بارش جاری‘ چھت گرنے‘ کرنٹ لگنے سے پانچ افراد جاں بحق‘ دریائے راوی سندھ کی سطح بلند

18 جولائی 2015

لاہور+ اسلام آباد+ چترال (ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ+ نامہ نگاران) محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جو کہ عید کے پہلے اور دوسرے روز بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ جام پور میں مکان کی چھت گرنے سے 4 افراد جاں بحق جبکہ ایک خاتون زخمی ہو گئی جبکہ نارووال میں کرنٹ لگنے سے نوجوام دم توڑ گیا جبکہ گھر کی چھت گرنے سے ایک خاتون شدید زخمی ہوگئی جبکہ بارشوں کے باعث دریائے سندھ اور دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہو گئی اور کچے کے کئی دیہات زیرآب آگئے ہیں۔ طوفانی بارشوں نے چترال میں تباہی مچا دی اور مواصلانی نظام درہم برہم ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران سب سے زیادہ بارش لاہور ائرپورٹ پر 119 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جب کہ راولپنڈی میں 110 اور اسلام آباد میں 66 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ بارشوں کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا۔ بالائی علاقوں کے درجہ حرارت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اتوار تک کشمیر، اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اتوار سے منگل کے دوران سندھ میں سکھر، لاڑکانہ، میرپور خاص جبکہ خیبرپی کے میں ہزارہ، پشاور اور کوہاٹ ڈویژن میں کہیں کہیں بارش متوقع ہے۔ علاوہ ازیں نارووال کے نواحی گاﺅں پرانا واہلہ میں گھر کی چھت کے قریب سے گذرتی ہوئی 11 کے وی تار سے 24 سالہ وجاہت علی کا ہاتھ لگ گیا اور کرنٹ لگنے سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ بارش کے باعث محلہ صدیق پورہ میں کچے مکان کی چھت گر گئی اور اسکے نیچے آکر 45 سالہ کبراں بی بی شدید زخمی ہوگئی۔ ادھر دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی، چوبیس گھنٹوں میں پچاس ہزار کیوسک کا اضافہ ہوا ہے۔ گدو کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا ہونے لگی، پانی کچے کے دیہات میں داخل ہوگیا اور کئی دیہات زیرآب آگئے۔ گدو بیراج کے مقام پر جاری نچلے درجے کی سیلابی صورتحال اب درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی ہے اور گدو و سکھر بیراجوں کے مقام پر پانی کی سطح بڑھنے کے بعد اب پانی سکھر اور گدو کے کچے کے علا قوں میں داخل ہوگیا ہے اور کچے کے کئی دیہا ت زیر آب آگئے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ پانی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ محکمہ آبپا شی کے حکام کے مطابق آئندہ چوبیس سے 48 گھنٹوں میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مزید کئی ہزار کیوسک کا اضا فہ ہوگا اور گدو کے مقام پر درمیانے درجے اور سکھر بیراج پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہوگی۔ کمالیہ سے نامہ نگار کے مطابق دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی۔ حالیہ بارشوں کے نتیجہ میں دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث دریا کے کنارے آباد فصلیں اور دیگر آبادیاں زیرآب آنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ دریا کے قریب آباد علاقہ مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ادھر آزاد کشمیر کے علاقے باغ میں بارش کے نالہ مہل، ملوانی اور ڈھل میں طغیانی آگئی۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راولپنڈی روڈ آزاد پتن کے مقام پر ٹریفک بند ہوگئی۔ علاوہ ازیں چناری اور گردونواح مےں شدےد بارش کے بعد چناری اور چکوٹھی کے درمےان سر ےنگر مظفرآباد روڈ بھاری لےنڈ سلائڈنگ کے باعث بند ہو گئی ہے۔ عےد منانے کیلئے آنے والے لوگوں کو شدےد مشکلات اور پرےشانی کا سامنا رہا اور لوگ گھروں کو نہ پہنچ سکے۔ ادھر بارشوں سے چترال سے بونی اور گرم چشمہ سمیت پشاور جانے والی سڑکیں ٹریفک کیلئے بند کر دی گئیں۔ عید کے موقع پر گھر جانے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ریشن، بونی کالاشا سمیت کئی علاقوں میں سیلاب کے باعث متعدد مکانات کو نقصان پہنا۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پاک فوج سمیت دیگر اداروں سے بھی رابطے میں ہیں۔
بارش جاری