آلودگی۔۔۔ سب سے اہم مسئلہ

18 نومبر 2012

گذشتہ دنوں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں فطری نظام توازن کے تحفظ کے لئے حکمت عملی ترتیب دینے کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان میں گذشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قومی معیشت کو 400ارب سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ زراعت میں زہریلی کیمیکلز کے بے مہابہ استعمال سے انسان دوست پودے اور حشریات کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے اس موقع پر زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ کرہ ارض کے ماحول کو مختلف گیسوں اور پٹرولیم مصنوعات کے بے مہابہ استعمال نے بری طرح متاثر کیا ہے۔ زرعی یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خان بہادر مروت نے کہا کہ ماہرین موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجہ میں سطح سمندر و زمینی درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشیئر کا تیزی سے پگھلنا، بارشوں کا معمول سے زیادہ ہونا، سیلاب، زمینی کٹا¶ اور مختلف بیماریوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ہر سال 22۔اپریل کو زمین کا عالمی دن 127 سے زائد ممالک میں منایا جاتا ہے اور اس دوران عہد کیا جاتا ہے کہ شعبہ زراعت اور زمین کو مختلف کیمیکلز سے زیادہ سے زیادہ بچانے کے لئے احتیاطی اور سائنسی تدابیر استعمال کی جائیں گی مگر آج تک کسی بھی سطح پر ایسے اعلانات اور دعو¶ں کو عملی شکل نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں کرہ ارض موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ کیمیکلز کے استعمال کے باعث بدترین آلودگی کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو کیمیکلز کے زیادہ استعمال اور موسمیاتی تبدیلیوں پر کسی نہ کسی حکمت عملی کے تحت قابو پا لیا جاتا ہے مگر ترقی پذیر ممالک میں صورتحال اس سے یکسر مختلف ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلیوں، زمین کی گردش اور کیمیکلز کے زیادہ استعمال کی وجہ سے آلودگی کی شرح میں خطرناک اضافہ جاری ہے اس آلودگی کا خمیازہ ترقی پذیر ممالک کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور کھاد، ہائیڈرو کیمیکلز اور بیج کی صورت میں ہمارے ہاں جو صورتحال جاری ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہمارا شعبہ زراعت اس وقت کیمیکلز کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر انحصار کر رہا ہے جس کی وجہ سے زرعی پیداوار بھی صحیح معنوں میں پرورش نہیں پا رہی اور دوسری طرف آلودگی کی شرح میں خطرناک اضافہ جاری ہے۔ زرعی زمینوں پر کیمیکلز اور کیمیکل شدہ کھادوں کے استعمال کی وجہ سے زیرزمین پانی کی سطح بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اور متعدد بیماریاں جنم لے رہی ہیں جس کی وجہ سے ہمارے ہاں ہر تیسرا فرد کسی نہ کسی شکل میں ہیپاٹائٹس اے، بی یا پھر ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہے۔ سائنسدانوں کی ریسرچ کے مطابق اگر کسی زمین پر کیمیکل کا استعمال کیا جائے تو کم و بیش پچاس سے ساٹھ سالوں تک اس زمین پر اس کیمیکل کے کسی نہ کسی انداز میں اثرات رہتے ہیں جبکہ زیرزمین پانی کی سطح اس سے بھی کہیں زیادہ متاثر رہتی ہے۔ لہٰذا صورتحال کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور اس ملک میں کیمیکلز کے استعمال کے ساتھ سیوریج، صفائی اورنکاسی آب سمیت بیشتر ایسے مسائل شہروں اور دیہاتوں میں موجود ہیں جو کہ گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی زمین کے عالمی دن اور عالمی ماحولیاتی دن کو منہ چڑھاتے ہوئے یہ یوم بھی گزر گئے تھے پاکستان وہ ملک ہے جس کا شمار ان ممالک کی فہرست میں ہوتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس کی شرح بہت زیادہ ہے اسی طرح ہمارے ہاں ماحولیاتی آلودگی کی شرح میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی طرف سے کوئی خاطرخواہ اقدامات نہ اٹھانا ہے۔ ماضی سے لے کر آج تک آنے والی کسی بھی حکومت نے شعبہ زراعت سے لے کر عام زندگی تک اور اسی طرح صنعتی شعبہ کے عام زندگی پر اثرات کے حوالے سے کسی صورتحال کا جائزہ نہیں لیا اور نہ ہی جائزہ لینے کی غرض سے کبھی سوچا ہے کہ اس قسم کی صورتحال کے کس قدر منفی اثرات انسانی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہوں گے۔ لہٰذا آج نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہلاکتوں کی ایک بڑی وجہ آلودگی ہے اور اس آلودگی کی وجہ سے سب سے زیادہ پھیلی جانے والی بیماری ٹی بی اور یرقان ہے کیونکہ ماحولیاتی آلودگی کی بھی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں۔ شہروں میں موٹروہیکلز کی تعداد میں بدستور اضافہ جاری ہے۔ ملوں اور کارخانوں سے نکلنے والا دھواں اور اسی طرح ملوں سے ڈسچارج ہونے والے کیمیکل زدہ پانی کی وجہ سے آلودگی کی شرح خوفناک کن ہوتی جا رہی ہے مگر اس پر قابو پانے کا کوئی انتظام موجود نہیں جس کے باعث انسانی زندگیاں جانوروں کی طرح اپنی حیثیت اور اہمیت کھو رہی ہیں۔ لہٰذا کیا ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی نہیں ہے کہ حکمران اور متعلقہ محکمہ جات کے ذمہ داران ماحولیاتی آلودگی موسمیاتی تبدیلیوں اور شعبہ زراعت میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور کیمیکل زدہ کھادوں کے رجحان کو زیادہ سے زیادہ کم کرنے کے لئے مسلسل اور مربوط آگاہی مہم چلائیں اسی طرح شہروں اور دیہاتوں میں حقیقی معنوں میں شجرکاری مہم شروع کر کے زیادہ سے زیادہ درخت اور پودے لگائے جائیں تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ انسان کی خود پیدا کردہ فضائی اور زمینی آلودگی پر بھی کسی واضح حد تک قابو پایا جا سکے۔ آج تک آنے والے حکمرانوں نے اس ملک میں بسنے والے انسانوں پر کوئی توجہ نہیں دی جس کے نتیجہ میں آلودگی کا اژدھا سب کو نگلنے میں مصروف ہے۔ کیا ہم آئندہ بھی اس اہم اور حساس مسئلے کو اسی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے۔ یہ وہ سوال ہے جس کے بارے میں عوام اور حکمرانوں دونوں کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ عوام بھی آلودگی پر قابو پانے میں بڑی حد تک اپنی مدد آپ کے تحت اپنے اور ملک کے لئے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