فلسفہ عید

18 جولائی 2015
فلسفہ عید

مذہب اسلام اس ریاست کی بنیاد رکھتا ہے کہ جس کے تحت طبقاتی تقسیم اور ارتکاز دولت کا خاتمہ کر کے ’’انتشار دولت‘‘ کے فلسفہ کو معرض وجود میں لایا جائے۔ اس مقصد کے لئے نادار، مفلسوں اور ضرورتمندوں کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لئے نہ صرف معاشی استحکام ضروری ہے۔ بلکہ محروم طبقات کو وہ مسرت اور خوشی مہیا کرنا ہے کہ وہ بھی سکون اور اطمینان سے زندگی گزار سکیں فلسفہ عید بھی اپنی اسباب کا احاطہ کئے ہوئے نظر آتاہے۔ ’’عود‘‘ کے معنی لوٹ کر آنا ہے۔ چونکہ یہ دن ہر سال بار بار لوٹ کر آتا ہے۔ اسی لئے عید کہا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے کثیر احسانات کی وجہ سے یا کسی خوشی کے لوٹ آنے کی وجہ سے اسے عید کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سب سے ضروری امر تو یہ ہے کہ صدقات، خیرات اور فطرانہ نہ صرف حصول ثواب کا ذریعہ ہے بلکہ وہ لوگ جو اس خوشی کے تہوار کو پرمسرت طریقے سے منانے سے قاصر ہوئے ہیں ان کے لئے بھی وجہ خوشی و مسرت بنتا ہے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ عید کی صبح فرشتوں کو بھیجتا ہے وہ زمین پر اتر کر گلیوں کے کونوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور باآواز ندا بلند کرتے ہیں کہ جسے جن و انس کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے۔ ’’اے امت محمدیہ! اپنے پروردگار کی طرف نکلو جو بہت بڑی عطا کرتا ہے۔ اور عظیم گناہ بخش دے گا جب و عیدگاہ میں پہنچ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ جب مزدور محنت کرتا ہے تو اس کی جزا کیا ہے۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اسے اس کی پوری اجرت دی جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی رضا اور بخشش کو ان کا اجر بنا دیا ہے۔
صدقہ خیرات مال کو کم نہیں کرتے بلکہ ایک طرف تو اللہ بندے کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور دوسری طرف سوسائٹی کے محروم طبقات کے لئے خوشی کا باعث بنتا ہے تاکہ وہ بھی مذہبی تہوار کو خوشی اور مسرت کے ساتھ منا سکیں۔ حدیث پاک میں ہے کہ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کلام فرمائے گا اور ان کے درمیان ترجمان نہیں ہو گا، آدمی اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو وہی نظر آئے گا جو اس نے آگے بھیجا ہو گا اپنے بائیں طرف نظر ڈالے گا تو وہی کچھ نظر آئے گا جو اس نے آگے بھیجا ہو گا اور سامنے دیکھے گا تو آگ ہی آگ نظر آئے گی لہذا اس آگ سے بچو اگر ایک کھجور کا ٹکڑا ہی دے کر بچ سکو۔
ایک حکایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے عید کے دن اپنے بیٹے کو پرانی قمیض پہنے دیکھا تو رو پڑے بیٹے نے پوچھا کہ آپ کیوں روتے ہیں تو آپؓ نے فرمایا کہ جب بچے آج کے دن تجھے یہ پرانی قمیض میں دیکھیں گے تو تیرا دل ٹوٹ جائے گا بیٹے نے کہا کہ دل تو اس کا ٹوٹتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا سے محروم کر دیا ہو۔ جس نے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کی ہو اور مجھے امید کہ آپؓ کے خوش ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی مجھ پر راضی ہو گا حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا اور اس کے لئے دعا کی۔
خلفائے راشدین کے ادوار کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں اس نظام حکومت کی بنیاد نظر آتی ہے کہ جہاں غریب مفلوک الحال نہ تھا۔ معاشرے میں عدم مساوات، عدم انصاف اور طبقاتی تقسیم کا کوئی تصور موجود نہ تھا۔
ایک مورخ اینگلیر لکھتا ہے کہ بہترین نظام حکومت کا راز اس میں پوشیدہ ہے کہ عوام بے دست و پا، بے حال اور بے یارومددگار نہ ہوں، اگر ایسا معاشرہ جنم لیتا ہے تو اندوھناک واقعات جنم لیتے ہیں جو ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں مثلاً باپ نے عید کے کپڑے خریدنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوئے بچوں کو قتل کر ڈالا اور خود کشی کر لی۔ ماں نے بچوں سمیت نہر میں چھلانگ لگا دی آج ہم اگر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو عید کے موقع پر محروم طبقات کو فراموش نہ کریں اور صدقات خیرات اور فطرانہ کہ کی صورت میں زیادہ سے زیادہ ان لوگوں کی مالی مدد کر سکیں اللہ تعالیٰ اس عمل میں سے خوش ہوتا ہے اور مغفرت فرماتا ہے۔ حضرت وہب بن منبہؓ سے مروی ہے کہ ابلیس ہر عید کے دن چلا کر روتا ہے تو شیاطین اس کے پاس اکٹھے ہو کر پوچھتے ہیں کہ ہمارے سردار! تو کس وجہ سے ناراض ہے تو ابلیس کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آج کے دن امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت فرما دی ہے لہذا تم انہیں لذات اور خواہشات میں مشغول کر دو‘‘ ہمیں فلسفہ عید کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے نہ صرف اس عمل کی ضرورت ہے جو کہ خدا کی خوشنودی کا باعث بنے بلکہ اس کے بندوں کی خوشی کا بھی سامان بن سکے اور رمضان المبارک میں روحانی اوصاف صبر‘ برداشت‘ توکل علی اللہ اور حقوق العباد کو ہر انسان کو ذات کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرما اور عید سعید تمام امت مسلمہ کے لئے خیر و سلامتی اور بلند درجات کا ذریعہ ثابت ہو۔ (آمین)

پیغام عید۔ 18 اگست 1947ئ

ہمیں اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کو نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے اپنا سب کچھ محض ...