عیدالفطر پر سیلونز پر فیشل، ماسک اور تھریڈنگ کیلئے اژدھام ، لڑکے بھی بننے سنورنے میں لڑکیوں سے پیچھے نہیں

18 جولائی 2015

لڑکے بھی بننے سنورنے میں لڑکیوں سے پیچھے نہیںعید ہو یا خوشی کے دیگر تہوار ان میںخواتین کی تیاری دیدنی ہوتی ہے کہیں ملبوسات کی تیاری تو کہیں بیوٹی سیلونز کے چکر۔لیکن اب اس معاملے میں مرد حضرات بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے،عید ہو یا شادی بیاہ کی تقریبات مرد حضرات بھی خواتین کی طرح تقریب /دن کو یادگار بنانے کیلئے تیاریوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔
بیوٹی سیلونز پر صرف اب خواتین ہی نہیں مرد حضرات کی ایک بڑی تعداد رخ کرنے لگی ہے۔اس عید پر بھی جہاںفی میل بیوٹی سیلونز پر رش دکھائی رہا ہے وہیں مردانہ بیوٹی سیلونز پر بھی مردوں کا خاصا ہجوم دکھائی دے رہا ہے۔ایک وقت تھا مرد حضرات صرف بالوں کی کٹنگ پر اکتفا کر لیتے تھے لیکن اب فیشل،تھریڈیگ سے لیکر ویکسنگ اور بلیچ کوبھی ضروری سمجھا جانے لگا ہے۔یہی سب کچھ اس مرتبہ بھی مردانہ بیوٹی سیلونز پر دیکھنے کو ملاہے۔
آخری عشرے میں صوبائی دارلحکومت کے تقریباً تمام بڑے بیوٹی سیلونز پر مرد حضرات کا ایک بڑا ہجوم دکھائی دیا۔مردانہ بیوٹی سیلونز پر بھی عید تہوار پر مختلف قسم کے پیکجز کی آفر دی جاتی ہے جس میں فیشنل،کٹنگ ،ویکسنگ و دیگر سروسز شامل ہیں۔لہذا اب یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ بیوٹی سیلونز پر صرف خواتین ہی زیادہ خرچ کرتی ہیں اب تو مرد حضرات بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
خواتین کے بیوٹی سیلونز کی طرح مردانہ بیوٹی سیلونز میں بھی مختلف قسم کے جلدی ٹریٹمنٹس آفر کئے جاتے ہیں۔اس وقت صوبائی دارلحکومت کے بیوٹی سیلونز پر نظر ڈالیں تو یہاں مرد حضرات کے لئے مختلف قسم کی آفرز پیش کی جا رہی ہیں جن میں اروما تھراپی‘مینی کیور‘پیڈی کیور‘سکن ہیلتھ‘فٹ کیئر‘ناخنوں کے مینی کیور۔
اگر ہم ماضی پر نظر دوڑائیں تو پہلے زمانے میں لڑکیوں کا بھی پارلر جانے کو معیوب سمجھا جاتا تھا مگر اب یہ وقت ہے کہ لڑکوں کا بھی بیوٹی سیلونز کا رخ کئے بغیر گزارا نہیں ہے۔گزشتہ چند برسوں میں ہمارے میڈیا کی وجہ سے نوجوان نسل میں خاصا شعور بیدار ہوا ہے اپنے پسندیدہ ہیروز کو دیکھ کر وہ بھی ان کے جیسے نظر آنے اور بالوں کا سٹائل رکھنے میں دلچپسی لینے لگے ہیں۔
فلموں اور ڈراموں میں ہیروز کے سٹائلز کو فالو کرنا بہت پرانی روایت ہے یوں ہر دور میں فلمی ہیروز اور ماڈلز کے سٹائل کو عوام نے فالو کیا۔لیکن آج کل اس قسم کا رجحان زیادہ پروان پڑھتا دکھائی دے رہا ہے یہی وجہ ہے کہ عید یا خوشی کے دیگر تہواروں پر مردانہ بیوٹی سیلونز پر رش اس چیز کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اور تو اور لڑکے تو کانوں میںبالیاں بھی پہننے لگے ہیں۔
