احسان سہگل کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے، زاہد حسین زاہد
کراچی (اسٹاف رپورٹر)قدرت نے احسان سہگل کو ہم سے فاصلے پر رکھا جہاں انہوں نے انگلش کی چار اور اردو میں بارہ کتابیں تخلیق کیں۔ تخلیق کے لیے اس قسم کے حالات اور فاصلہ ضروری ہے جو احسان سہگل کو میسر رہا۔ ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے یہی وجہ ہے کہ احسان سہگل’پریزنرآف دی ہیگ‘ کہلائے۔ وہ اپنے آپ کو ماضی سے کاٹ کر نہیں جوڑ کر آگے بڑھے ہیں۔ان کے دل میں کوئی گلاب روشن ہے۔ جس کی خوشبومسلسل پھیل رہی ہے۔ احسان سہگل کی انگلش اور اردو شاعری میں بڑے اہم خیالات پنہاں ہیں۔ان خیالات کا اظہار معروف نقاد زاہد حسین زاہد نے حلقہ اربابِ ذوق کے زیر اہتمام آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ہالینڈ میں مقیم صحافی، ادیب ،شاعراور ناول نگار احسان سہگل کے اعزاز میں تقریب پذیرائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر زیب اذکار حسین ،آصف علی آصف، خالددانش، کلیم اشرف کلیمی، پرویز مظہر، آصف رانا آصف اور دیگر مقررین نے احسان سہگل کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔حلقہ اربابِ ذوق کی نشست دو حصوں پر مشتمل تھی پہلاحصہ تقریب پذیرائی اوردوسراحصہ تنقیدی تھا جس میں افسانہ نگار ثمینہ مشتاق نے اپنا افسانہ ’ارض و سماوات‘ کے عنوان سے تنقید کے لیے پیش کیا۔زیب اذکار حسین نے احسان سہگل کی شخصیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سفرِیورپ مکمل طور پر جدوجہد کا بہترین نمونہ ہے۔ انہوں نے تمام اصناف سخن میں کام کیااور ان کے خیالات بڑے واضح ہیں۔ صحافی آصف رانا آصف نے احسان سہگل کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ احسان سہگل نے جو جدوجہد یہاں شروع کی تھی اسے انہوں نے ہالینڈ میں بھی جاری رکھاوہ طویل عرصے کے بعد آج ہمارے درمیان موجود ہیں۔احسان سہگل نے مختصرگفتگوکرتے ہوئے حلقہ ارباب ذوق اور شرکا کا شکریہ ادا کیا اوراپنی غزل کے چنداشعارسنائے۔
