ہے
بات دل کی کہنے کو اپنی ہی ماں بولی بہت
ورنہ یاں تو غیر کی بھی ہر زباں موجود ہے
(نجمہ پروین نجمی)