یورپی یونین کی دفاعی حکمت عملی

18 نومبر 2012

یورپی خارجہ پالیسی کا یہ اہم اور بنیادی نقطہ ہے کہ آیا یہ یورپ کی خارجہ اور دفاعی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔ ایک عشرہ پہلے یہ اگر ان تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں تھی تو آنے والے برسوں میں بدلتے ہوئے حالات میں موقع محل کی مناسبت سے کتنی برمحل ثابت ہو گی۔ موقع محل سے مطابقت رکھنے والی پالیسی کا یہ نظریہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ایک رہنما اصول بن سکتا ہے۔ پاکستان کو اس کا ابھی سے آغاز کر دینا چاہئے۔ یورپی یونین اور پاکستان کے مابین پنج سالہ روابط کا منصوبہ اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی طرف پہلا قدم ہے جس کی کامیابی کا دارومدار زیادہ تر پاکستان کے ملکی محاصل کے ڈسپلن پر ہو گا۔ یورپ کے بعض ملکوں میں اس امر کا واضح احساس موجود ہے کہ ایک مشترکہ مقصد اور نصب العین کی موجودگی ضروری ہے۔ یہ سوچ اور احساس ستمبر کے مہینے میں اس وقت پوری طرح واضح ہو کر سامنے آیا جب گروپ نے ایک بارہ صفحات پر مشتمل سفارشات کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین کو عالمی سطح پر ایک حقیقی قوت بنانے کے لئے ہمارے خارجہ اور سیکورٹی پالیسی کے تمام فیصلے باہمی رضامندی سے اکثریتی فیصلے ہونے چاہئیں۔ اس کے برعکس برطانیہ اور فرانس ملکی اور قومی مفاد میں آزادانہ خارجہ پالیسی کے فیصلے کرنے کے حامی ہیں اور یونین کے مابین پیدا ہونے والے تنازعات میں اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں تاہم اہم بات ہے کہ ایک مشترکہ تشخص کے لئے تلاش کی کوششوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ اس سوچ اور احساس کے پیش نظر کہ اتفاق اور یکجہتی تمام ریاستوں کے مفاد میں ہے، اس لئے یورپی یونین کی طرف سے اس دشوار اور کٹھن منزل کے حصول کے لئے کوششوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یورپ مختلف قوموں کا ایک مجموعہ ہے جو ایک مشترکہ قومی تشخص کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ مشترکہ قومی تشخص ملنے کے فوراً بعد جداگانہ قومی خود مختاری کا نظریہ ہوا ہو جائے گا کیونکہ مشترکہ خارجہ اور دفاعی پالیسی کے ثمرات حقیقی صورت میں سامنے آنے کے بعد اس طرح کا قدم اٹھانا آسان نہ ہو گا کہ دشمن کی طرف سے یورپی یونین کی دفاعی لائنوں پر حملے کی صورت میں اس مشترکہ دفاعی پالیسی پر عملدرآمد کی ضرورت اور اہمیت دوچند ہو گی۔ پاکستان، یورپی یونین روابط کا منصوبہ بڑا بامعنی اور متوازن ہے۔ اس کا تنقیدی تجزیہ توکریں۔ اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے خارجہ اور سیکورٹی معاملات کے حوالے سے فریقین کو سٹرٹیجک ڈائیلاگ کا عمل اعلیٰ سطح پر ریگولر بنیادوں پر جاری رکھنا ہو گا۔ یہ ملاقاتیں باہمی تجارت، سرمایہ کاری، گڈ گورننس اور قومی سلامتی سے متعلقہ امور پر مذاکرات کی محض علامتی ملاقاتیں نہیں ہوں گی بلکہ ان کی روشنی میں تمام مشترکہ اقدامات کے لئے بنیادی اور رہنما اصول مرتب ہوں گے۔ موجودہ تعلقات کے حوالے سے اس وقت پاکستان کے لئے یورپی یونین کی طرف سے 2010ءکے سیلاب متاثرین کے لئے امداد کی ترسیل قابل ذکر ہے۔ خیر سگالی کے اس مظاہرے کی روشنی میں پاکستان کو تعلقات کے استحکام دہشت گردی اور منشیات کے خلاف اقدامات اور سیکورٹی معاملات میں پیش رفت کے لئے سوچنے اور مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو پاک یورپین یونین منصوبے کے مطلوبہ نتائج اور ثمرات حاصل نہ ہونے کی بڑی وجہ موجودہ پاکستانی قیادت کی خامیاں اور کمزوریاں ہیں۔ یورپی یونین ایک مشترکہ خارجہ پالیسی کی تشکیل کے لئے سرگرداں ہے۔ ان کے کرتا دھرتاﺅں نے اس سال کے شروع میں مالی معاملات کو متحرک کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ ایک طرح سے زیادہ اور زیادہ کے اصول پر مبنی تھی۔ اس سے ان کے ان خیالات کی عکاسی ہوتی تھی کہ وہ اپنے موضوعات کے ساتھ جمہوریت کی جڑیں گہری کرنے اور اس کا استحکام چاہتے ہیں۔ یورپی طاقتیں اس کی روشنی میں شام لیبیا، ایران اور دوسری مسلمان ریاستوںمیں اپنی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ یورپی یونین کی لیبیا میں مداخلت نے ثابت کر دیا کہ وہ فوجی معاملات ازقسم ایندھن کی فراہمی، حملے کے لئے اہداف کے تعین اور مواصلاتی نظام کو جام کرنے جیسے کاموں کے لئے امریکہ کی محتاج اور دست نگر ہے۔ پاکستان، افغانستان کے علاقائی تناظر میں جو بات سب سے اہم ہے۔ وہ یہ دیکھنا ہے کہ امریکہ کے ڈیفنس بجٹ میں نمایاں کٹوتی ہونے سے یورپی یونین کو مستقبل میں بھی دشواریوں کا نہ صرف سامنا جاری رہے گا بلکہ یہ ماضی کی نسبت زیادہ شدید ہوں گی۔ پاکستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی میں اشتراک بڑی اور چھوٹی طاقتوں کے ساتھ الحاق کے موقع پر زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ یورپی یونین کے کردار کو اس طرح محدود کرنے کی مثالیں کئی ہیں۔ دفاع کے لئے وسائل کو یکجا اور اکٹھا کرنے کی باتیں صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔ دفاعی اخراجات میں کمی نے عملی اقدامات کی راہ میں کئی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ سیکورٹی سائیڈ پر یہ بات یقینی ہے کہ افغانستان سے نیٹو کے انخلا کے بعد امریکہ کے یک قطبی کردار پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کو اپنی سلامتی کو یقینی بنانے اور افغانستان میں انڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار کے پیش نظر یورپی یونین کے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ اپنے معاملات کو درست سمت میں آگے بڑھانا ہو گا۔