عید اور لوڈشیڈنگ

18 جولائی 2015
عید اور لوڈشیڈنگ

مکرمی! آج پوری قوم عیدالفطر کا مذہبی تہوار روایتی جوش و خروش سے منا رہی ہے۔ کئی شہروں اور دیہاتوں میں لوڈ شیڈنگ کے باعث آج شہر قائد کے عوام کو پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے جس اذیت کا سامنا ہے کوئی انہی سے پوچھے۔ رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں بھی کئی کئی گھنٹوں کی مسلسل لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نہ تو وہ صحیح طریقے سے سحری اور افطاری کر سکے اور نہ ہی عبادات کا اہتمام۔ صرف رمضان کے ابتدائی ایام میں ہی 1200 سو سے زائد لوگ حکمرانوں کی نااہلی اور نالائقی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ حد تو یہ ہے کہ ان المناک اموات پر بھی بجائے اس کے کہ صورتحال کو کنٹرول کیا جاتا۔ ایک دوسرے پر بلیم گیم کا ڈرامہ پیہم عروج پر رہا۔ وفاقی حکومت سندھ حکومت جبکہ سندھ حکومت کے الیکٹرک کو مورد الزام ٹھہراتی رہی تو دوسری جانب خزاں رسیدہ پتوں کی طرح لاشیں گرتی رہیں۔ کہاں گئے وطن سے اندھیرے مٹانے کے دعوے اور وعدے کہاں ہیں وہ توانائی کے بڑے بڑے منصوبے اور معاہدے۔ عوام ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور مجال ہے کہ ارباب اختیار کے کانوں پر جوں تک بھی رینگتی ہو۔ پاکستان کو معرض وجود میں آئے 68 سال ہونے کو ہیں لیکن آج بھی یہاں کے عوام مخلص و ایماندار اور محب وطن قیادت سے محروم ہیں۔ گوناگوں مسائل کی صلیب پر لٹکے عوام آج بھی کسی ایسے مسیحا کی تلاش میں ہیں جو پاکستان کی دامان تار تار کی بخیہ گری میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکے۔ ورنہ حقیقت تو صرف اس قدر ہے کہ (کامران نعیم صدیقی، لاہور۔ فون نمبر 0321-4583855)