میرے دیس میں یوں عید ہوتی ہے

18 جولائی 2015

میں نے ٹی وی آن کیا تو اس وقت شان رمضان پروگرام چل رہا تھا۔میزبان ایک بوڑھی عورت سے کچھ سوال جواب کر رہا تھا۔عورت بتا رہی تھی کہ وہ انتہائی پسماندہ علاقے میں ایک کرائے کے کمرے میں رہتی ہے۔اس کا بیٹا جو کہ اس عورت کا اوراپنی گونگی بہری بیوی اور تین بچوں کا واحد سہارا تھا۔جو ایک بیماری سے لڑتے لڑتے مر گیا، اب کمانے والا کوئی نہیں ہے۔جہاں یہ مصیبت کہ کئی دن سے فاقہ کشی ہے اور آنیوالے دنوں میں بھی خوراک ملنے کی کوئی امید نہیں وہاں یہ غضب کہ دو ماہ کا کرایہ(1600) ادا نہ کرنے پرمالک مکان نے کمرہ خالی کرنے کا پروانہ جاری کر دیا۔اس عورت کے بوڑھے چہرے پر غربت وافلاس کی جھریاں اور بھی نمایاں تھیںاور آنکھوں میں حسرت ویاس کے آنسو تھے۔
یوں نہ جھانکو غریب کے دل میں
یہاں حسرتیں بے لباس رہتی ہیں
کیمرہ مین نے اپنے کیمرے کی لائٹس جب اس عورت کے یتیم پوتے پوتیوں پر ڈالیں تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔ان چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو دیکھ کر مجھے وہ شعر یاد آ گیا۔
میں غریب کا بچہ تھا اس لئے بھوکا رہ گیا
پیٹ بھر گیا جو کتا امیروں کے گھر کا تھا
میرے ساتھ میری بیٹی بھی یہ پروگرام دیکھ رہی تھی وہ یہ سب دیکھ کر رونے لگی اور مجھ سے پوچھنے لگی کہ عید قریب ہے اور اگر ان لوگوں کو بے گھر کر دیا گیا تو یہ کہاں جائینگے پھر اس نے مجھ سے کہا میری اسلامیات کی کتاب میں لکھا ہے کہ زکوٰۃ دینے سے معاشرے کی غربت ختم ہو سکتی ہے۔ماما کیا ایسا نہیں ہو سکتاکہ اس علاقے کے لوگ زکوٰۃ اور فطرانہ دے کر انکی مدد کریں اور یہ لوگ بے گھر ہونے کی بجائے اپنے ہی گھر میں عید کریں۔
اس گفتگو کے دوران میں نے چینل چینج کیا تو وہاں ہر دلعزیز پروگرام جیتو پاکستان لگا ہوا تھا ۔ایک بچے نے کہافہد بھائی مجھے tab چاہیے اس کو tab دیا گیا۔ایک سوال کے جواب پرلیپ ٹاپ دیا گیا۔کیرم بورڈکی گیم جیتنے پر اجوا والوں کی طرف سے گاڑی دی گئی۔چند سوالات کے درست جوابات پر 20 تولے سونا دیا گیا ۔سب سے اونچا بولنے پر گانا سنانے پر یا پھر کسی لطیفہ پر موٹرسائیکلز لٹا دی گئیں۔میں نے ایک اور چینل چینج کیا توپاکستان میں99% پسند کی جانے والی شخصیت ڈاکٹر عامر لیاقت کا نیلام گھر پورے عروج پر تھا۔ایک شور برپا تھا عامر بھائی یہ گفٹ مجھے چاہئے یہ موبائل مجھے چاہئے میں نے LED لینی ہے اور عامر بھائی بھاگ بھاگ کر سب کا دل خوش کر رہے تھے۔اور دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے موبائل اور گفٹ ہیمپر لوگوں میں تقسیم کئے گے۔ میں نے دل برداشتہ ہو کر ایک اور چینل چینج کیا تو اس میں بھی یہی ساماں نظر آیا جویریا جلیل اور ریمبو میوزیکل چئیر میں جیتنے والی لڑکی کو سونے کا لا کٹ پہنا رہے تھے ۔
قارئین! ٹی۔وی میں روشنیاں رنگینیاں مستیاں شوخیاں سب کچھ تو تھا مگر میری آنکھیں سکرین پر جمی ہونے کے باوجود کہیں دور تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں اور میرے دل میں اس بوڑھی عورت اور یتیم بچوں کا درد ہچکیاں لے رہا تھا۔
