عید مبارک اور افطاریہ

18 جولائی 2015
 عید مبارک اور افطاریہ

فیصل آباد میں فیصلہ سارے نبی تیرےؐ در کے سوالی
یہ کالم لکھ رہا ہوں اور ابھی مفتی منیب الرحمن نے عید کا اعلان نہیں کیا۔ اس سے پہلے فیصل آباد میں ایک حیرت انگیز اور اچانک افطار پارٹی کا ذکر سن لیجئے۔ میں اب اسے افطاریہ کہتا ہوں۔ یہ افطار ڈنر کا بہترین متبادل لفظ ہے جیسے لنچ کے لئے ظہرانہ اور ڈنر کے لئے عشائیہ ہے۔ برادرم خاور نعیم ہاشمی کی قیادت میں ہم فیصل آباد کے گھنٹہ گھر میں ایک شاندار مظاہرے کے بعد افطاریہ کے لئے کہیں روانہ ہوئے۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ فیصل آباد کا گھنٹہ گھر بھی ایک عجیب و غریب جگہ ہے۔ یہاں آٹھ بازار آ کے ملتے ہیں۔ ہر بازار دوسرے بازار جیسا ہے مگر الگ بھی ہے۔ چیف جسٹس کیانی نے صدر ایوب کو حکومت کا گھنٹہ گھر کہا تھا۔ اقتدار کی گرم بازاری کے لئے یہ جملہ بہت بامعنی بلکہ معنی خیز ہے۔ ایک اطلاعاتی آمریت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے آج بھی لوگ بول رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ بول کا بول بالا ہو گا۔ ہر مقرر یہ سمجھتا ہے کہ میری تقریر سے تقدیر بدل جائے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ تقدیر اتنی آسانی سے نہیں بدلتی مگر کسی تبدیلی سے پہلے تقریریں ایک لازمی چیز ہیں اس لئے تقریر کا تعلق تقدیر سے کچھ نہ کچھ ہے۔ تعبیر سے تو یقیناً ہے۔ خواب دیکھنے والے اور کیا کر سکتے ہیں۔ قربانی دیں اور قربانی کی کہانی بیان کریں۔ خواب تعبیر سے بہرحال بہتر ہیں۔
ہم نے کئی جگہوں پر رک رک کر پوچھا کہ ہم نے کہاں جانا ہے۔ کہیں اور کہاں کے درمیان پھنسے ہوئے ہم وہاں پہنچ ہی گئے۔ منیر نیازی یاد آ گیا۔ میرے قبیلے کا سردار قدم قدم پر یاد آتا ہے
مجھے درد دل کا وہاں لے گیا
جہاں در کھلے تھے طلسمات کے
جہاں ہم گئے وہاں سینکڑوں لوگ مل کر مشہور فلمساز شاعر اور ڈائریکٹر نعیم ہاشمی کی مشہور زمانہ نعت گا رہے تھے۔ یہ لاثانی سرکار کا ڈیرہ ہے جہاں سٹیج پر حضرت مسعود احمد لاثانی سرکار بیٹھے تھے اور لوگ اتنے جذبے میں تھے کہ لگتا تھا کہ ان کا افطار بھی یہی ہے اور انتظار بھی یہی ہے
شاہ مدینہ شاہ مدینہ یثرب کے والی
سارے نبی تیرے در کے سوالی
خاور نعیم ہاشمی نے لاثانی سرکار اور تمام محبت کرنے والے لوگوں کو بتایا کہ یہ نعت میرے والد کی ہے۔ اس کے بعد بھی نعتیں لکھی گئیں مگر جو مقبولیت اور پسندیدگی اس نعت کو ملی وہ بہت زیادہ ہے اور مختلف ہے۔ یہ نعت گاتے ہوئے لوگ وجد میں آجاتے ہیں اور دھمال ڈالتے ہیں۔ وہاں ایسا سماں تھا جو افطار کے وقت کم کم دیکھا گیا ہے۔ یہ عجیب اتفاق تھا بلکہ حسن اتفاق تھا۔ فیصل آباد نے فیصلہ دے دیا ہے۔ لاثانی سرکار کے ساتھ افطاریہ کرکے ہم سب امید اور خوشخبری سے بھر گئے تھے
قدموں میں تیرے عرش بریں ہے
تجھ سا جہاں میں کوئی نہیں ہے
کاندھے پہ پھر بھی کملی ہے کالی
سارے نبی تیرے در کے سوالی
مذہب ہے تیرا سب کی بھلائی
مسلک ہے تیرا مشکل کشائی
دیکھ اپنی امت کی خستہ حالی
سارے نبی تیرے در کے سوالی
شاہ مدینہ شاہ مدینہ یثرب کے والی
