سراب نما دعوے اور نعرے!

18 جولائی 2015

خبر بڑی نظر نواز اور خوش کن تھی کہ عالمی بنک کے کنٹری ڈائریکٹر راشد بن مسعود نے کہا ہے کہ میاں شہباز شریف کی ولولہ انگیز قیادت میں پنجاب ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوا ہے۔ راوی بڑا ثقہ تھا جس کی نظروں نے یقیناپنجاب میں ہونے والی ایسی ترقی کا نظارہ کیا ہو گا کہ جس ترقی نے اس کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا ہو گاجس کے نتیجے میں وہ بے ساختہ اپنے دل کی بات لبوں تک لانے پر مجبور ہو گئے مگر افسوس کہ اسی روز شائع ہونے والی ایک دوسری خبر نے مزا ہی کرکرا کر دیا مسرت انباسط کے سبھی قلعے مسمار ہو گئے جس خبر نے پنجاب کی خوشحالی کا پول کھول کر رکھ دیا۔ ایک چوکھٹے میں اسکی سرخی تھی۔ ’’غریب محنت کش کا شیر خوار بیٹا بھوک کے باعث ماں کی بانہوں میں دم توڑ گیا۔ اہل محلہ نے رقم اکٹھی کرکے کفن دفن کا انتظام کیا‘‘ یہ افسوسناک واقعہ پنجاب کے علاقہ نارنگ منڈی میں پیش آیا تھا ہمارے نوائے وقت کے نامہ نگار کے حوالے سے خبر کا آغاز نوحہ نما تحریر سے تھا۔ لکھا تھا ’’ہائے ری غربت‘ والدین کی غربت اور تنگدستی کے باعث شیر خوار بھوک کے باعث اپنی ماں کی بانہوں سے دم توڑ گیا۔ والدین کے پاس اپنے لخت جگر کے کفن دفن کیلئے بھی پیسے نہ تھے۔ اس پر اہل محلہ نے چندہ جمع کرکے بچے کے کفن دفن کا انتظام کیا۔ شیرخوار مرحوم نارنگ منڈی کے علاقہ صدر بازار‘ عتیق سٹریٹ کے انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا بدقسمت والد شفاقت علی محنت مزدوری کرکے بڑی مشکل سے گھر کا گزارا چلاتا تھا۔ غذائی قلت کے باعث اس کا چھ ماہ کا بیٹا شدید کمزور ہو گیا مگر شفاقت کے پاس بچے کی دوائی کیلئے بھی پیسے نہ تھے۔ ایسے میں بچہ علاج نہ ہونے کے باعث جان ہار گیا۔ یہ ماں باپ کا پہلا بچہ تھا۔ جس کے داغ مفارقت دینے پر ماں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی‘
حقائق کی تصویر ایسی ہو تو پھر پنجاب کی ترقی اور خوشحالی کے دعویداروں اور اسکی نوید سنانے والوں کی عقل و خرد کے بارے میں شک و شکوک کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ جس خطے میں کروڑوں خاندان خط غربت سے کہیں نیچے زندگی بسر کرتے ہوں۔ انکے بال بچوں کو دو وقت کی روٹی نصیب نہ ہو‘ بیمار پڑ جائیں تو علاج معالجے کی سہولتیں میسر نہ ہوں۔ بھوک سے سسکتے ہوئے شیر خوار ماں کی گود میں علاج اور ادویات کے بغیر جان ہارتے ہوں۔ انکے والدین کے پاس غربت کے سوا یہ استطاعت بھی نہ ہو کہ اپنے نورِ نظر کے کفن دفن کا انتظام کر سکیں۔ اس کیلئے چندہ اکٹھا کرنا پڑے۔ یہ صورت حال انسانیت کی تذلیل نہیں تو کیا کہا جائیگا۔ درحقیقت یہ صرف نارنگ منڈی ہی کا ایک واقعہ نہیں ملک کے چپے چپے پر بھوک ننگ کے ڈیرے ملتے ہیں۔ جہاں فاقہ کش عوام بالآخر خود کشیوں پر مجبور ہو جاتے ہیں اور آئے دن اس حوالے سے بھوک ننگ اور معاشی مسائل سے عاجز مرد و خواتین کی خود کشی کرنے کی خبریں اخبارات میں آتی رہتی ہیں۔
حالات و حقائق ایسے ہوں تو ایسے میں صوبے کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے دعوے اور نعرے محض دھوکہ اور فریب نہیں تو اور انہیں کیا نام دیا جائے گا۔ پنجاب میں گڈگورننس کے حوالے سے عدالت عظمیٰ گاہے گاہے مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران جو ریمارکس دیتی رہتی ہے۔ ارباب اقتدار کو اس حوالے سے اپنا قبلہ درست کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔ حالیہ دنوں میں اٹک کی رہائشی ایک خاتون ٹیچر کیخلاف مبینہ جھوٹی ایف آئی آر کاٹنے کی پاداش میں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن راولپنڈی اسد نعیم اور تفتیشی انسپکٹر سبطین کاظمی کو بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر معطل کرتے ہوئے مسٹر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پنجاب میں گڈگورننس کے صرف دعوے کئے جاتے ہیں کیا یہ گڈگورننس ہے کہ ایک معلمہ کیخلاف جھوٹا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