میں سوچ رہی تھی کہ ہم کتنے بے حس ہو چکے ہیں ہمیں اپنی اس رنگین دنیا میں کسی بے بس لاچار مجبور غریب کی سسکیاں سنائی کیو ں نہیں دیتیں ، ہم اپنی افطاری کے دسترخوان پر سجے بیشمار کھانوں میں یہ کیسے بھول جاتے ہیںکہ کچھ لوگوں کا مغرب کے بعد بھی روزہ ہوتا ہے اپنے بچوں کو عید کی شاپنگ کرواتے ہوئے ہمیں کیوں یاد نہیں رہتا کہ ہمارے آس پاس بھی ایسے بہت سے بچے ہیں جو ہر عید پر اپنی ماں سے پوچھتے ہیں کیا اس عید پر نئے کپڑے بنیں گے بقول شاعر…؎
غریب ماں اپنے بچوں کو بڑے پیار سے یوں مناتی ہے
پھر بنا لیں گے نئے کپڑے یہ عید تو ہر سال آ تی ہے
یہ حکمرانوں کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو یہ بھوک اور ننگ سے بلکتے لوگ نظر کیوں نہیں آ رہے شائد ان کی آ نکھوں پر غریب عوام کے خون سے جمع کیے گئے خزانے کی پٹی چڑھی ہے میاں صاحب نے وزارت عظمی سنبھالتے شائد اس بات کا حلف اٹھایا تھا کہ میں اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں میں وزارتیں یوں بانٹوں گا جیسے امیر شہر غریبوں میں روٹی بانٹتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امیر شہر کے غریب رشتہ دار بھی خود کو خزانوں کا مالک سمجھ کر لوٹ رہے ہیں اور جبکہ حقیقی وارث (عوام) بھوک بیماری افلاس تنگ دستی جہالت کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور اسکے ساتھ ساتھ میں ان لوگوں سے سوال کرتی ہوں کہ وہ…
اپنے قرب وجوار میں فاقوں سے سسکتے انسانوں کو،بے گھر لوگوں کو، بے لباس بچوں کو، چھوڑ کر جو لوگ کئی کئی حج کرتے ہیں سال میں کئی کئی بار عمرہ کرنے جاتے ہیں ہر ماہ رمضان مسجد نبوی میں اعتکاف بیٹھتے ہیں وہ اپنی مہنگی ترین عبادتوں میں کیسے روحانی سکون کے متلاشی ہیں۔ رب کی تلاش میں لاکھوں روپیہ خرچ کرتے ہیںرب تو ان لوگوں میں بھی بستا ہے جو ان کے قرب وجوار میں انکی بے حسی اور اپنی بے بسی کی زندہ مثال ہیں ۔کیا آقائے دو جہاںؐ جن کیلئے یہ کائنات تخلیق کی گئی کیا ان سے بھی بڑھ کر کسی نے عبادت کی ہو گی۔ نہیں ہر گزنہیں، جب آپؐ نے اپنی حیات مبارکہ میں ایک حج کیا تو پھر ہم اپنی اس عبادت کو ان سے کیوں بڑھا رہے ہیں اگر ہم ماہ رمضان میں صوم وصلوہ کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی زکوٰۃ جس کا ذکر قرآن مجید فرقان حمید میں کئی بار آیا ہے ادا کریں تو معاشرے سے واضح طور پر غربت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تو پھر کوئی بوڑھی ماں اپنی بیوہ بہو اور یتیم پوتے پوتیوں کے ساتھ فاقوں کے خوف اور بے گھر ہونے کے ڈر سے روتی نظر نہ آ ئے۔
میری ٹی وی شو کرنے والوں سے اور ان کو سپانسر ز کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے ارد گرد بنیادی مسائل میں الجھے ہوئے لوگوںکا بھی خیال کریں آپکے اتنے مہنگے ترین تحائف کی رقم سے کسی غریب، بیوہ، یتیم اور مزدور کا چولہا جل سکتا ہے کسی غریب بیمار کا علاج ہو سکتا ہے۔ غریب کا بچہ تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔اگر اس طرح ہو جائے توبہت سے مسائل حل ہو جائیں۔ان لوگوں کا بھی اچھی زندگی گزارنے کا پورا حق ہے کیونکہ اسلام مساوی حقوق کا علمبردار ہے۔
جب تک اس پاک وطن میں عبدالستار ایدھی جیسے لوگ موجود ہیں تو امید کی شمعیں روشن رہیں گی۔