اوفا اعلامیہ اور عالمی طاقتوں کا کردار

18 جولائی 2015

روس کے شہر اوفا میں وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات اور مشترکہ اعلامیہ پر دونوں ملکوں کے ذرائع ابلاغ میں ملے جلے تبصرے کیے جارہے ہیں۔ بھارتی تبصرہ نگار نریندر مودی پر یوٹرن کا الزام لگا رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بھارتی وزیراعظم نے اپنی شرائط تسلیم کرائے بغیر پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کرلی۔ پاکستانی مبصروں کا خیال ہے کہ مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کا ذکر نہ کرنا حکومت کی ناکامی اور کمزوری ہے۔ کشمیر پاکستان کی قومی سلامتی کا کور ایشو ہے جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہ کیا جائے پاک بھارت تعلقات خوشگوار نہیں ہوسکتے۔ شملہ معاہدہ (1972) نیویارک اعلامیہ (1998) لاہور ڈیکلریشن(1999) آگرہ ڈیکلریشن (2001)اور اسلام آباد اعلامیہ (2004) میں کشمیر کا ایشو موجود تھا جبکہ اوفا اعلامیہ میں کشمیر غائب ہے۔ حریت کانفرنس کے رہنما علی گیلانی کہتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان بھارت سے مرعوب نظر آتے ہیں۔بنگلہ دیش میں نریندر مودی کے پاکستان دشمن بیان اور بی بی سی کی رپورٹ (جس میں بھارتی ایجنسی را کی پاکستان میں مداخلت کو بے نقاب کیا گیا تھا) کے بعد پاکستان کی پوزیشن مضبوط تھی مگر قیادت بہتر سفارت کاری کا مظاہرہ نہ کرسکی۔ مشترکہ اعلامیہ متوازن نہیں ہے۔ بھارت نے اس اعلامیے میں ممبئی کا واقعہ شامل کرالیا مگر پاکستان نہ تو کشمیر کا مسئلہ شامل کراسکا اور نہ ہی اس میں بھارتی ایجنسی را کی پاکستان میں (کراچی اور بلوچستان) مداخلت کا کوئی ذکر ہے۔ البتہ طویل کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کے وزیراعظموں کی ملاقات ، مذاکرات پر آمادگی اور بھارتی وزیراعظم کی پاکستان آمد کا فیصلہ خوش آئند پیش رفت ہے۔ چین، امریکہ اور روس جنوبی ایشیاء میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں اور پاکستان و بھارت پر کشیدگی ختم کرنے اور تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دبائو ڈال رہے ہیں۔ اوفا میں نواز مودی ملاقات عالمی دبائو کا نتیجہ ہے۔ وزیراعظم نواز شریف وزیراعظم نریندر مودی سے اگلے سال پاکستان میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کا وعدہ لینے میں کامیاب رہے اس نوعیت کی صورت حال پر غالب کا یہ شعر یاد آتا ہے۔
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
وزیراعظم مودی نے ایٹمی ملک پاکستان کے منتخب وزیراعظم سے ملاقات کرتے وقت سفارت کاری کے عالمی اصولوں کو پامال کردیا۔ مودی کے غیر مہذب اور ناشائستہ رویے کو پاکستانی قوم نے محسوس کیا وہ اگر چند قدم آگے بڑھ کر پاکستان کے وزیراعظم کا استقبال کرتے تو عالمی سطح پر ان کے سیاسی قد میں اضافہ ہوتا۔ مودی کے رویے سے محسوس ہوا کہ وہ وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات بادل نخواستہ کررہے تھے اور پروٹو کول کو نظر انداز کرکے انتہا پسند ہندوئوں کو خوش کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ پاکستان کی پروٹوکول ٹیم کو بہتر سفارت کاری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے تھا اور ملاقات سے پہلے اس ہال کا جائزہ لینا چاہیئے تھاجس میں ملاقات طے پائی تھی۔ اگر مودی ہال کے دروازے پر نواز شریف کا استقبال کرنے پر تیار نہیں تھے تو ملاقات کے لیے متبادل چھوٹے کمرے کا مطالبہ کیا جاتا تاکہ پاکستان کے وزیراعظم کو پورے ہال میں چل کر مودی کے پاس نہ پہنچنا پڑتا۔ بھارت ہمیشہ بہتر سفارت کاری کرکے پاکستان پر حاوی ہوجاتا ہے۔ بھارت کی جانب جھکائو رکھنے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق تمام تصفیہ طلب امور پر بات چیت کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ کشمیر چونکہ دونوں ملکوں کے درمیان متنازعہ مسئلہ ہے اس لیے اگلے مرحلے پر کشمیر پر بھی بات ہوگی۔ دونوں ملکوں نے جنوبی ایشیا کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ممبئی کیس کی سماعت اور تفتیش کو تیز کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ نریندر مودی نے سرکاری طور پر وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کرلی ہے۔ اوفا ملاقات پاکستان اور بھارت میں قید ماہی گیروں کے لیے مبارک ثابت ہوئی ہے‘ ان کو پندرہ روز کے اندر ان کو رہا کردیا جائے گا۔اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات دہلی میں ہوگی جناب سرتاج عزیز پاکستان کی نمائندگی کریں گے ان کا تجربہ اور بصیرت رنگ لائے گی اور پاکستان بھارت مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔
بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ گزشتہ دس سالوں کے دوران پاکستان کا ایک دورہ بھی نہ کرسکے اس پس منظر میں اگر نریندر مودی کا پاکستان کا دورہ ممکن ہوگیا تو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور تنائو کم ہوجائے گا اور پاک بھارت تعلقات میں نئے دور کا آغاز ہوسکے گا۔ دنیا تبدیل ہورہی ہے اور یہ تبدیلی مثبت ہے۔ امریکہ اور روس طویل عرصہ سرد جنگ میں مبتلا رہے۔ روس کی شکست وریخت کے بعد امریکہ کچھ عرصہ دنیا کی واحد طاقت بنا رہا ہے مگر اب عالمی سطح پر عالمی طاقتوں کا گروپ سامنے آرہا ہے۔ اس عالمی گروپ میں امریکہ، چین اور روس شامل ہیں جو امن اور ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کررہے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں تینوں بڑے ملکوں کا مشترکہ عمل دخل سامنے آیا ہے۔ نیا عالمی گروپ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قابل تحسین کوششیں کررہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بنا لیا گیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ فیصلہ بڑا خوش آئند ہے۔ جنرل راحیل شریف نے جس جرأت اور دلیری سے شمالی وزیرستان میں کامیاب آپریشن کیا اس نے عالمی طاقتوں کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان کے اعتماد اور وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ کسی نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کی میزبانی کرے گا جن میں امریکہ اور چین کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے نے امریکہ ، روس، چین، افغانستان، پاکستان، ایران اور بھارت کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ امریکہ ڈرون حملے کرکے داعش کے رہنمائوں کو نشانہ بنارہا ہے تاکہ وہ افغانستان اور پاکستان میں پائوں نہ جما سکیں۔ ایران کا عالمی طاقتوں سے ایٹمی معاہدہ بھی خطے کے لیے دور رس نتائج کا حامل ہوگا۔
امریکہ اسی کی دہائی میں افغانستان میں روس کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد کپڑے جھاڑ کر واپس چلا گیا تھا۔ اس مجرمانہ غفلت کا اسے نائین الیون کے المناک سانحہ کی صورت میں خمیازہ بھگتنا پڑا۔ امریکہ نے تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان سے تعاون جاری رکھے گا۔ امریکی جنرل ڈن فورڈ نے امریکی سینٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان تعلقات امریکہ کے قومی مفاد میں ہیں۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ القاعدہ اور داعش جیسی خطرناک تنظیمیں دوبارہ افغانستان اور پاکستان میں منظم ہوجائیں۔ امریکہ ایٹمی پھیلائو کو بھی روکنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں امن کا قیام اور جنوبی ایشیا کا استحکام امریکہ کے لانگ ٹرم مفادات کی ضمانت ہے۔ امریکی جنرل کے اس اہم سٹریٹجک بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان کو اپنا اہم اتحادی سمجھتا ہے اور بھارت سے گہرے تعلقات کے باوجود امریکہ کی پاکستان میں دلچسپی کم نہیں ہوئی۔ روس نے بھی اپنی قدیم خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے پاکستان کو اہمیت دینی شروع کی ہے۔ جنرل راحیل شریف کا روس کا دورہ بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ چین پاکستان میں اپنا اثر ورسوخ بڑھا رہا ہے۔ خورشید محمود قصوری کی رہائش گاہ پر پاکستان فورم کی فکری نشست کے بعد افطار کے دوران دانشور فرخ سہیل گوٹندی نے بے ساختہ کہہ دیا کہ پاکستان امریکہ کے بعد اب چین کی کالونی بننے جارہا ہے۔ میں اس پیشن گوئی پر غور کرتا رہا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ جب تک پاکستانی سماج بلوغت اور بصیرت کے معیار پر نہیں پہنچے گا پاکستان عزت اور وقار کے ساتھ اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی بجائے بیساکھیوں کی تلاش میں رہے گا۔