صوبہ پنجاب کے چیف ایگزیکٹو کی طرف سے بڑے طمطراق کے ساتھ اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ تین برس میں 20 لاکھ نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا ہدف مقرر کر دیا اور نوجوانوں کو بااختیار بنا کر تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ نوجوانوں کو کونسے اختیارات تفویض ہونگے کہ تقدیر بدل جائیگی‘ ہنر سیکھنے کے باوجود نوجوانوں کیلئے روزگار کی فراہمی کا کوئی منصوبہ روبہ عمل نہ ہوا تو یہ دعویٰ بھی محض سراب ہی ثابت ہو گا۔ اس دعوے کی حقیقت یہ ہے کہ نوائے وقت کے سپیشل رپورٹر کے مطابق عالمی بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے پنجاب حکومت کو 2019ء تک بیس لاکھ افراد کو فنی تعلیم کیلئے براہ راست فنڈز فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں نوجوانوں کو فنی تربیت دینے کا آغاز ہی نہیں ہو گا تو رواں سال میں اس حوالے سے اعلان کردہ ٹارگٹ کے پورا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا وزیراعلیٰ کا بیان محض بیان ہی کی حد تک رہے گا۔
پنجاب میں موجودہ برسراقتدار قیادت کو حکومت کرتے ہوئے سات برس ہو گئے ہیں مگر اس عرصہ کے دوران اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے ایسے تعین کی طرف کبھی توجہ نہیں دی گئی جو قیمتیں کروڑوں غریب گھرانوں کی قوت خرید کے اندر ہوں۔ نہ ہی صوبے میں صحت عامہ کو معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے کوئی قدم اٹھایا گیا۔ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں میں بھی غربت ناچ رہی ہے۔ مرکز کی بھی غربت کے خاتمے کیلئے کوئی ذمہ داری ہے۔ وہ بھی پوری نہیں ہو رہی۔ انتخابی مہم میں نوازشریف نے فرمایا تھا کہ وزیراعظم بن کر وزیراعظم ہائوس میں نہیں بیٹھیں گے‘ عوام کے ساتھ رہیں گے۔ وہ دعوے کیا ہوئے۔ ناتواں متروکہ وقف املاک کے چیئرمین صدیق الفاروق کی تنخواہ وزیراعظم نے 5 لاکھ مقرر کی ہے۔ مرکز اور صوبوں کے حکمرانوں کی طرف سے معیاری اشیاء ضروریہ کی مناسب داموں عوام کو فراہمی کے اعلان سراسر جھوٹ اور فریب پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ارباب حکومت نے کبھی غور ہی نہیں کیا لہٰذا یہ کہنا سراسر غلط ہو گا کہ حکومت موثر میکانزم پر عملدرآمد کر رہی ہے۔ درحقیقت ارباب بست و کشاد ضروریات زندگی کی قیمتوں کا عوام کی دسترس کے مطابق تعین کرنے سے گریز کرکے کارخانہ داروں‘ مل مالکان زمینداروں اور اسی قبیل کے دیگر لوگوں کی درپردہ سرپرستی کرنے کی روش پر گامزن ہیں۔ پس پردہ مفادات کے حصول کا عالم یہ ہو تو کروڑوں عوام کا کسمپرسی کی زندگی گزارنا ہی مقدر ہو جاتا ہے مگر آخر کب تک… قدرت خداوندی جوش میں آکر حکمرانوں کے دعوے اور نعرے سن سن کر نڈھال اور سسکتی ہوئی مخلوق کی آہوں کو شرف قبولیت سے ہمکنار کرتی ہے اور قوم کو ایسا نجات دہندہ نصیب ہو جاتا ہے جو قوم کے دکھوں کے مداوا کا موجب بنتا ہے۔ بھوکے ننگے فاقہ کش عوام کو زندگی کی بھرپور توانائیوں کے ساتھ مقام رفیع سے ہمکنار کرا دیتا ہے۔ تاہم سردست مجبور و بے بس عوام کو سراب نما دعوؤں اور نعروں کے ہجوم ہی میں زندگی گزارنا ہو گی جب تک قدرت کاملہ کی طرف سے کسی نجات دہندہ کا ظہور نہیں ہوتا۔

جمہوریت ایک سراب

پاکستان میں جمہوریت اور جمہور ہیں لیکن پاکستانی جمہوریت کی ایک خاص بات یہ ہے ...