حافظ سعید کی افطاری میں کشمیر کے لئے آنسو

18 جولائی 2015

شب قدر کے لمحات قریب تھے، میرا دل بے چین تھا، یہ رات میرے مرشد کی زندگی کی آخری رات تھی۔ مجھے وہ بے طرح یاد آ رہے تھے، ا سلئے بھی یاد آ رہے تھے کہ ان کا دل کشمیریوں کے لئے دھڑکتا تھا، ان کی زبان پر کشمیریوں کے رنج والم کا تذکرہ تھا، اور ان کی آ نکھوں میں آزادی کشمیر کے سچے اور سجل خواب سجے تھے، میرا ماتھا اس وقت ٹھنکا جب انہوںنے اپنی سالگرہ کی آخری تقریب میں کہا تھا کہ کشمیر کو آزاد دیکھنے کے لئے زندہ ہوں۔اس ایک فقرے کی بنیاد پر میںنے اپنا ایک لافانی کالم تخلیق کیا، جی ہاں !یہ میں اپنے منہ سے کہہ رہا ہوں، یہ ایک لافانی کالم تھا، میں نے لکھا تھا اور یہ مجھ پر منکشف ہواتھا کہ انسان کے سامنے ایک عظیم مقصد ہو تووہ امر ہو جاتا ہے، اسے مقصد کے حصول تک موت نہیں آتی، مجید نظامی نے تو صرف پردہ کیا ہے، آزادی کشمیر کے لئے انہوںنے جو خواب اپنی آنکھوں میں سجارکھا تھا، وہ ابھی تک زندہ ہے۔ میرے قلم میں ، میری آنکھوں سے بہنے والے آنسووں میں۔
مگر جمعرات کے اخبارات میں کنٹرول لائن پر بھارتی جاسوس طیارے کی مداخلت کی خبریں تھیں اور ایسی کوئی خبر نہ تھی جس میں اس جاسوس طیارے کی مداخلت کی مذمت کی گئی ہو، مجید نظامی ہوتے تو وہ ایسااحتجاج کرتے کہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے، حکومت وقت کی بے حسی کا ماتم کرتے۔ میرے دل میں آیا کہ مجید نظامی کے مشن کو ہر دم آگے بڑھانے والے حافظ سعید بھی نہیں بولے، کیوںنہیں بولے، بھارت نے جاسوس طیارے کی تباہی کا بدلہ لینے کے لیے ورکنگ باﺅنڈری ا ور کنٹرول لائن پر قیامت خیز فائر کھول دیا، موقع پر دو خواتین اور تین مرد شہید ہو گئے اور سات شدید زخمی۔ میرا ذہن کھول رہا تھا کہ حافظ سعید کہاں گئے، وہ کشمیر کے لئے بدنام ہیں مگر خاموش ہیں، اسی سوچ بچار میں تھا کہ دروازے پر گھنٹی بجی، ایک گاڑی میں دو نوجوان تھے، کہنے لگے، قبلہ حافظ سعید اعتکاف میں ہیںاور آپ کو یاد کر رہے ہیں، میں کرب کی حالت میں گاڑی میں بیٹھ گیا، افطار کی گھڑیاں قریب تھیں ، سڑکوں پر بے تحاشا رش مگر ہم بر وقت پر پہنچ گئے۔ حافظ سعید کے بارے میں پتہ چلا کہ نماز عصر کے بعد کشمیری اور برمی مسلمانوں کی حالت زار پر خصوصی خطاب کیا ، اب ذرا ٓرام کر رہے ہیں مگر میری آمد کی خبر پا کر وہ حجرے سے باہر آ گئے، وضو کیااور میرے پاس آن بیٹھے، اس دوران افطاری کا سامان آ گیا، کھجوریں، ٹھنڈا سادہ پانی، تنور کی روٹیاں اور شاید چنے۔ہاں، ایک ایک پلیٹ کٹے ہوئے پھلوں کی، بس یہ تھی سادہ سی افطاری، میںنے چند کھجوریں لیں، سادہ پانی لیا، حافظ صاحب نے صرف چنے کھائے۔ اور باقی وقت مجھ سے محو کلام رہے ، دل اور دماغ ان کا بھی کھول رہا تھا، اور وہ بھی کشمیر کی بدقسمتی پر۔کہنے لگے، اعتکاف میں نہ ہوتا تو آج نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے مجید نظامی ہال کا رخ کرتا اور بھارتی مظالم کے خلاف فلک شگاف نعرہ بلند کرتا، محترم مجید نظامی نے کشمیر کاز کو زندہ رکھا، وہ کہتے تھے کہ کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے انہیں ایک ایٹمی میزائل کے ساتھ باندھ کر بھارتی چھاﺅنیوں پر گرا دیا جائے، ان کی جذباتی تقریر سن کر آپا مہناز رفیع اور کئی دیگر خواتین نے بھی بیک آواز کہا تھاکہ وہ بھی کشمیر کے لئے فدائی حملے کے لئے تیار ہیں۔ مجید نظامی نے کشمیر کے لئے قربانی کے جذبوں کو گرمایا مگر آج وہ ہم میں نہیں ہیں اور قومی قیادت لمبی تان کر سو رہی ہے۔