میں برادرم عبدالعلیم خان کے افطاریہ میں نہ گیا مگر مجھے خوشی ہے کہ وہاں چودھری محمد سرور تھے۔ جو کہتے ہیں کہ تحریک انصاف میں گروپ بازی ہے مگر میں سب کو ایک پلیٹ فارم پر لا رہا ہوں۔ آج عبدالعلیم خان کا افطاریہ شاید اس مشن کی ابتدا تھی برادرم ڈاکٹر امجد ثاقب کی طرف سے افطارئیے دئیے گئے۔ اخوت اور فائونٹین ہائوس کے لئے بہت دوستوں نے رونق لگائی۔ محترمہ لبنیٰ بی بی نے دونوں دفعہ پیار سے دعوت دی جیسے یہ افطاریہ ان کی طرف سے ہو۔
برادرم شہزادہ ذوالقرنین نے بہت اچھی اور درویش مگر دولت مند شاعرہ نسیم بیگم کے گھر بلایا جہاں خاص طور پر ڈاکٹر صفی حسن کو بلایا گیا تھا۔ یہاں بہت نمائندہ لوگ شعر و ادب کے حوالے سے اکٹھے ہوئے تھے۔ اس میں شہزادہ ذوالقرنین کی محبت شامل تھی اور لوگ نسیم بیگم سے بھی ملنا چاہتے تھے۔ رمضان کے تقریباً ہر دن کہیں نہ کہیں افطاریہ تھا۔ گھر میں بھی اتنی خوبصورت افطاری بنتی تھی بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک عجب لطف کا احساس ہوا۔ آج عید ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ افطاریوں کا ذکر پھر کس کالم میں ہو گا۔مولانا پوپلزئی نے تو پشاور کی قاسم علی مسجد سے عید کا اعلان کر دیا ہے۔ ماہ رمضان کے لئے بھی ایک دن پہلے اعلان کر دیا تھا۔ یہ عجیب چاند ہے جو مفتی منیب کو نظر نہیں آتا اور مولانا پوپلزئی کو نظر آ جاتا ہے۔ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ دونوںسچے نہیں ہو سکتے اور دونوں جھوٹے بھی نہیں ہو سکتے۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا ممبر مولانا پوپلزئی کو بنایا گیا ہے پھر بھی وہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے برعکس فیصلہ سنائے یہ تو سیدھی سیدھی ضد بازی لگتی ہے۔ اسی ضد بازی کے لئے اتنے زیادہ فرقے بنے ہوئے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی مسجد میں تمام مکاتب فکر یعنی فرقوں کے مولانا صاحبان نے ایک ساتھ نماز پڑھی۔ جامعہ اشرفیہ کے سربراہ مولانا عبدالرحیم نے نماز پڑھائی۔ وہ ایک سچے اور اچھے دل و دماغ والے عالم دین ہیں تو مولانا پوپلزئی اور مفتی منیب الرحمن کو بھی دعوت دی ہوتی۔ یہ ’’متحدہ نماز‘‘ ایک اچھا شگون ہے مگر دو عیدیں ایک اسلامی ملک میں اچھا شگون نہیں ہے۔ ویسے پشاور میں بھی دو عیدیں ہوتی ہیں۔ یہ بات مولانا پوپلزئی کے لئے المیہ ہے۔ تو مفتی منیب کے لئے سانحہ ہونا چاہئے۔ انہیں چاہئے کہ وہ استعفیٰ دے دیں ورنہ حکومت پاکستان سے اپنے فیصلے پر عمل کروائیں۔
میری یہ بات مولانا پوپلزئی اپنے حق میں نہ لے لیں کہ عید تو 29رمضان کی ہوتی ہے۔ 30کی عید کا ہر کسی کو پتہ ہوتا ہے۔ وہ تجسس اضطراب اور انوکھی خوشی نہیں ہوتی جو 29کی ہوتی ہے۔ میں ایک تخلیقی اور دنیاوی احساس کی بات کر رہا ہوں۔ کہا جا سکتا ہے کہ عید عید ہوتی ہے 29 کی ہو یا 30کی ہو۔ مگر انا بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔ سیاست کی طرح دین میں بھی انا۔ اس انا نے ہمیں فنا کر دیا ہے انا نہیں بلکہ استغنا کی ضرورت ہے۔
بہرحال سب کو عید مبارک۔ مجھے جمعے کے دن پہلا فون فیصل آباد سے رانا آفتاب کا آیا۔ انہوں نے عید مبارک کہی۔ پہلا عید کارڈ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کا ملا۔ اس کے علاوہ بہت عید کارڈ آئے۔ یہ روایت بھی اب ختم ہوتی جاتی ہے ورنہ کئی دن عید کارڈ کی سلیکشن میں لگ جاتے تھے۔ یہ عورتوں کی شاپنگ سے کم دلچسپ سرگرمی نہ تھی۔