سٹیٹ بنک کی رپورٹ کچھ، حقائق کچھ

18 جولائی 2015

سٹیٹ بینک نے پارلیمنٹ کیلئے گزشتہ مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران معاشی کارکردگی کی رپورٹ جاری کر دی۔ سٹیٹ بینک نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ملکی معیشت کا انحصار غیر ملکی قرضوں پر رہا ، برآمدات میں کمی ہوئی ۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہونیوالی کمی نے معیشت کو کافی فائدہ دیا۔حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے سے مہنگائی کے صارفی اعشاریے میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔
مسلم لیگ ن کو اقتدار میں آئے دو سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا۔ اس کی قیادت پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے دعوے کرتی رہی۔ کشکول توڑ کر خود انحصاری تو اس کا خوش کن نعرہ تھا۔ آج سٹیٹ بنک کہہ رہا ہے کہ گزشتہ سال معیشت کا انحصار قرضوں پر رہا۔ وزیر اعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے سے خزانے کو نقصان پہنچا اسکے برعکس سٹیٹ بنک کا دعویٰ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے معیشت کو کافی فائدہ ہوا۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی ہے کہ مہنگائی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ عوام پوچھتے ہیں مہنگائی میں کمی کس دنیا میں ہوئی؟ مہنگائی کے ہاتھوں لوگ گزشتہ دور حکومت کی طرح موجودہ دور میں بھی اجتماعی خودکشیاں تک کر رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ سٹیٹ بنک کی رپورٹ کیمطابق عوام کو مہنگائی سے نجات ملے مگر رمضان میں جس طرح مہنگائی کا طوفان برپا ہوا لوگ اس حکومت سے انتہائی مایوس ہو چکے ہیں حکومت سے وابستہ انکی امیدیں دم توڑ رہی ہیں جو حکومت کے زوال کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