مردم شماری کیلئے زبردستی فنڈز کٹوتی غیر قانونی، واپس کئے جائیں: خیبر پی کے: وزارت خزانہ کا انکار

18 اگست 2017

لاہور (معین اظہر سے) خیبر پی کے حکومت نے مردم شماری کے فنڈز کے ایٹ سورس کٹوتی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے صوبے کے ایک ارب 62 کروڑ روپے کے فنڈز واپس کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ خیبر پی کے حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ مردم شماری کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے 1973 کے آئین کے فورتھ شیڈول کے پارٹ ٹو کی انٹری 9 میں ہے اس کے اخراجات وفاقی حکومت خود برداشت کرے گی۔ صوبوں سے فنڈز زبردستی لینا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے جس پر وفاقی وزارت خزانہ نے خیبر پی کے کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے مارچ 2015 میں وزیر اعظم کے زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا۔ جس پر کے پی کے حکومت نے وزیر اعظم کو فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے اور کہا ہے ایسا کوئی فیصلہ ہوا ہی نہیں تھا۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پی کے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے ایک لیٹر وفاقی وزارت خزانہ کو تحریر کیا تھا جس کی کاپی وزیر اعظم کو بھی بھجوائی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا وفاقی وزرات خزانہ نے خیبر پی کے کی ایٹ سورس کٹوتی کی ہے اور کہا ہے یہ کٹوتی مردم شماری کے لئے کی گئی ہے یہ رقم ایک ارب 62 کروڑ روپے بنتی ہے یہ واپس کی جائے جس پر وزارت خزانہ نے اس کا جواب تیار کرکے اس رقم کی کٹوتی کی تصدیق کرتے ہوئے خیبر پی کے حکومت کو ایک لیٹر بھجوایا تھا جس میں کہا تھا ستمبر 2015 میں 7 کروڑ 50 لاکھ، فروری 2016 میں 21 کروڑ 20 لاکھ، نومبر 2016 میں 29 کروڑ 40 لاکھ، اور جنوری 2017 میں 74 کروڑ 30 لاکھ، اور مارچ 2017 میں 29 کروڑ 80 لاکھ کی رقم ایٹ سورس خیبر پی کے کی کاٹی ہے یہ رقم مردم شماری کی مد میں کاٹی گئی ہے تاہم اس رقم کو غیر قانونی طور پر نہیں کاٹا گیا کیونکہ رقم کی کٹوتی مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کے تحت کاٹی گئی ہے۔ وفاق وزارت خزانہ نے 17 مارچ 2015 کے فیصلہ کی کاپی لگائی ہے جس کے تحت صوبے مردم شماری کے لئے فنڈز فراہم کریں گے یا وفاقی وزارت خزانہ ایٹ سورس کٹوتی کر لے گی۔ خیبر پی کے حکومت نے اپنے لیٹر میں کہا ہے مشترکہ مفادات کونسل میں اس پر دوبارہ بات کی جائے اور ٹھیک فیصلہ کیا جائے کیونکہ پہلا فیصلہ ہوا نہیں تھا ریکارڈ میں غلط لکھ دیا گیا ہے اس لئے غلط ریکارڈ کو درست کرنے کے لئے نیا فیصلہ کیا جائے۔