حافظ سعید کے قریبی ساتھی ا س افطاری میںموجود تھے، صرف مولاناامیر حمزہ نہیں تھے جو ایک خطاب کے لئے کہیں باہر تھے، نوجوان طلحہ سعید، مولاناعبد الرحمن مکی، ہمہ وقت سرگرم یحییٰ مجاہد ان سے میری عزیز داری بھی ہے، ایک ہی گاﺅں سے تعلق بھی ہے۔یہ ایک نورانی محفل تھی، متبرک گھڑیاں تھیں ، لبوں پر خاموش دعائیں اور حافظ سعید مسلسل میرے ساتھ کشمیر کے سانحے پرکھسر پھسر میںمصروف، کہنے لگے ، آپ یاد آ گئے کہ اپنے مرشدنظامی کے مشن کا علم بلند کر رکھا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میں کمزوری نہ آنے پائے، آپ ہماری بھی طاقت بنیں اور ہم جناب مجید نظامی کی آزادی کشمیر کی خواہش کی تکمیل کا دل فریب منظر دیکھیں، ابھی تو کشمیریوں کی چیخوں سے کلیجہ پھٹتا ہے مگر نوجوان کشمیریوں کے جذبے فراواں ہیں، پچھلے دنوں کشمیر کے ہرضلع میں پاکستان کے پرچم لہرائے گئے ا ور مسلسل لہرائے گئے، پرچم لہرانے والے نوجوان پچھلے برسوںمیں منہ پر نقاب پہنتے تھے مگر اب وہ بے نقاب ہو گئے تھے، بھارتی فوجوں کی سنگینوں کے سامنے انہوں نے سینے تان رکھے تھے اور پاکستان کا سبز ہلالی پرچم فضاﺅںمیں اس جو ش وخروش سے لہرایا کہ بھارت کے اوسان خطا ہو گئے ا ور وہ انتقام پر اترا ٓیا ہے، کنٹرول لائن پر نہتے عوام کا امتحان لے رہا ہے، پاکستانی چیک پوسٹو ں پر اندھی گولہ باری کر رہا ہے اور سرحدی دیہات کو کھنڈر میں تبدیل کر رہا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم اس موذی بھارت کے وزیر اعظم مودی سے ملے ہیں۔ ان کے اعلامئے میں پاکستان کے ہر جرم کا ذکر ہے مگر کشمیر کا ذکر غائب، اس پر ہمارے عوام تڑپ تڑپ گئے ہیں۔
بھارت نے کشمیر میں ننگی اور کھلی جارحیت کا ارتکاب کیا ہے، وہ ایک قوم کے خلاف دہشت گردی کا مجرم ہے، وادی کشمیر کی ستانوے فی صد مسلم اکثریت بھارتی غلبے کے خلاف ہے جسے کچلنے کے لئے بھارت نے سات لاکھ فوج متعین کر رکھی ہے، مشرقی یورپ میں تبدیلیوں کی لہر چلی ا ور دیوار برلن ٹوٹی تو کشمیریوںنے بھی تحریک حریت کا آغاز کیا، بھارتی فوج آزادی کے متوالوں کو ایک لاکھ کی تعداد میں شہید کر چکی ہے۔ یہ ایک نسل کو مٹانے کی مذموم کوشش ہے، ہٹلر اور ہلاکو نے اس وسیع پیمانے پر قتل عام نہیں کیا۔ مگر بھارت الٹا کشمیریوں کو دہشت گردی کا مجرم قرار دے رہا ہے ا ور ان کے پاکستانی ہمدردوں کو بھی عالمی دہشت گرد کہتا ہے، ممبئی سانحے کی آڑ میں اس کی کوشش ہے کہ بے گناہ پاکستانی عناصر کو سزا دلوائے جبکہ سزا کی اصل مستحق تو بھارتی فوج کے وہ بھیڑیئے ہیں جو دن رات کشمیریوں کے قتل عام میں مصروف ہیں، کشمیریوں کو دنیا کی کوئی عدالت دہشت گرد نہیں کہہ سکتی، اس لئے کہ جنگ آزادی توخود امریکہ نے لڑی، اور مختلف اقوام نے لڑ کر آزادی حاصل کی، فلسطینی مسلمان اس کی ایک مثال ہیں، انہیں بھی دہشت گرد کہا گیا مگر انہی کے لیڈر یاسر عرفات کو ایک روز یو این او سے خطاب کی دعوت دی گئی، میں کہتا ہوںکہ میرے مرشد نظامی زندہ ہوتے تو انہیں بھی ایک روز کشمیریوں کے نجات دہندہ کے طور پر یو این او سے خطاب کی دعوت ضرور ملتی، وہ تو علی الاعلان کہتے تھے کہ وہ کشمیر کی جنگ آزادی کے حامی ہیںا ور اس پر امریکہ انہیں دہشت گرد سمجھتا ہے تو پکڑ کر گوانتا نامولے جائے،پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ۔اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں مگر مجھے یقین ہے اور میرا دل کہتا ہے کہ سید علی گیلانی ا ور حافط محمد سعید ایک روز یو این او کی جنرل اسمبلی سے ضرورخطاب کریں گے اور کشمیریوں کی آزادی کی تڑپ رکھنے والے مجید نظامی کو خراج عقیدت پیش کریں گے، خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را!!