رفاہی اداروں میں یتیم بچوں کی عید

18 جولائی 2015

ملک بھر میںآج مسلمان عید الفطر مذہبی جوش و خروش سے منا رہے ہیں۔ عید نماز کے روح پرور اجتماعات کے بعد لوگ آپس میں گلے مل رہے ہوں گے۔ ہر طرف سے عید مبارک عید مبارک کی آوازیں آرہی ہوں گی۔ اس دن کو یادگار اور خوشگوار بنانے کے لئے مسلمان قوم کتنی تیاریاں کرتی ہے۔ یکم رمضان المبارک سے ہی عید کا جشن منانے کی تیاریوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔ بازاروں میں خریداروں کا اس قدر رش ہوتا ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی۔ نئے سوٹ‘ نئے جوتے خصوصاً بچوں کی تیاریاںتو چاند رات تک ختم نہیں ہوتیں۔ رنگ برنگی چوڑیوں‘ مہندی‘ آرٹیفشل جیولری کے بغیر تو عید کی تیاریاں ادھوری سمجھی جاتی ہیں۔ عید کے روز بچوں کی خوشیاں قابل دید ہوتی ہیں۔ اس لئے تو کہتے ہیں کہ عید بچوں کی ہوتی ہے۔لیکن مہنگائی کے اس دور میں غریب گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں عید کا چاند حسرتیں لے کر آتا ہے خصوصاً ان رفاعی اداروں میں جہاں یتیم‘ بے سہارا بچے بچیاں رہائش پذیرہوتی ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایک طرف بچے اپنے والدین کے ساتھ عید منا رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف بچوں کو یہ علم نہیں ہوتا کہ ان کے اصل ماں باپ کون ہیں اور کہاں ہیں۔ ان کی عید کی خوشیاں تو دھری کی دھری رہ جاتی ہوں گی۔ملتان میں ایس او ایس ویلج‘ چائلڈ پروٹیکشن‘ ایدھی ہوم سنٹرز‘ پاکستان سویٹ ہوم‘ دارالفلاح ابن قاسم نابینا بچوں کا ادارہ جہاں سینکڑوں بچے اور بچیاں رہائش پذیر ہیں۔ متعلقہ ادارے ان کی دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت کے لئے خصوصی انتظامات کرتے ہیں۔ ملتان کے مخیر حضرات فلاح و بہبود کی تنظیمیں بھی اس کا ر خیر میں وقتاً فوقتاً ان کا ہاتھ بٹاتی رہتی ہیں۔ عیدالفطر کے موقع پر بھی یتیم و بے سہارا بچوں کو تنہا نہیں چھوڑتیں ۔ ان میں عید گفٹس ‘ نئے کپڑے جوتے اور دیگر ضروری اشیاء ان تک پہنچا کر انہیں عید کی خوشیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ ایس او ایس ویلج ملتان کا ایسا رفاعی ادارہ ہے جہاں بچوں کو اس قدر سہولیات مہیا ہوتی ہیں کہ انہیں اپنے گھر کا احساس ہوتا ہے۔ اس ادارے میں دو سو سے زائد بچے بچیاں رہائش پذیر ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق بالائی پنجاب اور کشمیر سے ہے۔ لائنز کلب اور کریسنٹ لائنز کلب نے ماہ رمضان المبارک کے دوران ان بچوں کے ساتھ مختلف دنوں میں نہ صرف افطاریوں کا اہتمام کیا بلکہ انہیں عید کی خوشیوں میں شامل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لائنز کلب کے سابق ڈسٹرکٹ گورنر محمد افضل سپرا نے بتایا ہم نے عید سے قبل بھی بچوں کی مذکورہ بالا تعداد کے لئے مختلف دنوں میں 4 بھرپور افطاریوں کا اہتمام کیا۔ چاند رات بچوں میں نئے کپڑے‘ جوتے ‘ بچیوں کے لئے پرس‘ کانٹے‘ مہندی‘ چوڑیاں تقسیم کی گئیں اور روز عید بھی ان بچوں کے ساتھ منا کر انہیں اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ کاش ہم اپنے والدین کے درمیان ہوتے؟ عید کا موقع ایسا ہوتا ہے کہ خوشیوں کی ان گھڑیوں میں اپنوں کی کمی کا احساس ضرور ہوتا ہے۔ ساتویں کلاس کی ایک بچی کہنے لگی دکھ تو اس بات کا ہے کہ میں لاوارث نہیں ہوں‘ میرے والدین زندہ ہیں لیکن وہ بعض وجوہ کی بناء پر مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ جب سے یہاں چھوڑ کر گئے ہیں کسی نے آج تک کوئی خبر نہیں لی اس سال بھی عید کا دن ان کے بغیر گزرے گا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہمیں یہاں اغیار پن کا احساس نہیں ہونے دیا جاتا۔ زندگی کی ہر سہولت یہاں میسر ہے لیکن اپنوں کی کمی شفقت‘ محبت کی کمی کا احساس تو کبھی ختم نہیں ہوتا۔عاشر کا کہنا تھا کہ عید کے روز بہت سے لوگ ‘ تنظیمیں آ کر ہمارے ساتھ عید مناتی ہیں لیکن ان کے چلے جانے کے بعد تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمیں یہ احساس نہیں ہونے دیا جاتا کہ ہم یتیم لاوارث اور بے سہارا ہیں لیکن اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
