آج سکیورٹی کے سخت انتظامات چاند رات پر بھی ہائی الرٹ رہی

18 جولائی 2015
آج سکیورٹی کے سخت انتظامات چاند رات پر بھی ہائی الرٹ رہی

لاہور (نامہ نگار+ سپیشل رپورٹر) شہر میں چاند رات کے موقع پر دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر تمام مارکیٹوں، بازاروں اور حساس مقامات کی سکیورٹی ہائی الرٹ رہی جبکہ آج نماز عید الفطر کے موقع پر تمام مساجد، عید گاہوں اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے جائےں گے جبکہ عید کے موقع پر پبلک مقامات پر سکیورٹی کیلئے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کنٹرول روم میں قائم کر دیا گیا ہے جہاں پر چھٹیوں کے دوران عید کی نماز اور دیگر دنوں میں سکیورٹی کی صورتحال کی جائزہ رپورٹیں اکٹھی کی جائینگی اور اعلیٰ حکام کو بھجوائی جائینگی۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں چاند رات کے موقع پر شہر کی مارکیٹوں میں عید کی خریداری کرنے والوںکا رش لگ گیا۔ مال روڈ ، اسلام پورہ مےن بازار ، اقبال ٹاﺅن مون مارکیٹ، گلشن اقبال کریم بلاک مارکیٹ ، سمن آباد، گلبرگ لبرٹی مارکیٹ ، ڈیفنس سمیت دیگر علاقوں میں چاند رات کے موقع پر سکےورٹی ہائی الرٹ رہی جبکہ منچلے نوجوان خواتین اور لڑکیوں سے چھیڑ خانی بھی کرتے رہے۔ رات گئے تک شہر کی مارکیٹوں میں رش رہا ۔ پولیس کے جوان تمام مارکیٹوں کے باہر تعینات رہے جبکہ پولیس نے شہر میں مختلف مقامات پر ناکے لگا کر چیکنگ کے ساتھ ساتھ عیدی اکٹھی کرنے کی مہم بھی جاری رکھی۔ پولیس اہلکار موٹرسائیکل سوار نوجوانوں کو کاغذات چیکنگ کے بہانے تنگ کرتے رہے اور ان سے عیدی وصول کرکے ان کو چھوڑتے رہے ۔ آج نماز عید الفطر کے موقع پر پولیس حکام کی جانب سے شہر کی تمام مساجد ، نماز عید کے اجتماعات اور دیگر مقامات کی سکیورٹی کے ا نتہائی سخت انتظامات کئے جائےں گے۔ مساجد اور امام بار گا ہو ں کے قرےب گاڑےوں اور موٹر سائےکلوںکی پارکنگ کی اجازت نہےں دی گی۔ علاوہ ازیں عید کے موقع پر پبلک مقامات پر سکیورٹی کیلئے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے کنٹرول میں روم قائم کر دیا گیا ہے جہاں پر چھٹیوں کے دوران عید کی نماز اور دیگر دنوں میں سکیورٹی کی صورتحال کی جائزہ رپورٹیں اکٹھی کی جائیں گی اور اعلیٰ حکام کو بھجوائی جائیں گی۔ کنٹرول روم چوبیس گھنٹے کام کرے گا جس میں ملازمین کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں۔ تمام ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے اضلاع میں ہی رہیں گے ان کو سٹیشن چھوڑنے پر پابندی ہو گی بغیر اجازت اپنا ضلع نہیں چھوڑ سکیں گے۔
سکیورٹی انتظامات