ایک تعبیر طلب جرنیلی خواب

18 جولائی 2015

سابق آرمی چیف اور صدرجنرل پرویز مشرف مدت سے پاکستانی سیاست میں اپنا کردار تلاش کر رہے ہیں۔ اور اس سلسلے میں وہ اپنی مخالف سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی ٗمسلم لیگ نون ٗعوامی نیشنل پارٹی کے مخالفین کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لئے ہاتھ پائوں بھی مارتے رہتے ہیں لیکن ابھی تک ان کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو سکیں۔پچھلے دنوں میں ان سے ملا تو یہ سوال بھی کیا کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ مخالف اتحاد کے لئے آپ کی کوششیں رائیگاں کیوں گئیں اور آپ کے زرداری ٗ نواز مخالفین کو متحد کرنے کا معاملہ کہاں تک پہنچا اور آپ کے سیاسی خواب چکنا چور کیوں ہوئے؟ میرے اس اہم سوال کو میری نادانی یا شرارت سمجھ کر انہوں نے زیر لب ہلکی مسکان کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے مختصر سا سفارتی وضع کا جواب ’’ویل !
حکومت ناکام ہو چکی ہے ٗ ہم پاکستان کا درد رکھنے والی اور ہم خیال جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا چاہتے ہیں لیکن شاید ابھی وہ مناسب وقت نہیں آیا کہ یہ سب جمع ہو کر اپنا کردار ادا کر سکیں۔‘‘ دے کر پینترا بدلنے کی کوشش کی مگر میں ان کے جواب سے مطمئن نہیں ہوا۔ میں نے تسلی بخش جواب کے لئے ان سے ضد تو نہیں کی لیکن بھانپ گیا کہ ہر مرا ہوا ہاتھی سوا لاکھ کا نہیں ہوتا۔
جنرل پرویز مشرف جب سے شریفوں کے نرغے میں آئے ہیں ٗ جنرل کالونی کراچی کے اپنے قفس میں بیٹھ کر جرنیلی خواب دیکھتے رہتے ہیں۔’’ بد عنوان پیپلز پارٹی نے قوم کو مایوس کیا ٗ ٹیکنیکل چور وں کا ٹولہ نون لیگ بھی خاندانی بادشاہت کے خول سے باہر نہیں نکل سکا۔ عمران خان کی تنہا پرواز کی بچکانہ روش نے حالات کو ایک ایسی نہج پر پہنچا دیا ہے کہ جہاں کامیابی اور روشنی کی کوئی امید باقی نہیں رہی ٗاس صورت حال میںملک اور قوم کو کسی نجات دہندہ کی جستجو ہے‘‘ اور غالباًہمارے جنرل پرویز مشرف بزعم خود اپنے آپ کو ایک سیاسی نجات دہندہ تصور کرنے لگے ہیں اور اپنے اس خواب کی تعبیر پانے کے لئے گاہے بہ گاہے ترلے بھی کرتے رہتے ہیں۔ بس چٹکی بجے گی ٗ چْھو منتر ہو گا اور اچانک پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے سارے کے سارے بد خواہ جنرل پرویز مشرف کی جرنیلی سیاسی کشتی کے سوار بن جائیں گے۔
اور جو اس کشتی میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ حضرت نوح کے نا فرمان بیٹوںجیسے انجام سے دو چار ہوگا۔ لیکن مجھے ابھی تک کوئی بات بنتی دکھائی نہیں دیتی۔ جنرل پرویز مشرف کے اس جرنیلی خواب کے پیچھے ہم سب کی بڑی سرکار ہیں کہ نہیںلیکن یہ ایک سنہرا خواب ہے جو عملاً پورا ہوتا ہو دکھائی نہیں دے رہا۔
