ہفتہ ‘ 1436ھ ‘ 18 ؍ جولائی 2015ء

18 جولائی 2015

کراچی پانی چوری کرنے کی سزا 10سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانہ ہو گی: آرڈیننس جاری
گورنر سندھ نے آرڈیننس تو جاری کر دیا۔ اب اس کا مقصد شہریوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔ مگر اب سزا کے خوف سے کوئی بندہ کہیں سے پانی پئیے گا یا پیاسا رہنا پسند کرے گا۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ جناب پانی چوری سے کیا مراد ہے۔ ایک گلاس پانی یا ایک جگ یا پھر ایک ٹینکر۔ اس آرڈیننس کے بعد تو کوئی بھی ہوٹل والا کسی کو بھی اس کے ہوٹل سے ایک گلاس پانی پینے پر پانی چوری کا مجرم بنا سکتا ہے۔ کوئی بھی مخالف اپنے حریف کو اپنے گھر سے پانی کا مٹکا چوری کرنے کا الزام لگا کر اندر کروا سکتا ہے۔ کئی سادہ لوح خوف کے مارے سڑکوں پر لگے نلکوں اور سبیلوں سے پانی پینا بھی چھوڑ دیں گے کہ کہیں کوئی چوری کے الزام میں دھر نہ لے۔
پہلے بھی پاکستان میں پانی چوری قابل تعزیر جرم ہے اور اس کا قانون نافذ ہے مگر یہ قانوناً نہری پانی یا دریائی پانی چوری کرنے پر لاگو ہوتا ہے۔ پینے کا پانی تو عطیہ خداوندی ہے۔ ہم نے اسے بھی چوری کرنا شروع کر دیا ہے۔
یہ پینے کے پانی کی چوری پر سزا تو بے مثال آئیڈیا ہے۔ بقول شاعر:
پاپوش میں لگا دی کرن آفتاب کی
جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی
اب تو ہر پانی کی سبیل پر جہاں پر ’’فی سبیل اللہ‘‘ کا بورڈ لگا کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ’’یہاں سے پانی پینا چوری نہیں بلا خوف و خطر پیجئے‘‘ کی عبارت بھی لگانا پڑے گی۔ رہی بات پر ٹینکر والے پانی مافیا کی تو یہ چوری تھوڑی ہی ہے یہ تو ڈاکا ہے کھلا ڈاکا۔ ان ڈاکوئوں کو پہلے کون روک سکا جو اب اس قانون سے یہ ڈر جائیں گے۔ کیا قتل کی سزا موت نہیں ہے مگر دیکھ لیں اس کے باوجود روزانہ ہمارے ملک میں کتنے قتل ہوتے ہیں۔ جب تک نافذ کرنے کی طاقت نہیں ہو گی تو قانون اسی طرح مذاق کا نشانہ بنتا رہے گا۔
…٭…٭…٭…٭…
گدا گروں کی شہریوں پر یلغار، پیشہ ور بھکاریوں کو فطرانہ نہ دیاجائے: مفتی اعظم سعودی عرب
ہر مذہبی تہوار پر خاص طور پر عید کے موقع پر ملک بھر کے شہروں میں گداگروں کی فوج ظفر موج حملہ آور ہوتی ہے۔ کیا مردو زن کیا بچے اور بوڑھے لشکر در لشکر تجارتی مراکز عید گاہوں، ریلوے سٹیشنوں بس اڈوں، مسجدوں ہر چوک اور چوراہے پر مورچہ زن ہوتے ہیں اور کچھ لیے بنا جان ہی نہیں چھوڑتے۔
ابھی گزشتہ روز کویت میں ایک ایسے گداگر کو مسجد کے باہر سے گرفتار کیا گیا جو کروڑ پتی تھا۔ اب وہ بے چارہ اس عید پر مزید فطرانہ صدقہ اور خیرات کی مد میں لاکھوں کویتی دینار مزید بٹورنے سے محروم رہے گا۔ ہمارے ہاں بھی بھیک کے اڈے لاکھوں میں فروخت ہوتے ہیں۔ بھکاریوں کے بڑے بڑے بنک اکائونٹ ہیں۔
