سندھ: بڑے پیمانے پر تبادلے‘ رینجرز کے قیام کی مدت ایک سال بڑھا دی گئی

18 جولائی 2015

کراچی(وقائع نگار + سٹاف رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سندھ میں رینجرز کے قیام میں ایک سال کی توسیع کردی۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ اور وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے ہمراہ دیگر وزرا نے بھی شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرادری کی ہدایت پر صوبے میں رینجرز کے قیام میں ایک سال کی توسیع کردی۔ رینجرز کے اختیارات میں توسیع آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت کی گئی۔ واضح رہے کہ چند روز قبل ہی سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کے خصوصی اختیارات میں ایک ماہ کی توسیع کی گئی تھی اور صوبائی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ سندھ میں رینجرز کے قیام کے حوالے سے قرارداد عید کے بعد صوبائی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔رینجرز کے سندھ میں قیام کی مدت 18 جولائی 2015 کو ختم ہو رہی تھی۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی جانب سے وزیراعلیٰ کو ہدایت کی گئی تھی کہ رینجرز کے قیام کی مدت میں توسیع کردی جائے، رینجرز کے سندھ میں قیام کی مدت میں توسیع کی منظوری کیلئے سندھ اسمبلی کا اجلاس عید کے فوراً بعد بلایا جائے گا، اب رینجرز سندھ میں 18 جولائی 2016 ء تک رہ سکے گی، اس حوالے سے وفاق کو درخواست کی جائے گی۔ محکمہ داخلہ سندھ نے رینجرز کے قیام میں ایک سال کے لئے توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، رینجرز کے قیام میں توسیع سول انتظامیہ کی مدد کے لئے کی گئی۔ دریں اثناء حکومت سندھ نے ایڈیشنل آئی جی، پولیس چیف کراچی سمیت مختلف عہدوں پر تعینات افسران کے تبادلے کردیئے۔ ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کا تبادلہ کرکے انہیں چیئرمین اینٹی کرپشن تعینات کیا گیا ہے۔ سینئر پولیس آفیسر مشتاق مہر کو ایڈیشنل آئی جی کراچی مقرر کیا گیا تھا جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل منظور قادر، ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی ثاقب سومرو اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن آصف اعجاز شیخ کو عہدوں سے ہٹادیا گیا۔ 10اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی تبدیل کردیا گیا۔ سجاول، میرپور خاص، سانگھڑ، دادو اور جام شورو کے ڈپٹی کمشنرز کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، سیکرٹری امداد باہمی شاذر شمعون کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا، سیکرٹری رحیم سومرو کو بھی ہٹا دیا گیا، ثاقب سومرو اور منظور قادر پہلے ہی ملک سے فرار ہوچکے ہیں، دونوں افسران کی بیرون ملک روانگی پر بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ پر اظہار برہمی کیا تھا۔ سندھ حکومت کو افسران کے خلاف کارروائی کیلئے مقتدر حلقوں نے کہا تھا۔ سندھ میں تمام فیصلے ایپکس کمیٹی کے فیصلوں اور انٹیلی جنس، اینٹی کرپشن کی رپورٹس پر کئے جا رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے 8 اضلاع میں نئے ڈپٹی کمشنرز تعینات کردیئے گئے۔ زبیر چنا کو دادو، خدا بخش شورو کو مٹھی، عابد شمیم شکارپور، زمان ناریجو کو میرپور خاص، وسیم شمشاد کو نوشیرو فیروز، احمد علی شاہ کو سجاول، مجاہد محسن پنہور کو جامشورو، سجاد حیدر کو ٹنڈوالہ یار تعینات کیا گیا ہے۔ صوبائی وزراء نے دبئی میں پارٹی قیادت ہونے والے اجلاس سے متعلق وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر اجلاس میں اہم فیصلے بھی کئے گئے۔ جس میں وزراء نے دبئی میں پارٹی قیادت ہونے والے اجلاس سے متعلق وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر اجلاس میں اہم فیصلے بھی کئے گئے جس میں کراچی پولیس چیف غلام قادر تھیبو اور آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے جاری رسہ کشی کے بعد سندھ حکومت نے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو عہدے سے ہٹا کر انہیں محکمہ اینٹی کرپشن کا چیئرمین تعینات کردیا جبکہ سینئر پولیس آفیسر مشتاق مہر کو نیا کراچی پولیس چیف تعینات کردیا۔ مشتاق مہر اس وقت ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ تعینات اور تعطیلات کیلئے بیرون ملک میں ہیں۔