آئندہ انتخابات....ایک جائزہ

18 نومبر 2012

ملک میں آئندہ عام انتخابات کے سلسلے میں کافی گہما گہمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ الیکشن کے بعد ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوگا لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ یہ تمام کارروائی صاف شفاف اور منصفانہ طریقے سے عمل پذیر ہو۔ اس سلسلے میں عبوری حکومت ایک بہت اہم کردار کی حامل ہوگی۔ مزید برآں یہ امر بہت حوصلہ کن ہے کہ انتخابات کے سلسلے میں تشکیل دیئے جانے والا الیکشن کمشن پر تمام سیاسی پارٹیاں مطمئن ہیں اور اس اہم ادارے کی کارروائی بہت قابل اطمینان ہے لیکن اس کے باوجود چند پہلو خاص طور پر توجہ طلب ہیں جو درج ذیل ہیں:
 اول: کمشن کی تمام کوشش کے باوجود ابھی تک لاکھوں ووٹروں کا اندراج عمل میں نہیں آیا۔
دوم: ووٹروں کیایک کثیر تعداد نقل مکانی کر کے دیہی علاقوں سے شہروں میں منتقل ہو چکی ہے اس حوالے سے Constituencies کی نئے سرے سے تشکیل لازمی ہے جو کہ ابھی نہیں ہو سکی کیونکہ حکومت نے ملک میں رائے شماری نہیں کروائی اور ابھی اس سلسلے میں دانستہ طور پر لیت و لعل میں مصروف ہے۔
سوم: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹروں کے سلسلے میں کوئی لائحہ عمل وضع نہیں کیا گیا ملکی آئین ان کو یہ حق دیتا ہے کہ جس سے ان کو محروم کرنا سراسر ناانصافی ہے۔
قارئین! ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمشن نے قواعد و ضوابط کا اعلان کر دیا ہے لیکن ماضی میں کبھی اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور ہماری سیاسی پارٹیاں قوانین کی خلاف ورزی کو اپنا حق سمجھتی ہیں بلکہ اس پر فخر کرتی ہیں۔ اس مرتبہ بھی کسی مثبت تبدیلی کا کوئی امکان نہیں آتا۔ الیکشن کے دوران غنڈہ گردی اور بے راہ راوی ہماری روایات کا حصہ بن چکا ہے۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں اس کا تصور بھی ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں تازہ ترین مثال وحید شاہ کیس کی ہے۔ جس میں پولنگ سٹاف پر کھلے عام تشدد کیا گیا اور اس کے باوجود موصوفہ پر سے پابند اٹھائی گئی ہے اور اس بارے میں قطعی کوئی ابہام نہیں کہ وہ آنے والے انتخابات کے ذریعے دوبارہ سندھ اسمبلی میں رونق افروز ہو گئی مزید برآں وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے کچھ ہی عرصے کے بعد ملک صدارت کے لئے بھی انتخابات ہونگے اور اس میں قطعی کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ موجودہ صدر آصف علی زرداری آئندہ پانچ سالوں کےلئے اس عہدے پر براجمان ہونے کی پوری کوشش کریں گے۔ قارئین! ایک صحیح پارلیمانی نظام میں صدر حکومت کے سربراہ کے فرائض سرانجام دیتا ہے مگر اس کا پارٹی سیاست سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہوتا اور آئین کی رو سے وہ ملک کی وحدت کی پہچان کے طور پر جانا جاتا ہے مگر جناب آصف زرداری کا اس سلسلے میں معاملہ یکسر مختلف ہے وہ اس عہدے پر دوبارہ فائز ہو کر اگلے پانچ سالوں کیلئے مکمل استثناءکے حصول کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تاکہ بطور صدر وہ اپنے اثاثوں کو مخفی رکھ سکے اور اس طرح Swiss Case میں لوٹی ہوئی رقم منظر عام پر نہ آ سکے۔ علاوہ ازیں ان کو لانکم ٹیکس وغیرہ کی ادائیگی کا بھی اعلان نہیں کرنا پڑے گا گوکہ اس سلسلے میں آئین کی شق41(2) کی رو سے ملک کے صدر کو بھی قومی اسمبلی کے اراکین کی طرح اپنے اثاثوں اور ادا شدہ انکم ٹیکس کی تفصیلات دینا لازی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک کے صدر کو کس قانون کے تحت استثناءحاصل ہے؟ دراصل 2002ءمیں ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اس قانون میں اپنی ناجائز کمائی ہوئی دولت چھپانے کےلئے ترمیم کی اور صدر مملکت بھی اپنے اثاثوں کا اعلان کریں گے جو کہ گزٹ میںشائع کئے جائیں گے مزیں برآں جمہوری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے الیکشن کمشن کو صدر کے انتخابا کے سلسلے میں 1988ءمیں بنائے گئے قوانین کی بھی تبدیلی کرنا ضروری ہے کیونکہ آئین کی رو سے صدر مملکت کو بھی پارلیمنٹ کے ارکان کی طرح نامزدگی کے وقت اپنے اثاثوں اور ادا کردہ ٹیکس کی تفصیلات دینا اور اس بات کا اعلان کرنا ضروری ہے کہ وہ دوہری شہریت کے حامل نہیں ہیں۔ آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صدر زرداری نہ صرف دو عہدوں پر فائز ہیں بلکہ وہ وفاقی وزرا اور سندھ کابینہ کے اجلاس کی صدارت بھی فرماتے ہیں اس طرح ہمارے ملک میں پارلیمانی نظام کی ہیئت ہی تبدیل ہو چکی ہے اور زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس وقت ملک میں گو کہ صدارتی نظام بھی رائج ہے لیکن اس کے قواعد و ضوابط اور اصل خدوخال کو مسخ کر کے صدر کو تمام قانونی پابندیوں سے آزاد کر دیا گیا ہے اس ضمن میں مئی2011ءلاہور ہائی کورٹ نے بھی صدر کے دو عہدے رکھنے کے خلاف فیصلہ صادر کیا جس پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا اور صدر زرداری اس سلسلے میں لگاتار ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
قارئین! صدارتی انتخابات جناب آصف علی زرداری کےلئے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے وہ ہر قسم کے احتساب سے استثناءحاصل کر سکیں گے اور اس طرح ان کی بیرونی ممالک میں جمع شدہ خطیر رقم دولت بھی محفوظ رہے گی۔ دوسری طرف صدارتی انتخابات ملک کے لئے بھی بے انتہا اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں اس بات کا تعین ہو سکے گا اگر پاکستان میں صحیح معنوں میں پارلیمانی نظام حکومت رائج ہو پائے گا جس کو ایک ڈکٹیٹر نے اور پچھلے پانچ سالوں سے جناب آصف علی زرداری نے مکمل طور پر مسخ کر دیا ہے کیونکہ صحیح معنوں میں جمہوریت ہی میں وطن عزیز کی ترقی مضمر ہے۔