عید، خواتین رات گئے تک شاپنگ کرتی رہیں‘ پکوان بھی بنائے

18 جولائی 2015

لاہور (لیڈی رپورٹر) خواتین چاند رات کوعیدالفطر کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کی خاطر رات گئے تک انتہائی مصروف رہیں اور اکثریت کو وقت کم اور مقابلہ سخت جیسی کیفیت کا سامنا رہا، وہ گھرکے ہر فرد کیلئے شہر کی مختلف مارکیٹوں میں پہنچ کر انتہائی رش کے عالم میں شاپنگ کے علاوہ چھوٹی بہنوں، کزنز، بیٹیوں ہونے والی بہوو¿ں اور سہیلیوں کو عیدی کے لوازمات پہنچاتی رہیں، واپسی پر مہندی لگوائی، چوڑیاں پہنیں مگر گھر پہنچنے کے بعد آرام کی بجائے گھر والوں کیلئے میٹھی عید کے پکوانوں شیرخرمہ، بریانی، چاٹ کی تیاریوں اور کپڑوں کے اہتمام اور مہمانوں کیلئے کراکری و دیگر بندوبست میں مگن ہوگئیں، بعض لڑکیوں نے گھروں میں کیک بیک کئے۔ بعض خواتین افطاری کے بعد اعتکاف سے گھر آنیوالے افراد کے پرجوش استقبال اور مبارک کیلئے گھرآنے والوںکی آو¿ بھگت کافریضہ بھی انجام دیا ان تیاریوں میں لڑکیاں بھی ماو¿ں کا ہاتھ بٹاتی رہیں اور اپنی زبردست تیاریوں کے علاوہ گھر کی بزرگ خواتین، چھوٹے بہن بھائیوں بھائیوں، والد، چچاتایاکے کپڑوںو دیگر تیاریوںمیں مدد کرتی رہیں۔ دوسری جانب چاند رات کے موقع پر ہوشربا مہنگائی اور سکیورٹی خدشات کے باوجود شہر کے مختلف چھوٹے بڑے بازاروںاور مارکیٹوں میں عید شاپنگ کیلئے آنے والی خواتین اور بچوں کا رش عروج پر رہاجس سے ٹریفک کے شدید مسائل پیداہوتے رہے۔ ریڈی میڈگارمنٹس‘ میچنگ جیولری‘ کانچ کی چوڑیوں اور دوپٹوں کو ڈائی کروانے والی دکانوں اور سٹالوں پر لڑکیوں اور خواتین کا رش دیدنی تھا۔ اس موقع پر بچوں کا اشتیاق بھی نقطہ عروج کو چھوتا رہا تاہم کم آمدنی اور متوسط طبقے کی خواتین کی ”چاند رات“ دکانداروں سے قیمتیں کم کروانے کی جدوجہد میں گزر گئی جبکہ سٹال ہولڈرز و دکانداروں کے نخرے بھی ساتویں آسمان پر رہے۔ دوسری جانب شہر کے تقریباً تمام بیوٹی پارلرز خواتین سے بھرے رہے۔ پارلرز نے خصوصی رعایتی پیکج متعارف کروانے کے باوجود مہندی لگانے کے نرخوں میں تین گنا اضافہ کر دیا جبکہ فیشل اور ہیئر کٹنگ کروانے والی خواتین کو غیر تربیت یافتہ سٹاف سے کام کروانا پڑا۔ دوسری طرف اکثر خواتین کو درزیوں سے کپڑے حاصل کرنے میں تگ و دو کرنا پڑی۔
خواتین شاپنگ

پکوان

اسپائسی آملیٹ ٹوسٹ ۔انڈے تین عدد۔ ڈبل روٹی کے سلائس چار سے چھ عدد۔ نمک حسبِ ...