نائن زیرو سے نفرت انگیز تقریروں کے سہولت کار پکڑ لئے: ترجمان رینجرز‘ فاروق ستار‘ حیدر عباس کے گھروں پر چھاپے

18 جولائی 2015

کراچی (کرائم رپورٹر + خصوصی رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ + بی بی سی) کراچی کے علاقے عزیزآباد میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے جمعہ کے روز سحری کے وقت چھاپہ مار کر انچارج رابطہ کمیٹی کیف الوریٰ اور قمر منصور کو حراست میں لے لیا جنہیں تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ ڈی جی رینجرز کا کہنا ہے کہ نائن زیرو سے گرفتاریاں نفرت انگیز تقاریر کا نتیجہ ہے۔ رینجرز کی بھاری نفری خورشید بیگم میموریل ہال میں داخل ہوگئی جہاں ایم کیو ایم کے رہنماؤں عظیم فاروقی، سفیان یوسف، قمر منصور اور انچارج رابطہ کمیٹی کیف الوریٰ کو تفتیش کیلئے حراست میں لے لیا تاہم عظیم فاروقی اور سفیان یوسف کو تفتیش کے کچھ دیر بعد چھوڑ دیا گیا جب کہ قمر منصور اور انچارج رابطہ کمیٹی کیف الوریٰ کو مزید تفتیش کیلئے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جبکہ نائن زیرو سے روانگی کے بعد رینجرز نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں فاروق ستار اور حیدر عباس رضوی کے گھروں پر بھی چھاپہ مارا تاہم دونوں اپنے گھروں پر موجود نہیں تھے۔ اس کے علاوہ رینجرز نے اورنگی ٹاؤن، ماڈل کالونی اور ملیر سمیت مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر ایم کیو ایم کے 10 کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ نائن زیرو پر چھاپے کے وقت رینجرز نے علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کردیا تھا اور علاقہ مکین سمیت کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کیف الوریٰ کو تفتیش کے بعد جمعہ کی شام کو رہا کردیا گیا۔ دوسری جانب ترجمان ایم کیو ایم واسع جلیل کا کہنا ہے کہ رینجرز چھاپے کے دوران انچارج رابطہ کمیٹی کیف الوریٰ اور قمر منصورکو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ انکاکہنا تھا کہ نائن زیرو پر چھاپہ بغیر وارنٹ مارا گیا۔ ثابت ہوگیا کہ کراچی آپریشن صرف ایم کیوایم کیخلاف ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی رینجرز نے مارچ میں ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپہ مارکر ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان سمیت درجنوں کارکنوں کو حراست میں لیا تھا تاہم عامر خان کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔ دریں اثناء ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے کہا ہے کہ جن افراد کو نائن زیرو سے پکڑا گیا، وہ کراچی کے امن کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کا انتظام اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہے تھے۔ ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والے افراد کی فہرست تیار کرلی ہے اور مزید گرفتاریاں بھی کی جا سکتی ہیں۔ ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ جن افراد کو نائن زیرو سے پکڑا گیا ہے وہ کراچی کے امن کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کا انتظام اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہے تھے۔ ادھر ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ عزیرآباد میں کارروائی کے دوران قمر منصور اور کیف الوریٰ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ رینجرز کراچی اور سندھ کا امن بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں، مگر نفرت انگیز تقاریر میں سندھ رینجرز کے جوانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ترجمان رینجرز کے مطابق کیف الوریٰ کو مخصوص مدت کیلئے چھوڑا گیا، وہ عید کے بعد رینجرز حکام کو رپورٹ کریں گے۔ رینجرز نے گذشتہ روز تیموریہ میں کارروائی کرتے ہوئے ایک ہوٹل پر چھاپہ مارا اور جبری طور پر فطرہ وصول کرنے والے 3 متحدہ کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ ادھر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی رابطہ کمیٹی نے رینجرز کارروائی کی مذمت کی ہے، متحدہ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کراچی آپریشن متحدہ کے خلاف کیا جا رہا ہے، متحدہ کو تنہا کرنے کی کوشش کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ رابطہ کمیٹی کے ارکان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز کے چھاپے کی مذمت کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ متحدہ کو تنہا کرنے کی کوشش کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ متحدہ کے کارکنوں کو بلاجواز گرفتار کیا گیا۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کو بلا جواز گرفتار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاریاں ہماری راستہ نہیں روک سکتیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما طاہر مشہدی کا کہنا تھا کہ آج کے چھاپے سے پاکستان کا چہرہ داغ دار کر دیا گیا۔ فاروق ستار نے نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ہمارا حوصلہ پست نہیں کر سکتے۔علاوہ ازیں نائن زیرو رینجرز کے چھاپے اور رابطہ کمیٹی کے انچارج کیف الوریٰ اور قمر منصور کی گرفتاری کے بعد حیدر عباس رضوی سمیت ایم کیو ایم کے کئی رہنما روپوش ہوگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے 26رہنماؤں پر لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے، فورسز کے خلاف بھڑکانے اور افواج پاکستان سمیت پیرا ملٹری فورسز کے خلاف پروپیگنڈا کرنے پر مقدمت درج ہیں اور اسی سلسلے میں رینجرز کی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔ دریں اثناء متحدہ نے نائن زیرو پر چھاپے کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی۔ علاوہ ازیں تیموریہ کے علاقے رینجرز نے ایک ہوٹل پر چھاپہ مار کر کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 3 افراد کو حراست میں لے لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز نے کافی دن تک تینوں افراد پر نظر رکھنے کے بعد گرفتار کیا، تینوں کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے اور ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ رینجرز نے تینوں افراد کوتفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ دریں اثناء ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی پریس کانفرنس میں رہنما نسرین جلیل نے کہا ہے کہ کارکنوں کو ریمانڈ کے دوران بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پیپلز پارٹی نے اربوں کھربوں کی کرپشن کی۔ کرپشن کا پیسہ کہاں گیا۔ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ نائن زیرو پر چھاپہ غیر قانونی تھا۔ آپریشن صرف ایم کیو ایم کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔ آپریشن کا مقصد ایم کیو ایم کو کچلنا ہے۔ وارنٹ کے بغیر نائن زیرو پر چھاپہ مارا گیا۔ کیا الطاف حسین کی تقریر سننا جرم ہے۔ اگر گرفتار کرنا ہے تو بتا دیں ہم خود گرفتاریاں دے دیتے ہیں۔ ضمانتیں نہیں کرائیں گے‘ حالات کا سامنا کریں گے، گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں۔ الطاف حسین کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ ظلم و ستم سے ہمارے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے۔ کنور نوید نے کہا ہے کہ برطرف کرپٹ افسروں کے سیاسی سرپرست بھی فرار ہو چکے۔ رابطہ کمیٹی کے انچارج کیف الوری کو رہا کر دیا گیا ہے۔ قمر منصور تاحال گرفتار ہیں۔ بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ دستاویزات مکمل کر لی ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فورمز سے رجوع کریں گے۔ جنیوا میں بھی درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔ دریں اثناء متحدہ کے رہنما اور سینٹر بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ گرفتاریوں کے خلاف جنیوا میں بھی درخواستیں دی ہیں۔دریں اثناء متحدہ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ رابطہ کمیٹی کے انچارج کیف الوریٰ کی رہائی خوش آئند ہے۔ قمر منصور کو بھی عید کے دن ماں کی قدم بوسی کا موقع فراہم کیا جائے کیونکہ قمر منصور کی والدہ شدید علیل ہیں۔