ایسے ہزاروں بھکاری ہیں جو کروڑ پتی ہیں۔ لاکھوں لکھ پتی ہیں۔ مگر عادت بد کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ حیرت تو ان کی اولادوں پر ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں کاروبار کرتے ہیں۔ نوکریاں کرتے ہیں مگر ماں باپ کو اس دھندے سے نہیں روکتے۔ شاید وہ بھی انہیں پیسے کمانے والی مشین سمجھ کر چپ رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا تھا:
’’مانگنے والا گدا ہے بھیک مانگے یا خراج‘‘
اب یہ جو بھتہ خور اور اغواء برائے تاوان میں ملوث عناصر ہیں کیا انہیں بھی ہم بھکاری کہہ سکتے ہیں یا نہیں۔ اس بارے میں وہ خود ہی سوچ لیں تو زیادہ بہتر ہے۔ ویسے وہ بھی تو مانگ مانگ کر ہی گزارہ کرتے ہیں۔
…٭…٭…٭…٭…
متروکہ املاک بورڈ کے چیئر مین کی تنخواہ 5 لاکھ روپے مقرر
پہلے سے خسارے کا شکار اس محکمے کی تو لگتا ہے قسمت ہی خراب ہے۔پہلے آصف ہاشمی نام کے چیئر مین کو پیپلز پارٹی کے صدر آصف زرداری نے اس منصب پر سرفراز کیا۔ انہوں نے ایسا رنگ جمایا کہ لوگ محکمہ متروکہ املاک کو سونے کی چڑیا یا سونے کا انڈہ دینے والی بطخ سمجھنے لگے۔ صدر آصف زرداری کی حکومت رخصت ہوئی تو آصف ہاشمی نے پہلی فرصت میں سامان سفر باندھا اور بیرون ملک بھاگ گئے۔
کیونکہ متروکہ املاک بورڈ کی اربوں روپے کی اراضی اور محکمہ میں نوکریاں من مرضی کے نرخوں پر فروخت کرکے اپنے اور اپنے گھر والوں کو متروکہ املاک ہونے سے بچا لیا۔ اب دھڑا دھڑ مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں اور موصوف اطمینان سے بیرون ملک بیٹھے عیش کر رہے ہیں۔
اب صدیق الفاروق صاحب نے چیئر مین کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے آتے ہی محکمہ کے کنگال ہونے اور بدتر حالات کا اعلان کیا اور عزم ظاہر کیا کہ وہ اس محکمہ کی عظمت رفتہ اگر تھی تو بحال کر دیں گے۔ گویا ’’نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی‘‘ یہ محکمہ اپنے قیام کے ساتھ ہی بدقسمتی کا شکار رہا ہے۔ عظمت تو اسے کبھی حاصل ہی نہ ہو سکی البتہ اس کے مقرر ہونے والے اور اس کے سرکاری افسران نے خوب عظمت حاصل کی اور ’’مال مفت دل بے رحم‘‘ کے سنہری اصولوں پر عمل کیا۔ نئے چیئر مین نے بھی سات لاکھ ماہانہ تنخواہ کی ڈیمانڈ کی تھی جو ہمارے ان داتا حکمران نے قبول تو نہیں کی مگر اپنی فیاضی کی وجہ سے لاکھوں سے نیچے نہیں آئے اور پانچ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کر ہی دی۔
پہلے سے خسارے میں چلنے والے محکمہ کے لیے اس سے زیادہ آرام و راحت کی بات کیا ہو گی۔اب کوئی پوچھے تو حکمرانوں سے کہ جناب آخر صدیق الفاروق کے پاس ایسا کون سا منتر ہے کہ وہ اس محکمہ کو دوبارہ اپنے پیروں پہ کھڑا کر دیں گے۔ فی الحال تو ان کی تنخواہ دیکھ کر خسارے میں مزید 60 لاکھ روپے سالانہ کا اضافہ نظر آ رہا ہے۔
…٭…٭…٭…