برمی مسلمانوں کی حالت زار .... کب تک ؟

18 نومبر 2012

سوشل میڈیا سمیت عالمی مطبوعہ و برقی میڈیا پر آئے روز برما میں مسلمان کمیونٹی پر روا رکھے گئے حکومت و عوامی جو رو استبداد کی تصویریں پیش کی جا رہی ہیں۔ کشمیر، فلسطین، چیچنیا سمیت کئی علاقے جہاں مسلمان آبادی مذہبی منافرت کا شکار قابل رحم زندگی گزار رہی ہے وہاں ایک تاریخ رقم ہو رہی۔ برما (میانمار) میں مسلمانوں کی حالت زار کی داستان بھی تاریخی ہو چکی ہے۔ تاریخی حوالے بتا ر ہے ہیں کہ مغل شہنشاہ خرم شاہجہان کا بیٹا شاہ شجاع برما چلا گیا تھا۔ برما کے اس وقت کے بادشاہ سامٹھا سدھاما نے لالچ میں آ کر شاہ شجاع کو قتل کروا دیا اور اس کی دولت پر قبضہ کر لیا۔ برما کے مسلمانوں نے شاہ شجاع کے حق میں جب احتجاج کیا اور سامٹھا سدھاما کے اس فعل کی شدید مذمت کی تو اسی روز سے برما میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا۔ بعد ازاں برما کے ایک بادشاہ انٹا¶نگ نے برمی مسلمانوں کو زبردستی بدھ مت مذہب اپنانے کی ترغیب دینا شروع کی اور جو مسلمان اپنے مذہب پر استقامت اختیار کرتے برمی بادشاہ انٹا¶نگ انہیں قتل کروا دیتا۔ انٹا¶نگ کے کارندے تو مسلمانوں کو تلاش کرنے انہیں زدو کوب کرتے اور مسلمانوں کو بدھ مت کی عبادتوں پر مجبور کرتے۔ یہ سلسلہ یہیں ختم نہ ہوا بلکہ برمی بادشاہ النگ پایا نے مسلمانوں کی اشیائے خورد و نوش کی پڑتال کرنا شروع کر دی اور مسلمانوں کو گوشت خورے کہہ کہہ کر ذلیل و خوار کرتا رہا۔ النگ پایا نے مسلمانوں کے ذبیحہ (حلال گوشت) پر پابندی عائد کر دی، مسلمانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ خنزیر کھائیں۔ النگ پایا کے مطابق مسلمان جانوروں کو ذبیح کر کے جو حلال گوشت کھاتے ہیں اس سے مذہبی منافرت کو ہَوا دی جاتی ہے حالانکہ مسلمانوں نے جب احتجاج کیا تو ان کا مدعا صرف مذہبی تعصب سے پاک حق زندگی کے حصول کا مطالبہ تھا۔ اس احتجاج کے ردعمل میں اولنگ پایا نے برما کے معتبر علماءکرام کو بُلا کر خصوصی طور پر انہیں حرام خنزیر کھانے پر مجبور کیا۔ مسلمان علماءنے اولنگ پایا کے حکم کی تعمیل سے انکار کر دیا تو ان علماءکرام کو سرعام قتل کر دیا گیا۔ اسی دوران مسلمان کمیونٹی نے اپنے مسائل کے حل کیلئے مسلم کانگریس کی بنیاد رکھی اور عین اس وقت جب برمی مسلمان اپنے ساتھ ہونے والے بہیمانہ سلوک کے خلاف اٹھنے کا پروگرام ترتیب دے رہے تھے تو برمی حکومت نے اس کانگریس پر پابندی عائد کر دی۔ اصل میں 1962ءمیں جنرل نوون کے دور میں مسلمانوں پر ابتلا و ظلم کے پہاڑ ہی ٹوٹ گئے۔ مذہبی انتشار کو اس حد تک تقویت دی گئی کہ مسلمانوں کی مسجدوں کو ایک ایک کر کے نذر آتش کیا جانے لگا۔ فوج اور حکومتی اداروں میں مسلمان ملازمین کو نکال دیا گیا۔ 1997ءتک مسلمانوں کا معاشی قتل اس حد تک پہنچ گیا کہ برما کے مسلمانوں کو عام دکانداروں کی نوکریوں سے بھی دور رکھا گیا۔ مسلم کمیونٹی کی املاک و دکانوں پر لوٹ مار کا بازار تو اب تک جاری ہے۔ 2001ءمیں بدھ مت کے پیروکاروں نے مسلمانوں کی مسجدوں میں داخل ہو کر نمازیوں پر حملے کئے اور گھروں میں داخل ہو کر لوٹ مار مچائی تو مسلمان سڑکوں پر نکل آئے جس کی پاداش میں دو سو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ بدھ مت پیروکاروں کا مطالبہ ہے کہ برما میں مسلمانوں کی مسجدوں کو مسمار کر دیا جائے تاکہ مسلمان عبادت کی غرض سے ایک جگہ جمع ہو کر طاقت نہ پکڑ لیں اور حکومت نے اس مطالبے کو خوشی سے تسلیم کرتے ہوئے مسلمانوں کی مسجدوں کو گرا دیا۔ آج بھی برما کے مسلمانوں کو اپنے گھروں ہی میں محصور ہو کر رہنا پڑ رہا ہے۔ حالات کے ہاتھوں تنگ حکومتی سنگدلی کے سبب برما سے لاتعداد مسلمان ہجرت کر گئے ہیں اور اس وقت برمی مہاجرین بنگلہ دیش، بھارت اور تھائی لینڈ کے سرحدی علاقوں میں خیموں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 2009ءمیں تھائی لینڈ کے سرحدی علاقے میں برمی مسلمانوں کے سمندر بُرد ہونے کا دلدوز واقعہ پیش آیا۔ ہُوا یوں کہ تھائی لینڈ فوج نے خیمہ نشین برمی مسلمانوں کو کشتیوں میں بٹھا کر سمندر میں دھکیل دیا اور سمندر کی موجوں نے لمحوں میں انہیں نگل لیا۔ اس اندوہناک واقعہ کی بازگشت عالمی میڈیا پر بھی کہیں کہیں سنائی دی تھی اور سوشل میڈیا بھی اس واقعہ کو منظرعام لایا مگر چند ممالک کے اعلیٰ حکام کے بیانات سے آگے کچھ بھی نہ ہُوا۔ ابھی اسی سال جون 2012ءمیں فوج نے برما کے مسلمانوں کے سروں کے نشانے لے لے کر اپنی بندوقوں کے فائر کھولے اور محض مذہبی تعصب کے سبب ہزاروں مسلمانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ جی --- یہ سب کچھ آج اکیسویں صدی کی مہذب دنیا میں ہو رہا ہے اور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اکتوبر میں یعنی پچھلے ماہ ہی رومانیہ کے ایک صحافی نے برما جانے کی خواہش کی تو برما حکومت نے اس کے دورے کو مسلم آبادی والے علاقوں میں نہ جانے سے مشروط کر دیا جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ حکومت کی طرف سے برما کے مسلمان اکثریت کے علاقوں میں کسی غیر ملکی صحافی کے دورے پر مکمل پابندی ہے اور ان مسلم اکثریتی علاقوں میں عسکری اداروں کا مکمل کنٹرول موجود ہے۔ سوشل میڈیا کی چند رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلم اکثریتی علاقے شمالی اداکان میں اس وقت بھی مسلمانوں کا قتل عام جاری و ساری ہے۔ مسلم گھروں میں برمی فوج کا گھس کا مردوں کو مارنا پیٹنا اور عورتوں کو زندان میں ڈالنا رپورٹ کیا گیا ہے۔ ایسی اندوہناک و افسوسناک واقعاتی رپورٹس پر عالم اقوام کا ہر ذی حس دل گرفتہ ہو گا خصوصاً مسلم کمیونٹی سے متعلق آنے والی برما کی یہ رپورٹس عالم اسلام میں ہلچل مچانے کیلئے کافی ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ عرب یا مشرق وسطیٰ کے کسی بھی ملک نے برمی مسلمانوں کی باوقار زندگی کی بحالی کیلئے اپنے خزانوں کے منہ کھول کر فنڈز نہیں قائم کئے۔ او آئی سی بھی بالکل گنگ ہے۔ مظلوم کی دادرسی کا مینڈیٹ و منشور لیکر کوئی بھی ملکی و غیر ملکی و عالمی این جی اوز برما نہیں پہنچی، نہ کسی نے برما کے مسلمانوں کی حالت زار پر ڈاکومنٹری فلمیں بنائیں اور نہ ہی امن کے عالمی اداروں نے حقوق انسانی کے حوالے سے برمن مسلمانوں کی حمایت میں احتجاج ریکارڈ کرائے۔ اس موقع پر میں امریکی و برطانوی ہائی کمان و عالمی امن کے متولی ادارے اقوام متحدہ کی بے حسی کی وجہ جاننا چاہوں گی کہ جنہیں پاکستان کے ایک چھوٹے سے علاقے کی چھوٹی بچی کو چُھو جانے والی طالبان کی گولی تو نظر آ جاتی ہے لیکن ایک اچھے خاصے دنیا کے نقشے پر موجود ملک کی مذہبی عصبیت کا شاخسانہ ظلم و بربریت، قتل عام و سفاکانہ تشدد کا برمی المیہ نظر نہیں آتا۔ بازارِ دنیا میں کسی کا لہوگراں اور کوئی لہو ارزاں --- ایسا آخر کیوں ہے؟ حالانکہ خالق نے سب انسانوں کو جو دیا اس لہر کا رنگ تو ایک ہی ہے یہ دُہرے معیار کیا کیجئے!

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...