مجید نظامی اور کشمیر

18 جولائی 2015

مکرمی! بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن MSF کے صدر حمید نظامی مرحوم کو مشورہ دیا کہ وہ ایک اخبار نکالیں جو مسلمانوں اور تحریک پاکستان کی نمائندگی کرے۔ لہٰذا اس کی تکمیل میں حمید نظامی مرحوم نے ایسا ہی کیا اور نوائے وقت کے نام سے ایک اردو اخبار کا اجراء کر دیا۔ حمید نظامی مرحوم کی صحافتی صلاحیتوں اخلاص انتھک محنت اور کمال خلوص کی وجہ سے اخبار ترقی کی منازل طے کرنے لگا اور مقبول عام کی حیثیت اختیار کرتا چلا گیا۔ زندگی نے ساتھ نہ دیا اور حمید نظامی جلد ہی ہم سے رخصت ہو گئے تو یہ بوجھ ان کے چھوٹے بھائی مجید نظامی کے کندھوں پرآن پڑا لیکن انہوں نے بھائی کی امانت کو قومی امانت سمجھا اور کمال خلوص اور دل جوئی اور جان فشانی سے دن رات ایک کرکے اخبار کو اتھاہ بلندیوں تک پہنچا دیا میں یہاں ان کی محب وطنی کے حوالے سے بات کرنے چلا ہوں انہوں نے ہمیشہ دو قومی نظریہ کی بھرپور حمایت کی نہ صرف اسے برقرار رکھا اور پروان چھڑایا اور کبھی اس معاملے میں ان کی دورائے نہ رہیں وہ ہمیشہ اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رہ کشمیر کے حوالے سے بھی وہ ایک ٹھوس اور مضبوط حق پر مبنی موقف رکھتے تھے اور کشمیر کی آزادی کے خواہاں تھے بزرگ کشمیر حریت رہنما سید علی گیلانی اس بات پر مجید نظامی سے بہت خوش تھے اور انکا بے حد عزت و احترام کرتے تھے۔ مجید نظامی کی وفات سے ضرور انہیں ایک دھچکا لگا ہو گا یقینا ان کا ایک مضبوط بازو کٹ گیا تھا۔ مجید نظامی مرحوم کشمیر اور کشمیریوں کے بارے میں ہمیشہ فکر مند رہتے تھے اور انہوں نے کشمیر کے حوالے سے ایک فنڈ بھی قائم کر رکھاہے۔ انہوں نے ہمیشہ بھارت کو پاکستان کا سب سے بڑا ازلی دشمن جانا اور یہ ایک حقیقت بھی ہے کشمیر کی آزادی کے وہ بہت متمنی تھے لیکن افسوس کشمیر انکی زندگی میں آزاد نہ ہو سکا۔ (خواجہ جاوید اختر سیٹلائٹ ٹائون، گوجرانوالہ)