سینیٹر نہال ہاشمی نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی‘‘

18 اگست 2017

اسلام آباد(محمد صلاح الدین خان /نمائندہ نوائے وقت) متنازعہ تقریر پر توہین عدالت کے مرتکب مسلم لیگ ن کے سنیٹر نہال ہاشمی نے کیس میں اپنا جوا ب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا ہے جس میں انہوں نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے ’’توہین عدالت نوٹس‘‘ واپس لیتے ہوئے کیس خارج کرنے کی استدعا کی ہے۔ جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کی تقریر عوام سے خطاب نہ تھا انہوں نے حدود سے تجاوز نہیں کیا ہے ان کی 14منٹ کی تقریر کراچی کی رہائشی سکیم کے ڈی اے کی حدود میں کی گئی، ان کی تقریر سیاسی نوعیت کی تھی جس میں انہوں نے ایسے سیاسی لوگ جو جمہوریت کو نقصان پہچا رہے ہیں کے خلاف پارلیمنٹ کو بطور احتساب ادارے (سیاست دانوں کے لئے)کارروائی کرنے کا کہا تھا ، ان کی تقریر ایک رہائشی علاقہ کی مخصوص حدود میں تھی انہوں نے کوئی سنگین سیکیورٹی کی خلاف ورزی نہیں کی ہے، میرے نجی بیان کو میرے خلاف استعمال کرنا آئین کے آرٹیکل 14کی خلاف ورزی ہے ، میں نے ججز ، عدلیہ، جے آئی ٹی ممبران کے خلاف توہین عدالت نہیں کی ہے میرے خلاف کوئی شکایت ریکارڈ پر موجود نہیں ہے اگر پھر بھی عدالت سمجھتی ہے کہ میں نے توہین عدالت کی ہے تو میں فاضل عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں ، خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں ، انہوں نے جواب میں فاضل عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ توہین عدالت کی مزید کارروائی موخر کرتے ہوئے کیس خارج کردے وہ عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے رحم کی استدعا کرتے ہیں۔۔ درخواست کے ساتھ گواہوں کی فہرست بھی منسلک ہے جس میں ایڈووکیٹ خالد نواز خان مروت،کراچی کے رہائشی جاوید خان،بیورو چیف دن ٹی وی، رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب محمد عارف کے نام شامل ہیں۔