بیوٹی سیلونز پر جانے سے قبل باقاعدہ طور پر مرد حضرات /لڑکے یہ دیکھتے ہیں کہ اس وقت بالوں کا کونسا فیشن ٹرینڈ میں ہے اور اپنی جلد کے حساب سے ان کو کونسا فیشنل لینا ہے اس کے علاوہ جو تھوڑا حیران کرنے والی بات ہے وہ یہ ہے کہ لڑکے بھی آئی بروز بنوانے لگ گئے ہیں۔ عید کی تیاریوں کے حوالے سے ہم نے چند ایک مردانہ بیوٹی سیلونز کے اونرز سے بات کی ۔
علامہ اقبال ٹائون کے ایک بوائز سیلون کے مالک عرفان نے کہا کہ آج کل مردانہ سیلونز پر لڑکوں کی ایک بڑی تعداد دیکھنے کو ملتی ہے عید الفطر پر تو ہمیں سانس لنے کی فرصت نہیں ہوتی ، روزانہ شام کو افطاری کے بعد کافی بڑی تعداد میں لڑکے ان کے سیلون پر آتے ہیں۔پہلے پہل تو امیر گھرانوں کے لڑکے ہی آیا کرتے تھے مگر اب مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے لڑکے بھی خاصی تعداد میں یہاں پر آتے ہیں۔
انہوں نے کہ زیادہ تر لڑکے تھریڈنگ ‘کٹنگ اور ویکسنگ کروانے آتے ہیں۔یہ لڑکے متوسط اور امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اپنا زیادہ تر وقت بیوٹی سیلونز پر لگاتے ہیں۔کچھ لڑکے تو مینی کیور اور پیڈی کیور بھی کروانے آتے ہیں۔اس سے ان کے ہاتھ اور پائوں بہت دلکش ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ لڑکے افطاری کے بعد آتے ہیں اور رات گئے تک ہمارے سیلون میں بیٹھے رہتے ہیں۔عید کے موقع پر ہم اپناعملہ بھی بڑھا دیتے ہیں کیونکہ اس قدر رش ہوتا ہے کہ چند افراد سے گزارا نہیں ہو پاتا۔عام دنوں میں اس سیلون کا عملہ آٹھ سے دس افراد ہیں لیکن عید کے دنوں میں یہ عملہ دوگنا ہو جاتا ہے۔زیادہ تر وہ لڑکے جو کو ایجوکیشن میں پڑھتے ہیں وہ اداکارائوں کے ہیئر سٹائلز بنوانے آتے ہیں۔کچھ اپنی جیب دیکھے بنا ہی آ جاتے ہیں اور ادھار کر کے چلے جاتے ہیں۔
2008ء سے اب تک یہ رجحان بہت حد تک بڑھ گیا ہے۔ہم اپنے سیلون میں ہیئر پالش‘ہیئر سٹیم‘پارٹی ہیئر اسٹائل‘ہیئر سٹریٹننگ‘ہربل فیشل‘وائیٹننگ فیشل اور سکن پالش وغیرہ مختلف ریٹس پر آفر کرتے ہیں اور لڑکے ان سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔کچھ سیلونز اپنے کسٹمرز سے پانچ سو سے پانچ ہزار تک رقم وصول کرتے ہیں۔والدین بھی اپنی اولاد کو رقم کے ضیاع پر ٹوکنے کی بجائے ان کو مزید بڑھاوا دیتے ہیں اور الزام میڈیا کے سر پر ڈال دیتے ہیں کہ میڈیا نے ہمارے بچوں کو بگاڑ دیا ہے کہ یہی بچے اب فلموں کے ہیروز کی طرح یا کسی سپورٹس مین کی طرح بال بنواتے ہیں۔
ہمارے بیٹھے ہی اس سیلون پر وحید نامی ایک لڑکا آیا اس سے جب ہم نے بات کی تو اس نے کہا کہ اس میںہرج ہی کیا ہے اگر لڑکے بھی لڑکیوں کی طرح بنیں سنوریں،پوری دنیا میں مردانہ بیوٹی سیلونز کامیابی سے چل رہے ہیںہمارے ہاں یہ ٹرینڈ ذرا دیر سے پروان چڑھا ہے لیکن اب یہ رجحان ہمارے ہاں بھی زور پکڑ رہا ہے۔
یوں اس عید پر مرادانہ بیوٹی سیلونز پر خاصا رش رہا،اگر ہم یوں کہیں کہ پاکستان میںاب انٹرنیشنل فیشن کو فالو کرنے کا ٹرینڈ خاصا پروان چڑھ رہا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