رسوم کہن کے سلاسل کو توڑ

18 جولائی 2015
رسوم کہن کے سلاسل کو توڑ

حدیث رسولؐ ہے دو طلب گاروں کے دل کبھی مطمئن نہیں ہوتے ایک علم کا طالب اور دوسرا مال کا طالب۔ قرآن مجید میں علم کو خیر کثیر قرار دیاگیا ہے۔ آدم و ابلیس کے قصہ میں فضیلت آدم بدولت علم ہوئی۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے واقعہ میں بھی جب انہوں نے جالوت کو قتل کیا تو مسند خلافت کے حق دار کیلئے علم کو معیار بنایا گیا۔ جوش ملیح آبادی کہا کرتے تھے ’’ابنوہ جہالت میں گھرا رہتا ہوں‘‘ پاکستان میں اہل علم بے مقام اور اہل زر بامقام ہے۔ جعلی ڈگریوں کا قصہ تو برسرعام سنایا گیا لیکن مقام افسوس وشرم تو یہ ہے کہ کئی جعلی کالم نگار اور دانشور پیدا کر دئیے گئے ہیں۔ ان کا نام لینے سے اخلاقاً گریز کرتا ہوں۔ پردہ پوشی حکم رسالت ہے۔ اس زرپرستی کی شعبدہ بازی دیکھئے کہ نیب نے 150 میگا کیسز سے متعلق ترمیم شدہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی۔ رپورٹ میں وزرائے اعظم‘ جرنیلوں اور افسر شاہی کیخلاف مقدمات ہیں۔ اربوں روپے کے غبن اور مالی بدعنوانیاں ہیں۔ ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ نیب اور انیٹی کرپشن کے ادارے خود کرپشن کا شکار ہیں۔ ایک انکم ٹیکس انسپکٹر یا آفیسر ایک تاجر سے دس لاکھ انکم ٹیکس کا مطالبہ کرتا ہے۔ مذاکرات ہوتے ہیں۔ دس لاکھ روپے ادا کرنے کی بجائے تاجر چار لاکھ ادا کرتا ہے۔ دو لاکھ روپے انکم ٹیکس اور دو لاکھ روپے بنام انکم ٹیکس آفیسر اخباری خبر ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ایک وزیر نے پشاور کے چار تھانوں میں ایس ایچ او کی تقرری کروانے پر فی کس آٹھ لاکھ روپے رشوت لی۔ انہیں احتساب کمیشن خیبر پختونخوا نے گرفتار کرکے مقدمہ عدالت میں درج کرادیا۔ پاکستانی قوم کثرت آبادی‘ جہالت‘ غربت‘ تعصب ‘ فرقہ واریت‘ آمریت اور بدعنوانی کا شکار ہے اور ان تمام سماجی برائیوں کی جڑ ہوس زور وزر ہے۔ حکمران طبقہ لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہے۔ دودھ کی رکھوالی بلی کررہی ہے۔ وزیر اطلاعات ونشریات وقومی ورثہ پرویزرشید نے بجا کہا ہے کہ نیب جیسے ادارے کا بھی احتساب ہونا چاہیے مجھے اس تجویز سے اتفاق ہے لیکن جب احتساب کرنیوالے خود ’’بے حساب‘‘ ہوں تو احتساب کیا فرشتے کریں ۔ میری رائے میں چند اراکین اسمبلی‘ سینیٹرز اور ریٹائرڈ ججز کی ایک کمیٹی بنائی جائے جو ہر ادارے پر نظر رکھے اور ان کا احتساب کرے۔ بصورت دیگر چور چوروں کا کیا احتساب کریگا۔ کراچی میں ہوس زرنے بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کی آخری حدیں عبور کرلی ہیں۔ ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن اور رہنما اس کار شیطانی میں ملوث ہیں۔ گو ان پارٹیوں کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ بحیثیت سیاسی جماعت ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے لیکن رینجرز نے جو لوگ گرفتار کیے ان کا تعلق سیاسی جماعتوں اور کچھ مذہبی دہشت گرد تنظیموں سے ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دلت نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور طالبان ’’را‘‘ کے دریوزہ گراور گدا گرہیں۔ حقیقت کیا ہے سورج بادلوں کی اوٹ میں ہے۔ بادل چھٹیں تو دیدار ہو۔ لیکن ہر محب وطن پاکستانی کا اس بھارتی الزام پر سربہ گریباں اور اشک برمژگاں ہے۔ ہم بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں سانپ کو دودھ پلا رہے ہیں۔ بقول فیض