ارتقاء آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر خواجہ مظہر نواز صدیقی نے کہا ہماری آرگنائزیشن بچوں اور نوجوانوں کا ملک گیر علمی‘ فکری اور سماجی فورم ہے جو سماج کی بہتری اور ترقی کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے۔ ارتقاء آرگنائزیشن جہاں بے شمار دیگر پراجیکٹس پر کام کرتا ہے وہاں اس کا ایک سالانہ مستقل سلسلہ ہے جسے ہم’’ عید چلڈرن فیسٹول‘‘ کے طور پر گزشتہ بارہ برس سے منا رہے ہیں۔ ارتقاء آرگنائزیشن کے 20 سے 30 ممبران ہر سال عیدالفطر کے دوسرے روز ملتان انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع ایس او ایس چلڈرن ویلج جاتے ہیں۔ وہاں مقیم دو سو سے زائد بچوں کے ساتھ اس موقع پر عید چلڈرن فیسٹول مناتے ہیں۔ اس موقع پر ایس او ایس کے بچے اور ارتقاء کے ممبران ورائٹی شو پیش کرتے ہیں۔ کبھی ملی نغموں کا مقابلہ‘کبھی بیت بازی کا مقابلہ‘ کبھی فینسی ڈریس شو اور کبھی اصلاحی ڈراموں کا مقابلہ منعقد ہوتا ہے۔ بچے عید کے حوالے سے اپنے احساسات و خیالات کا اظہار کرتے ہیں بچوں میں آرگنائزیشن کی طرف سے عید کیک و عید گفٹ تقسیم کئے جاتے ہیں۔ آرگنائزیشن کی طرف سے زکواۃ کی رقم بھی ایس او ایس میں جمع کروائی جاتی ہے۔ بارہ برس سے محبت‘ خوشی اور ہمدردی کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ارتقاء آرگنائزیشن کی ٹیم اﷲ کی رضا کے حصول کے لئے اس عمل کو خوبی اور خوبصورتی سے نبھاتی ہے۔ درحقیقت خالق مخلوق کی خوشی سے خوش ہوتا ہے۔ ایس او ایس کی انتظامیہ اور وہاں مقیم غریب‘ نادار اور مفلس بچے ارتقاء کے اس جذبے کو سراہتے ہیں۔ بچے بہت پیارے ذہین اور لائق محبت ہیں۔ خدا ان کا مستقبل روشن کرے۔
ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے زیراہتمام چائلڈ پروٹیکشن میں ایسے۵۵ لاوارث بچے رہائش پذیر ہیں جن کے والدین کوئی اتا پتہ نہیں۔ اس ادارے کے چیئرمین حمزہ لودھی کا کہنا تھا کہ روز عید میں اور میرا دیگر سٹاف ان بچوں کے ساتھ گزارتے ہیں بچوں میں نئے کپڑوں اور جوتوں کے علاوہ ان میں عیدی بھی تقسیم کرتے ہیں۔ عید کے دوسرے روز بچوں کو تفریحی مقامات پر لے جایا جاتا ہے وہاں انہیں سیر کرانے کے ساتھ ساتھ اشیاء خورد و نوش بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
ملتان کریسنٹ کلب کے سعید اﷲ خان کا کہنا تھا رمضان المبارک انسانوں سے ہمدردی اور اﷲ کے حکم کے مطابق گزارنے کا درس دیتا ہے۔ ہم مختلف رفاعی اداروں میں مقیم بچوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کے لئے خصوصی انتظامات کرتے ہیں جس کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ انرول کلب سنٹرل کی صدر مسز عائشہ مظہر نے کہکشاں سپیشل چلڈرن سکول میں نابینا بچوں اور بڑوں میں کپڑے اور دیگر اشیاء تقسیم کیں۔ ان کا کہنا تھا ہمیں اپنی عید کی خوشیوں میں ان لوگوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اس میں ہماری دنیا و آخرت میں بھلائی ہے۔
پاکستان سویٹ ہوم اور ایدھی سنٹرز میں بھی بچوں کی کثیر تعداد مقیم ہے۔ یہاں پر بھی ملتان کریسنٹ کلب اور دیگر رفاعی ادارے عید کے موقع پر بے سہارا لوگوں میں عید گفٹس تقسیم کر کے انہیں عید کی خوشیوں میں شریک کرتے ہیں۔ یتیم بے سہارا اور غریب لوگوں کی امداد کا سلسلہ چند رفاعی اداروں تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے۔ شہر کے دیگر معززین مخیر حضرات بھی ایسے بچوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ ایسے بچے جو عید کے مفہوم سے بھی ناواقف ہیں انہیں عید کی خوشیوں میں شامل کر کے عید کی حقیقی خوشیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