حفیظ کی بائولنگ پر پابندی سے ٹیم کا توازن خراب ہو گا: سابق کرکٹرز

18 جولائی 2015

لاہور (سپورٹس رپورٹر/ نمائندہ سپورٹس) سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے قومی ٹیم کے سپن بائولر ایم حفیظ کا بائولنگ ایکشن غیرقانونی قرار دیے جانے اور ایک سالہ پابندی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ 15 ڈگری کے قانون میں تھوڑی بہت نرمی کی جانی چاہئے۔ سابق وکٹ کیپر اشرف علی کا کہنا تھا کہ حفیظ کے بائولنگ ایکشن کی خبر انتہائی مایوس کن ہے۔ اس سے پاکستان ٹیم کی سری لنکا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ سابق فاسٹ بائولر عامر نذیر کا کہنا تھا کہ ایم حفیظ قومی ٹیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچز میں بائولنگ کوٹہ مکمل کرنے کا بہترین تجربہ رکھتے ہیں۔ ان پر ایک سالہ پابندی پر دکھ ہوا ہے۔ بورڈ کو چاہئے کہ وہ 15 ڈگری زاویے کے بائولنگ ایکشن پر نظر ثانی کی آئی سی سی سے اپیل کرے۔ سابق چیف سلیکٹر اقبال قاسم کا کہنا تھا کہ ٹیم مینجمنٹ اب حفیظ کی جگہ شعیب ملک سے بائولنگ میں کام لے ۔ سابق کپتان و سابق چیف سلیکٹر عامر سہیل کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے جس کا اسے سری لنکا کے خلاف جاری سیریز میں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈز کو چاہئے کہ وہ ملک میں متنازع بائولنگ ایکشن کے حامل کرکٹرز پر فوری کام شروع کرے تاکہ بین الاقوامی سطح پر جب یہ کھلاڑی آئیں تو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بائولنگ پر پابندی کی وجہ سے ٹیم کا توازن خراب ہو گا۔