مسلم لیگوں کے انضمام یا زرداری ٗنواز مخالف جماعتوں اور دھڑوں کو یک جا کرنے کی تازہ ترین ایک بڑی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی کہ جب چوہدری شجاعت حسین کی 20مئی کوکراچی آمد پر کنگری ہائوس میں غیر معمولی ملاقاتیں ہوئیں جن میں جنرل پرویز مشرف ٗان کے دست راست اختر ضامن ٗچوہدری شجاعت ٗ ان کے سندھ میں دست راست حلیم عادل شیخ ٗ سینیٹر دلاور عباس اور پیر صاحب پگاڑو موجود تھے۔
جنر ل پرویز مشرف کا خیال تھا کہ پاکستان کو بھنور سے نکالنے کے لئے ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دی جائے لیکن چوہدری شجاعت کا موقف تھا کہ پہلے سے موجود پارٹیاں تحلیل یا ضم کرتے کرتے سب کچھ تتر بتر ہو جائے گا ٗاس سے بہتر ہے کہ پہلی ترجیح کے طور پرمسلم لیگی دھڑوں کے ادغام کی سبیل کی جائے ۔ ان کا خیال تھا کہ پہلے منگنی کر لیتے ہیں ٗ نکاح پھر ہو ہی جائے گا۔ لیکن اس نکتے پر سب کا اتفاق تھا کہ اس پارٹی یا جماعتی اتحاد کے چئیرمین جنرل پرویز مشرف ہی ہوں گے۔ چوہدری شجاعت پیر صاحب پگاڑو کی اس نئی اسکیم میں شرکت کے حوالے سے متذبذب تھے۔ ان کاکہنا تھا کہ پیر صاحب پگاڑو نواز شریف کے قریب سمجھے جاتے ہیں ٗان کا ایک بھائی پیر صدرالدین شاہ وفاقی وزیر ہے اور ایک رہنما امتیاز شیخ وزیر اعظم کا مشیر ہے ٗ ان حالات میں اتحاد کی یہ بیل منڈھے کیسے چڑھے گی؟ جنرل پرویز مشرف نے چوہدی شجاعت حسین کے تحفظات پیر صاحب پگاڑو کے سامنے رکھ دئیے جس پر پیر صاحب نے اپنا دل چیرکر اپنے مہمانوں کو پیش کر دیا۔ میرے خیال میں پیر صاحب پگاڑو کا نقطہ نظر تاریخ کے اندھے کنوئیں میں دفن کرنے کی بجائے حال کا حصہ بنا دیا جائے تو نامناسب نہ ہوگا۔
پیر صاحب پگاڑو نے کہا کہ ان کا خاندان ہمیشہ وفاق کا داعی اور حامی رہا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وفاق کو اس وقت ڈھارس کی ضرورت ہے اور خاص طور پر آصف علی زرداری اورا لطاف حسین کا اتحاد وفاق پاکستان کے لئے خطرے کی علامت ہے کیونکہ دونوں ایسی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اگر مل جائیں تو وفاق کا دھڑن تختہ ہوسکتا ہے ٗ ایسے میں وہ وفاق کی سلامتی کے لئے وزارتیںاور نواز شریف کی دوستی تو کیا اپنا تن من دھن ٗسب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔ پیر صاحب پگاڑو کی اس کھلی پیشکش کے باوجود جنرل پرویز مشرف کا نئی سیاسی جماعت کی تشکیل اور چوہدری شجاعت حسین کا مسلم لیگی دھڑوں کے ادغام کا خواب ابھی تک ادھورا ہے۔
زرداری ٗنواز مخالف سیاسی جماعتوں کے مابین نکاح تو دور کی بات ہے منگنی کی نوبت ہی نہیں بج سکی۔جنرل پرویز مشرف اپنے جرنیلی خواب کی تعبیر پانے کے لئے اب کیا راستہ اختیار کرتے ہیں ٗاس کا انحصاراس بات پرہے کہ وہ لیگی دھڑوں کو قریب لانے کے لئے کیا ترغیبات دے سکتے ہیں کیوں کہ اس وقت ان کے ہاتھ میں چھڑی ہے نہ گاجر۔