پنجاب: نان کمپیوٹرائزڈ ٹال پلازوں پر زائد ٹیکس کی وصولی

18 اگست 2017

لاہور(شہزادہ خالد) پنجاب بھر میں تمام بڑے شہروں کو ملانے والی سڑکوں پر کمپیوٹرائزڈ ٹال پلازوں کے علاوہ دیگر ٹال پلازوں پرٹھیکیدار شرح سے زائد ٹیکس وصول کررہے ہیں۔ 25 ارب روپے میں بننے والی لاہور اسلام آباد موٹر وے نے سینکڑوں ارب روپے کما لئے ہیں لیکن اب بھی مہران کار پر لاہور سے راولپنڈی جانے والے عام شہری کو 580 روپے ٹیکس دینا پڑتا ہے جبکہ لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ500 روپے ہے اور ٹرین پر 300 روپے میں مسافر اسلام آباد چلا جاتا ہے ۔لاہور موٹر وے کو 20 برس کے لئے ایف ڈبلیو او کو 206 ارب روپے میں ٹھیکہ پر دیا گیا ہے۔معلوم ہوا ہے موٹر وے پر سکھیکی انٹر چینج سے چکری تک راستے میں آنے والے تمام انٹرچینج پر مسافروں کے لئے بنا ئی جانے والی مساجد ود یگر سہولتوں کی مد میں 85 لاکھ روپے ماہانہ ٹھیکیدار کو دئیے جاتے ہیں اور ٹھیکیدار کا تعلق اعلی سرکاری عہدیدار سے ہے۔انٹر چینج پر بنائے جانے والے ہوٹل و دیگر دکانوں سے لاکھوں روپے ماہانہ کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔لاہور میں بنائی جانے والی رنگ روڈ اور لاہور سے نارووال، سیالکوٹ، فیصل آباد ملتان اور دیگر شہروں کو جانے والی سڑکوں پر متعدد جگہوں پر ٹال پلازے بنا دئیے گئے ہیں جس سے متوسط طبقے کی عوام کے مسائل میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔کئی علاقوں میں ٹال پلازے اور پرچی سسٹم ٹھیکہ پر دئیے گئے ہیں اور ٹھیکہ دار غنڈہ عناصر کے ذریعے من مانے ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ پنڈی بھٹیاں سے سرگودھا جانے والی سڑک پر تین ٹال پلازے ہیں، سرگودھا سے چنیوٹ، میانوالی ، فیصل آباد و دیگر شہروں کو جانے والی سڑکوں پر بھی ٹال پلازے ہیں ۔ لاہور سے پنڈی بھٹیاں انٹر چینج تک اکانومی کلاس کا کرایہ 180 روپے فی مسافر ہے جبکہ 800 سی سی کار سے کالا شاہ کاکو انٹر چینج سے پنڈی بھٹیاں انٹر چینج تک موٹر وے پر سفر کرنے کے 200 روپے وصول کئے جا رہے ہیں ۔موٹر وے کے علاوہ دیگر شاہراہوں پر بھی ٹیکس کی شرح کرائے سے کہیں زیادہ ہے۔لاہور سے جی ٹی روڈ پر شیخوپورہ جانے پر چھوٹی گاڑی کا ٹال ٹیکس 44 روپے لیا جا رہا ہے۔ایک طرف ٹیکس مافیا عوام کو لوٹ رہا ہے اور دوسری طر ف ٹر انسپورٹ مافیا ٹال ٹیکس کو بنیاد بنا کر زائد کرایہ وصول کررہا ہے۔ٹال ٹیکس کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت سڑکوں کی لاگت سے کئی گنا زیادہ کما چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے حکومت اسی وجہ سے سڑکیں زیادہ بناتی ہے تاکہ کمائی کی جا سکے اور انتخابات میں سڑکوں کا نام لیکر ووٹ لئے جا سکیں۔ روزانہ سفر کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری ملازمین،طلباو طالبات جن میں طارق، صادق ، ظفر سلہریا،مقصود گردور،حیدر گادی،دائود ، حمیرا رشید و دیگر کا کہنا ہے حکومت کو متوسط طبقے کو سامنے رکھ کر ٹیکس لگانا چاہیے۔پجارو اور مہران کا ٹیکس برابر نہیں ہونا چاہیے۔