نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو کرپٹ ادارہ کہنے پر اعظم سواتی اور چیئرمین اشرف تارڑ میں جھڑپ

18 اگست 2017

اسلام آباد (آن لائن)پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی اجلاس میں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو کرپٹ ترین محکمہ قرار دینے پر سینیٹر اعظم سواتی اور چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ کے مابین شدید جھڑپ ہوئی۔اشرف تارڑ کی سانس رک گئی بعد میں آستینیں چڑھائی ۔ سینیٹر اعظم سواتی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ افسران کے شور مچانے اور احتجاج کرنے سے کرپشن اداروں سے ختم نہیں ہوتی میں اپنے موقف پر قائم ہوں کہ این ایچ اے حکومت کا کرپٹ ترین ادارہ ہے اگر کرپشن نہ ہوتی تو کھربوں روپے خرچ کرنے پر ہماری قومی شاہراہیں شیشے کی مانند ہوتیں لیکن یہاں تو شاہراہوں کی حالت انتہائی ابتر ہے۔پی اے سی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں عاشق گوپانگ کی صدارت میں اجلاس ہوا۔ جس میں این ایچ اے مالی سال 2009-10 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔ سینیٹر اعظم سواتی اور چیئرمین این ایچ اے کے مابین جھڑپ اس وقت ہوئی جب آڈٹ حکام نے ٹرکوں اور ٹریلروں سے زائد وزن لادنے پر عائد 41 کروڑ روپے کے جرمانے وصول ہی نہیں کئے ۔ پی اے سی نے کہاکہ زائد وزن کی وجہ سے قومی شاہراہوں کا حلیہ بدل چکا ہے ٹرکوں ‘ ٹریلروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔چھٹے شیڈول میں ٹریلر اور ٹرکوں پر وزن کی حد بارے واضح ہدایات دی گئی ہیں لیکن ادارہ میں کرپٹ افسران اور کالی بھیڑوں کی وجہ سے ٹریلرز مافیا کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے جس پر اعظم سواتی نے کہا کہ این ایچ اے حکومت کا کرپٹ ترین ادارہ ہے ۔ ادارہ میں کرپٹ مافیا موجود ہے اس ادارہ کی کرپشن کا معاملہ سینٹ کے علاوہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں بھی اٹھایا ہے اگر این ایچ اے سڑکوں پر اورلوڈ پر قابو نہ پا سکا تو ہماری سڑکیں تباہ ہو جائیں گی۔پی اے سی نے سیکرٹری مواصلات صدیق میمن کو ہدایت کی کہ وہ اس سکینڈل کی خود تحقیقات کریں اور قومی خزانہ کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ کریں ۔ پی اے سی نے واضح کیا کہ سڑکوں کی سیفٹی کے مسئلہ پر کوئی رعایت نہیں ہو گی ۔