لاوا پک رہا ہے

18 نومبر 2012

حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کو ہے الیکشن کمیشن نے انتخابی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم شروع کرچکی ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کے سلسلے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اربوں روپے کی پروپیگنڈہ مہم جاری ہے ۔ اس کے باوجود انتخابات کی بجائے دو سال کی ٹیکنو کریٹ حکومت کے دعویدار ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ چند روز ہوتے ہیں سچے اور کھرے پاکستانی ٹیک کلب لاہور کے صدر زبیر شیخ نے ائیر مارشل (ر) شاہد لطیف کے ساتھ چند سینئر صحافیوں اور دانشوروں کی ملاقات کا اہتمام کیا۔ شاہد لطیف ٹیکنو کریٹ حکومت کے سرگرم وکیل کے طور پر سامنے آئے ہیں انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران پاکستان کا مقدمہ بڑی مہارت سے پیش کیا۔ ان کے خیال میں انتخابات پاکستان کے موجودہ مسائل کا حل نہیں ہیں۔ اول تو جناب آصف علی زرداری ہر ممکن کوشش کریں گے کہ وہ انتخابات کو ایک سال کے لیے ملتوی کردیں اور اگر انتخابات مقررہ وقت پر ہوبھی جائیں تو یہی چہرے دوبارہ منتخب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچ جائیں گے۔ یہ چہرے چونکہ نا اہل اور بدنیت ہیں لہذا ان سے خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ائیر مارشل (ر) شاہد لطیف کی رائے میں پاکستان کی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ۔ پاکستان کا معاشی مرکز کراچی سنگین بحران کا شکار ہے ۔ کوئٹہ میں حکومت کی آئینی رٹ ختم ہوچکی ہے ۔ خیبر پختونخواہ دہشت گردی کی وجہ سے حالت جنگ میں ہے ۔ پاکستان دشمن عالمی طاقتیں پاکستان کو تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ ان حالات میں ایک اہل، دیانتدار اور مضبوط حکومت کی ضرورت ہے ۔ جو سیاست کا گند صاف کرسکے اور معیشت کو بحال اور مستحکم کرسکے۔ ٹیکنو کریٹ حکومت کے علمبرداروں کی خواہش یہ ہے کہ سپریم کورٹ بلوچستان حکومت کی طرح وفاقی حکومت کو نا اہل قراردے کر گھر بھیج دے اور الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کی نگرانی میں 20 سے 25 وفاقی وزراءپر مشتمل ٹیکنو کریٹ حکومت تشکیل دے جو انتخابی اصلاحات اور احتساب کے بعد الیکشن کرائے تاکہ اہل اور دیانتدار افراد اقتدار میں آسکیں۔
ایک دانشور نے سابق ائیر مارشل سے سوال کیا کہ ٹیکنو کریٹ حکومت کو عوام کی تائید اور حمایت کیسے حاصل ہوگی اور کیا پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں مزاحمت نہیں کریں گی۔ انہوں نے بڑے اعتماد سے کہا کہ بڑی جماعتوں کے مرکزی لیڈر پاکستان سے باہر چلے جائیں گے اور عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری، جماعت اسلامی کے امیر منور حسن اور چھوٹے صوبوں کے قوم پرست لیڈر ٹیکنو کریٹ حکومت کی حمایت اور تعاون کے لیے تیار ہوجائیں گے۔ کالم نویسوں اور دانشوروں کی اکثریت نے سابق ائیر مارشل کی رائے سے اتفاق نہ کیا اور انتخابات کو ہی محفوظ آپش قراردیا۔ افواج پاکستان کے با اثر ریٹائرڈ جرنیل اپنے قریبی رفقاءکو بتا رہے ہیں کہ فوج کے سینئر جرنیل سخت دباﺅ بلکہ غصے میں ہیں ۔ اس غصے کا اظہار سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے خطاب میں بھی کیا اور تمام اداروں اور حلقوں کو احتیاط اور اعتدال کا مشورہ دیا تھا۔ سپہ سالار کے اس صائب مشورے کے بعد بھی کشیدگی اور تناﺅ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ پاک فوج حالت جنگ میں ہے ۔ سیاچین کے 140 کے قریب فوجی شہیدوں کا خون ابھی تازہ ہے ۔ فاٹا میں فوجیوں کو اغواءکرکے ان کے سر کاٹے گئے۔ ان حالات میں پاک فوج کو قوم کی ہمدردی اور تعاون کی ضرورت ہے مگر کچھ عناصر فوج کے بارے میں بدگمانیاں پیدا کررہے ہیںق۔ ایک ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم نے دوسال گزرنے کے بعد سپہ سالار کی ملازمت میں توسیع کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے جسے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا ہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار نے سپہ سالار کے بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے جس سے قوم نے اتفاق نہیں کیا۔ چیف جسٹس پاکستان اور دوسرے جج اپنے خیالات کا برملا اظہار تسلسل سے کررہے ہیں۔ ایک دانشمند جسٹس (ر) سردار رضا خان کی یہ رائے درست اور مستند ہے کہ ”ججوں سے یہ توقع نہیں کہ وہ غیر ضروری بات کریں گے“۔ غیر ضروری باتیں اشتعال پیدا کررہی ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کو اکبر بگٹی قتل کیس کا سامنا ہے وہ فوج کو سگنل بھیج رہے ہیں کہ آئین قومی مفاد سے بالا نہیں ہے جبکہ درجن بھر سینئر ریٹائرڈ فوجی جرنیل کرپشن، آئین شکنی اور بے ضابطگیوں جیسے الزامات کی زد میں ہیں۔ ریٹائرڈ جرنیل پاک فوج کے ادارے کے پیچھے چھپنے کی کوشش میں حاضر سروس فوجی افسروں کو مشتعل کررہے ہیں۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ریٹائرڈ اور حاضر سروس عسکر ی اشرافیہ سخت بے چین اور مضطرب دکھائی دے رہی ہے ۔ قابل اعتماد ذرائع کے مطابق لاوا پک رہا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے ۔اسلام آباد میں چیف جسٹس پاکستان کے خلاف جوڈیشل ریفرنس دائر کرنے کی افواہیں گرم ہیں۔ان حالات میں سیاست دانوں کو بلوغت کا مظاہرہ کرکے انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا چاہیئے مگر افسوس کہ قومی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ کرپٹ سیاستدان آئین اور قانون کا سامنا کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تجربہ کار معتدل اور سنجیدہ پارلیمنٹیرین خورشید شاہ نے ڈی جی ایف آئی اے کو ہتھکڑی لگا کر پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا غیر متوقع بیان جاری کردیا۔ سندھ اسمبلی کے اراکین نے بھی انتہائی افسوسناک رویے کا مظاہرہ کیا ہے ۔ سیاستدانوں کی نالائقیاں جمہوریت کے عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہیں اور وہ خود ہی اپنے پاﺅں پر کلہاڑا مار سکتے ہیں۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری اگر جلد انتخابات کا اعلان کردیں تو لاوا پھٹنے کے امکانات کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکتا ہے ۔ تمام سیاسی جماعتیں گول میز کانفرنس کرکے انتخابی عمل پر اتفاق رائے کا اظہار کریں۔ جنگ میں مصروف فوج کو مایوس کرنے والے تمام ہتھکنڈے اور حربے بند ہونے چاہئیں۔ پاک فوج ہماری آزادی اور سلامتی کا ادارہ ہے عوام کو پاک فوج کے ساتھ ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہنا چاہیئے۔ جرنیل اور سیاستدان مردانگی کے ساتھ احتساب کا سامنا کریں اور اپنے جرائم چھپانے کے لیے اداروں کو ڈھال بنانے کا رویہ ترک کردیں۔صاف اور شفاف انتخابات ہی موجودہ مسائل کا واحد حل ہیں....
وہی بے سود تجسس وہی بے کار سوال
مضمحل ساعتِ امروز کی بے رنگی سے
یاد ِماضی سے غمیں، دہشتِ فردا سے نڈھال
تشنہ افکار جو تسکین نہیں پاتے ہیں