امریکہ ٹوٹنے سے بچ پائے گا ؟

18 نومبر 2012

کالے صدر کے انتخاب پر امریکی گورے غصے سے لال پیلے ہوئے۔ جمہوری اقدار کا احترام لازم ہے۔ ویسے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ اگلے چار سال وہ اوباما کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔ اشتعال اور اُبال میں کچھ اور تو نہ کر سکے فوری طور پر 20 ریاستوں نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے وفاق سے الگ ہونے کی آئین میں گنجائش کے مطابق وائٹ ہا¶س کو درخواست دیدی۔ 6 نومبر کو صدارتی انتخابات ہوئے 9 نومبر کو علیحدگی کی سوچ سامنے آئی جو اب باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ معمولی معاملے کو ہوّا بنا کر پوری دنیا میں طوفان اٹھا دینے والا امریکی اور اس کے زیر اثر مغربی میڈیا اس معاملے میں خاموش ہے۔
ایک عمل ایک بار، بار بار یا ہزار بار بھی دہرایا جائے، اس کے ردّعمل میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔ معیشت ڈوبے تو بہت کچھ ڈوب جاتا ہے۔ شعبے، ادارے، معاشرے، ریاستیں اور سلطنتیں بھی۔ پہلی جنگ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ معیشت کی زبوں حالی کے باعث ٹوٹی تو یہی قہر سلطنتِ برطانیہ پر دوسری جنگِ عظیم میں ٹوٹا۔ ایک ہی ردعمل کا ایک جیسا ردعمل۔ برطانیہ بھی معیشت کے زوال پذیر ہونے پر سکڑا اور سمٹ کر محدود ہو گیا۔ روس کو اپنے سپر پاور ہونے کا زعم تھا اس کی معیشت افغانستان پر قبضے اور مجاہدین سے جنگ میں لڑکھڑائی اور زمین بوس ہو گئی۔ ایک ہی عمل کا یکساں ردعمل جہاں بھی دیکھنے کو ملا اور بالآخر وہ بھی ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ افغانستان سے پوری تار یخ میں کبھی کوئی جارح سرخرو ہو کر نہیں گیا۔ اس کا سب سے زیادہ تجربہ تاجِ برطانیہ کو ہے۔ امریکہ نے آزادی برطانیہ سے حاصل کی تھی۔ برطانیہ نے امریکیوں کو حقِ آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا تھا۔ امریکہ کی آزادی سے انگریزوں کے بدن میں ایک تیر پیوست ہو گیا تھا جس کی ٹیس تو ختم ہو گئی ہو گی زخم بھی مندمل، لیکن نشان تو نہیں مٹ سکتا۔ امریکی شاید صدیوں تک دنیا کی واحد سپر پاور کا سٹیٹس انجوائے کرنے کے خواب دیکھ رہے ہوں لیکن اب یہ بے تعبیر ہوتے نظر آ رہے ہیں جس کے پیچھے تدبیر برطانیہ کی ہو سکتی ہے۔ برطانیہ نے امریکہ کو اس کے شانہ بشانہ ہو کر افغانستان کی دلدل میں لا پھینکا جہاں سے کبھی کوئی حملہ آور سرخرو ہو کر نہیں لوٹا۔ برطانیہ سمیت آج افغان جنگ کے سبب امریکہ کی معیشت ڈوب چکی ہے۔ ہر عمل کا یکساں ردعمل، سلطنت عثمانیہ و برطانیہ اور سوویت یونین معیشت ڈوبنے سے ڈوبے اور اب امریکہ بھی سپر پاور کے طور پر غروب ہوتا نظر آتا ہے۔
امریکی اعلان آزادی میں ریاستوں کو وفاق سے الگ ہونے کا آپشن دیا گیا ہے۔ ایک ریاست کے 25 ہزار افراد دستخط کر دیں تو وائٹ ہا¶س کو اس ریاست کی درخواست پر غور کرنا ہوتا ہے، نہ صرف آزادی کی محرک ریاستوں میں سے 7 ریاستوں کی مطلوبہ تعداد نے دستخط کر دئیے ہیں بلکہ مزید دس ریاستوں کی طرف سے بھی آزادی کا مطالبہ آ گیا ہے ان میں مزید اضافہ بھی عین ممکن ہے۔ امریکہ ، سوویت یونین کے ٹوٹنے سے واحد سپر پاور بنا۔ وہ اپنی حیثیت صدیوں تک برقرار رکھ سکتا تھا مگر اس کو تکبر اور غرور لے ڈوبا۔ اس کی واحد سپر پاور ہونے کی عمر بلبلے کی زندگی سے زیادہ ثابت نہ ہوئی۔ اس نے اپنی طاقت کو انسانی فلاح، بہبود اور بھلائی کے بجائے دنیا پر تھانیداری، انسانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے اور انسانیت کا گلا دبانے کیلئے استعمال کیا۔ عراق کے پاس اول تو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے ہی نہیں اگر تھے بھی تو کیا باقی دنیا ایسے مطلقاً ہتھیاروں سے پاک ہے؟ ”ایران کو ایٹمی طاقت نہیں بننے دیں گے“ جیسے بیانات بھی ان کے تکبر اور کرہ¿ ارض کا نظام اپنی خواہش کے مطابق چلانے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کائنات کا نظام قدرت کاملہ کی مرضی سے چلتا ہے انسان ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انجام نمرود، شداد اور فرعون و قارون جیسا ہونا ہی مقدر ہے۔
امریکیوں کے دل و دماغ میں وفاق سے علیحدگی کی سوچ پیدا ہونے کی وجہ امریکہ کی ڈوبتی ہوئی معیشت ہی ہے۔ ہر امریکی جنگجو نہیں ہے اس کے باوجود اسے ایسی جنگ کیلئے ٹیکس دینا پڑتا ہے جس میں معصوم بچوں اور خواتین سمیت لاکھوں کی تعداد میں بے گناہ افراد مارے گئے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ امن کی خواہش رکھنے والے امریکی سینڈی طوفان کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے لگایا جانے والا ٹیکس تو خوشدلی سے ادا کر دیں گے۔ انسانیت کے قتل کیلئے ٹیکسدیتے ہوئے وہ ضرور سوچتے ہوں گے۔ یہ سوچ آج آزادی کی صورت میں سامنے آ گئی ہے۔ یقیناً امریکہ کے ٹوٹنے کی بنیاد پڑ گئی ہے اور اس کی وجہ بھی افغانستان کی دلدل ہے جس میں امریکہ کی معیشت ڈوبی۔ ایک عمل کا ایک جیسا ہی ردعمل ہوتا ہے یہ عمل ایک بار ہو یا ہزار بار ہو۔
امریکی ایف بی آئی نے اپنے میڈیا کو نکیل ڈال کر سی آئی اے سربراہ پیٹریاس کا سکینڈل صدارتی انتخابات سے قبل طشت ازبام ہونے سے بچا لیا جس سے اوباما شکست سے بچ گئے۔ اوباما ہار گئے ہوتے تو امریکیوں کے ذہن میں وفاق سے علیحدگی کا خیال تک نہ آتا، یہ اہتمام نادانستگی میں خود ایف بی آئی نے کر دیا۔ روس کو سازش کرنی پڑی نہ ایران یا کسی اور ملک کو کوئی کردار ادا کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا۔
افغانستان میں نئے امریکی کمانڈر جنرل جوزف نے دعویٰ کیا ہے کہ 2014ءکے بعد بھی امریکی افواج کا افغانستان میں قیام ضروری ہے۔ امریکہ میں علیحدگی کی لہر چل نکلی ہے اس پر امریکی میڈیا کی لاتعلقی کے باوجود امریکی انتظامیہ سُکھ کا سانس نہیں لے سکتی۔ 2014ءکے بعد امریکیوں کا افغانستان میں نام و نشان ملنا بھی محال ہو گا ۔ امریکی ریاستوں نے بڑے مہذبانہ اور پُرامن طریقے سے سوا دو سو سال قبل دیا گیا حق مانگا ہے، اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں یا وہی رویہ اختیار کیا گیا جو برطانیہ نے امریکیوں کے ساتھ آزادی مانگنے پر اختیار کیا تھا تو انہی امریکیوں کی نسل بھی وہی کچھ کرے گی جو 18ویں صدی کے وسط کے بعد ان کے آباءنے کیا تھا البتہ ان کے سامنے اب ہزاروں میل دور کے گورے نہیں اپنے ہی ملک کے گورے، کالے اور پیلے ہوں گے۔ نتیجہ کیا ہو گا ؟ یکساں ردعمل۔ وہی جو 4 جولائی 1776ءکو انگریزوں سے آزادی کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ تاریخ پر نظر رکھنے والے وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ اب امریکہ کو بکھرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ شاید ایک امریکہ سے پچاس امریکہ بن جائیں۔