کیوں داد غم ہمیں نے طلب کی برا کیا
ہم سے جہاں میں کشتہ غم اور کیانہ تھے
زرپرستی نے امن عالم تباہ کر دیا ہے۔ مذہبی دہشت گردی نے آسیب کی طرح چار سو بالا بھی اور جال بھی پھیلا رکھے ہیں۔ ایک ازبکی دہشت گرد نے پاکستانی ایجنسیوں کو بتایا کہ وہ پانچ سو روپے کے عوض ایک انسان کو قتل کرتا ہے جس کا اسے ٹارگٹ دیا جاتا ہے گویا انسان کا لہو آب ارزاں بن چکا ہے۔ کویت‘ فرانس‘ تیونس ‘ سعودی عرب اور شام میں بھی مذہبی انتہا پسندوں نے خودکش حملے کیے ہیں۔ جب دنیا میں معاشی مساوات نہیں ہوگی تو نہ ہی سماجی انصاف ہوگا نہ ہی سیاسی آزادی ہوگی۔ اسے اشتراکیت کہیے یا مساوات محمدی جب تک بقول اقبال نظام زرپرستی تہہ وبالا نہیں ہوتا دین وشریعت سودائے خام ہے۔ نظام محمدی قائم کرنے کے بجائے غریبوں کو سالانہ زکوۃ اور صدقات پر ٹرخایا جارہا ہے۔ رمضان المبارک میں ایک روزنامہ میں دو تصاویر دیکھیں۔ غرباء قطار اندر قطار کھڑے ہیں اور چند سرمایہ دار جو سماجی اور سیاسی رہنما ہیں تصویریں کھنچوا رہے ہیں۔ ایک بوڑھی عورت کو ایک صاحب رمضان پیکج دے رہے ہیں اور نظریں انکی فوٹو گرافر پر جمی ہوئی ہیں۔ صدقات کے بارے میں حدیث رسولؐ ہے کہ صدقہ ایسے دیا جائے کہ اوپر والے ہاتھ کا نیچے والے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔ یعنی خیرات اور صدقات میں نمائش کا پہلو نہ ہو اور صدقہ لینے والے کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔ افسوس قل العفو کی جگہ آج بھی زرپرستی کا نظام رائج ہے۔ درندگی کی انتہا ملاحظہ کیجیے اخباری خبر ہے کہ چکوال میں جائیداد کے تنازعہ پر بیٹے نے فائرنگ کرکے باپ کو قتل اور بھائی کو زخمی کر دیا۔ کلرسیداں میں گیارہ سالہ بچی کو غصے کی بدولت چچازاد بھائی نے گولی مار دی زرپرستی نے شکم پروری کو جنم دیا۔ بقول ڈاکٹر اقبال یا دل پروری کرو یا شکم پروری فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے۔ دین پروری کے لبادے میں بعض گمراہ شکم پروری کررہے ہیں۔ ایکپس کمیٹی سندھ نے ایک اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ سندھ میں چالیس سے زائد مذہبی مدارس دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ مذہب اور روحانیت کی شکلیں بگاڑ دی گئی ہیں۔ اسلام کے نام پر قتل وغارت کرکے اسلام کو دنیا میں بدنام کر رہے ہیں۔ ایک ہندو دانشور ڈاکٹر پنڈت شنکر دیا شرما کے الفاظ ملاحظہ کیجیئے ‘ پڑھتا جا شرماتا جا‘ لکھے ہیں ’’قرآن عمل کی کتاب تھی دعا کی کتاب بنا دیا‘‘ سمجھنے کی کتاب تھی پڑھنے کی کتاب بنا دیا ‘ زندوں کا دستور تھا مردوں کا منشور بنا دیا‘ مردہ قوموں کو زندہ کرنے کی کتاب تھی مردوں کو بخشوانے کی کتاب بنا دیا اے مسلمانو تمہیں یہ کیا ہوگیا‘‘۔